ہر شاخ پہ ” بندر ” بیٹھا ہے

وہ ایک مصرعہ ہے ناکہ مگر فرق اس سے تو پڑتا نہیں ‘ یعنی اہل مغرب پہلے کونسی انسانوں والی حرکتیں کرتے تھے ‘ خصوصاً ان کے ہاں عورت کے ساتھ حرمت ‘عزت اور احترام والا سلوک کیا جاتا تھا ‘ بلکہ جس طرح سور کے بارے میں مشہور ہے کہ نسل بڑھانے کے لئے یہ جانور اپنی مادہ کے ساتھ کیا برتائو کرتا ہے ‘ اسی کی نقل یہ عملی زندگی میں کرتے ہوئے بعض حالات میں ماں ‘ بہن ‘ بیٹی کے رشتوں کے تقدس کو پامال کرنے سے بھی نہیں کتراتے ‘ اس حوالے سے کئی لطیفے مشہور ہیںمگرانہیں اخلاق کے مروجہ تقاضوں کی بناء پر ضبط تحریر میں لانے کا حوصلہ نہیں ہے ۔ اس لئے یہ جو امریکا میں ایک پاکستانی ڈاکٹر نے ایک مریض کو سور کا دل لگانے کا کارنامہ انجام دیا ہے اس کو مغربی دنیا میں خراج تحسین کے قابل سمجھا جارہا ہے جبکہ ہمارے ہاں اس پر مذہبی حلقوں میںایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ‘ اور سوشل میڈیا پراس طریقہ علاج کے مذہبی جواز اورعدم جواز کے حوالے سے سوال اٹھایا جارہا ہے کہ ایک ناپاک جانور کاعضو(دل) لگانے کے بعد انسان کس طرح پاکیزہ رہ سکتا ہے ‘ اس کامیاب تجربے کے خالق ڈاکٹر منصور محی الدین نے ‘ جو ڈائو یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے گریجویٹ ہیں ‘ ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تجربات میں بندر کا دل لگایا جاتا تھا لیکن وہ مفید ثابت نہ ہوا ‘ البتہ خنزیر(سور) پر تجربہ مفید رہا ‘ مریض میں سور کے دل ٹرانسپلانٹ پر ایک کروڑ 75 لاکھ پاکستانی روپے لاگت آئی ہے ‘ اب صرف یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ اس تجربے کے آگے چل کر کیا نتائج برآمد ہوں گے’ یعنی مریض سور کے دل کو مستقل طور پر قبول کرتا ہے یا پھر وقت کے ساتھ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ‘ جہاں تک بندر کے دل کے ٹرانسپلانٹ میں مشکلات کا تعلق ہے ‘ اچھا ہی کیا پاکستانی سرجن نے کہ بندر پر”اعتبار” نہیں کیا ‘ وگرنہ بھارت میں اس پر بہت واویلا مچ جاتا کیونکہ بندر ہندوئوں کے نزدیک مقدس جانور ہے اور وہ اسے دیوتا کا درجہ دیتے ہوئے اسے ہنومان کہتے ہیں ‘ بھارت کے جن علاقوں میں بندروں کی بھرمار ہے وہاں کے لوگ اگرچہ ان بندروں سے بہت تنگ آئے ہوئے ہیں کہ یہ گھروں تک میں گھس کر کھانے پینے کی اشیاء تک اٹھا کر لے جاتے ہیں پھر بھی انہیں کچھ نہیں کہتے ‘ اس لئے اگر ڈاکٹر منصور یہ تجربہ کسی بندر پر کرتا اور کامیابی حاصل کرلیتا تو بھارتی انتہا پسند وہاں کے مسلمانوں کے خلاف ایک اور محاذ گرم کرکے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردیتے ‘ اور ویسے بھی اگربندروں کا دل انسانوں کو لگانے کا تجربہ کامیاب ہو جاتا تو جس انسان کو بندر کا دل لگایا جاتا ‘ اس کے سینے میں بندر کی اچھل کود خود اس کا جینا حرام کر دیتی ‘ کیونکہ بندر نچلا تو نہیں بیٹھ سکتا اور صحت یاب ہونے کے بعد متعلقہ مریض کے سینے کی دھڑکن اس کے لئے سوہان روح بن جاتی ‘ ایک بات البتہ یہ بھی ہو سکتی تھی کہ اگربھارت میں کسی”مسلمان” کوکسی بندر کا دل لگایا جاتا تو ہندو انتہا پسندوں سے اس کی جانب ضرور محفوظ ہوجاتی بلکہ الٹا وہ اس کی ”پوجا” شروع کردیتے کہ اس کے سینے میں دیوتا ہنومان جی کا دل دھڑکتا ہے ‘ اور اس کی یہی دھڑکن اگربندروں کی طرح درختوں پر چڑھنے ‘ شاخ شاخ ‘ ڈالی ڈالی گھومنے پر آمادہ کرتا تو پھرایک مشہور شعر کو تبدیلی کے عمل سے گزارتے ہوئے یوں کرنا پڑ جاتا کہ
برباد گلستان کرنے کو بس ایک ہی”بندر” کافی ہے
ہر شاخ پہ ”بندر” بیٹھا ہے’ انجام گلستان کیا ہو گا
اب جو یہ نئی بحث چل پڑی ہے کہ سور کا دل لگانے سے متعلقہ سرجن کس طرح پاکیزہ رہ سکتا ہے تو اس پر غور کرنا اگرچہ لازمی ہے مگر۔۔۔۔؟ یعنی یہ دل ہی تو ہے جو انسان کے جسم میں خون پمپ کرکے اسے زندہ رکھنے میں مدد دیتا ہے اور سائنسی اصولوں کے مطابق انسان دل کی دھڑکن (پمپنگ) کی وجہ سے گندہ خون آدھے جسم سے اٹھا کر اسے باقی نصف جسم کے لئے سرخ خون میں تبدیل کرتا ہے اور یوں زندگی کا یہ سفر رواں دواں رہتا ہے ‘ مگر سور جیسے ناپاک جانور کے دل سے گزرتے ہوئے خون صاف کیسے رہ سکتا ہے؟ یعنی سوال اپنی جگہ اہم تو ہے ‘ تاہم اگر سور کی جگہ بندر کا دل گانے کا تجربہ کامیاب ہو جاتا تو پھر بندر کی پاک اور ناپاکی کا سوال نہ اٹھتا؟ اس کے علاوہ یہ بات بھی عام ہے کہ مختلف امراض کے حوالے سے تجربات عام طور پرچوہوں پر کئے جاتے ہیں ‘ اب جہاں تک چوہوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں کے نزدیک تو چوہے بھی”حرام” کے زمرے میں آتے ہیں ‘ یوں یہ تجربات جوکئے جاتے ہیں اور ان کے بعد دوائیں ‘ انجکشن وغیرہ بنا کر انسانوں کی بہبود کے لئے استعمال کی جاتی ہیں کیا ان کا استعمال درست ہے؟ بقول ڈاکٹر نذیر تبسم
نذیر شہر شناساں میں برسرمنبر
کوئی نہیں تھا ترے حق میں بولنے والا
اب بات کر لیتے ہیں ان دیسی بلکہ مقامی”۔۔۔۔” کی جو عام انسانوں کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جن کی توقع انسانوں سے نہیں کی جا سکتی ‘ اور یہ ہیں شہر کے اندر پھیلے ہوئے وہ شیر فروش جو دودھ میں”پانی” کی ملاوٹ تک محدود رہتے ہیں تو قابل برداشت ٹھہریں ‘ مگر اکثر ایسے ہیں جو ” فارمولہ ” دودھ کا زہر عوام کوپلا کر انہیں نہ صرف دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں بلکہ مختلف کیمیکلز کی مدد سے مصنوعی دودھ فروخت کرکے عوام کی صحت سے کھیلتے رہتے ہیں ‘ اس نوع کے دودھ فروش آپ کو اگرچہ پشاور کے ہر علاقے میں مل جائیں گے مگر گل بہار کالونی میں ان کی بہتات ہے ‘ کسی بھی شیر فروش کے بارے میں وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا دودھ واقعی خالص ہے ‘ جبکہ اس صورتحال کی وضاحت ازبر درانی نے بہت خوبصورتی سے کی ہے کہ
گوالا لاکھ کھاتے جائے قسمیں
مگراس دودھ میں پانی بہت ہے
بہر حال بات صرف پانی کی ملاوٹ کے پرانے دور تک محدود رہتی ‘توتشویش کی کوئی بات نہ تھی مگر یہاں توانسانوں کی صحت سے کھیلنے کا گھنائونا کھیل کھیلا جارہا ہے اور متعلقہ ادارہ خاموش تماشائی بنا سب کچھ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے’
کچھ علاج اس کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں؟