مفتی خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق

ٹی ٹی پی کی اپنے رہنما مفتی خراسانی کی ہلاکت کی تصدیق

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے رہنما مفتی خالد بلتی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے ،چند روز قبل افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں پراسرار طور پر اغوا کر بعد قتل کر دیا گیا تھا۔رواں ہفتے منگل کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ خالد بلتی کو افغانستان میں ہلاک کر دیا گیا ہے تاہم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس وقت کہا تھا کہ وہ فی الحال ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے۔دو دن لاپتہ رہنے کے بعد خالد بلتی کی لاش نو اور 10 جنوری کی درمیانی شب ننگرہار کے ایک دور دراز سرحدی علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔مفتی خالد بلتی کا حقیقی نام محمد علی بلتی تھا اور وہ تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق میڈیا انچارج تھے۔

تحریک طالبان پاکستان نے اپنے ایک رسمی پیغام میں ان دعوں کی بھی تردید کی تھی کہ خالد بلتی ہی درحقیقت ان کے موجودہ ترجمان محمد خراسانی ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان نے اپنے پیغام میں بتایا تھا کہ خالد بلتی کے پاس اس وقت کوئی تحریکی ذمہ داری نہیں تھی۔ذرائع کے مطابق اگرچہ خالد بلتی کا افغانستان میں جیل سے رہائی کے بعد تنظیم میں کوئی رسمی عہدہ نہیں تھا مگر وہ تنظیم سے منحرف ارکان اور گروپوں کی تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت کے لیے کمپین چلا رہے تھے ۔