عوامی تنازعات دور کرنے کا طریقہ

عوامی تنازعات دور کرنے کا مناسب طریقہ

خیبر پختونخوا حکومت نے 2016 میں ڈی آر سی یعنی ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسل کی منظوری دی تھی۔ یہ ڈی آر سی ایک قسم کا جرگہ ہے جو تھانے کی سطح پر تنازعات حل کرتا ہے ۔ عوام ان کے ساتھ مختلف قسم کے تنازعات رجسٹر کرتے ہیں جسے کونسل احسن طریقے سے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے ۔ ہر کونسل میں ممبران کا تعلق علاقے کے نامی گرامی مشہور اور صاحب حیثیت افراد سے ہوتا ہے ۔ ان کی تنخواہیں نہیں ہوتیں تو رضاکارانہ طور پر کام کرتے ہیں اوراراکین فریقین کو بغیر زور زبردستی صلح کے فضائل بیان کرتے ہوئے صلح کی طرف راغب کرتے ہیں ۔ ہمارے گائوں میں ڈی آر سی کی کوشش سے ایک صلح کی اختتامی تقریب میں شریک ہوا ۔ تقریب میں صلح کے موضوع اور اس کی اہمیت پر مختلف مقریرین نے خطاب فرما یا ۔ اس موقع پر مقررین نے سب سے پہلا ڈی آر سی ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ وہ بغیر تنخواہ اپنے علاقے کے عوام کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں مقررین نے صلح کی اہمیت اور فضائل پر روشنی ڈالی ۔عوام کو اس بات کی نشاندہی کرائی کہ ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت سے رہیں چھوٹی موٹی باتوں پر درگزرسے کام لیں تکبر اور عنانیت سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کریں قومیت اور علاقائیت کے تعصب سے اجتناب کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجتہ الودع کے موقع پر فرمایا :اے لوگو! تمہارا رب بھی ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے، خبردار! کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر اللہ کے نزدیک سب سے افضل متقی ہے ۔(رواہ مسند احمد)
مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر جنگ وجدال جذبات جہل اور تکبر کی وجہ سے رونما ہوتے ہیں
فریقین کے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کے بعد انہیں احساس ہوتا ہے اور آخر اقدام ہی جرگہ ہوتا ہے ہمارے ملک میں ارتکاب جرائم علم کی کمی ‘ جہالت ، غربت’لالچ ‘ بغیر محنت مالدار ہونا ‘ تربیت کا فقدان’ سوشل میڈیا’ الیکٹرانک میڈیا’ موبائل کا منفی استعمال’ حلال و حرام کے فرق کا خاتمہ اور انصاف وعدل کی عدم موجودگی شامل ہے ۔
ان وجوہات کی بنا پر روزانہ کئی افراد قتل ہو تے ہیں اس قتل وغارت نے دور جہالت کی یاد تازہ کر دی ہے۔ حکومت اس قسم کے فسادات کی روک تھام میں بے بس نظر آرہی ہے پاکستان کے مختلف عدالتوں میں زیر التوا کیسز کی کل تعداد 21 لاکھ سے زیادہ ہے جن میں اکثر مقدمات سال ہا سال سے مختلف عدالتوں میں چل آرہے ہیں اس کی وجہ سے نفرتیں ‘ دشمنیاں ‘جنگ وجدال اور قتل وغارت میں روز بروز اضافہ نظر آرہا ہے جن کے منفی اثرات پوری قوم بھگت رہی ہے ۔ روزانہ مختلف قسم کے مقدمات ملک کے مختلف تھانوں میں درج ہوتے ہیں جن میں بعض مقدمات کے ایف آئی آر صحیح نہیں ہوتے جس کا فائدہ مجرم کو جاتا ہے بعض مالدار صاحب حیثیت افراد پولیس کے ذریعے سے کمزور افراد کے خلاف غلط ایف آئی آرز لکھتے ہیں اگر چہ کمزور افراد مظلوم کیوں نہ ہوں۔ مال دار افراد کے لیے ہر کوئی سفارش کرتا ہے لیکن غریب کے ساتھ نہ کوئی تعاون ہوتا ہے اورنہ سفارش ۔ جو افراد ایف آئی آر لکھتے ہیں اس میں ایسے قانونی نکتے رکھے جاتے ہیں جس سے مجرم بچ جاتا ہے حکومت پولیس کی اصلاح نہیں چاہتی ہے اور نہ اس کے لیے کوئی صحیح قانون سازی کرتی ہے ہماری عدالتوں میں کیسیز کے زیر التوا ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں کچھ یہ ہیں ایف آئی آر میں سقم ، ججز کی کمی ، ایک مقدمہ مختلف عدالتوں میں چیلنج کرنا ۔ یعنی ایک کیس کا فیصلہ جو لوئر کورٹ میں ہوجاتا ہے فریقین میں سے ہارنے والا پھرمختلف عدالتوں میں مقدمہ آگے لے جاتا ہے یعنی ڈسٹرکٹ کورٹ جاتا ہے پھر سیشن کورٹ اگر وہاں سے نہیں ہوتا تو پھر ہائی کورٹ اور آخر میں سپریم کورٹ تک پہنچ جاتا ہے اس میں کئی سال لگتے ہیں عدالتوں پر مقدمات کئی ہیں بے تحاشا رش ہے اس کی وجہ سے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے بعض ایسے دیوانی مقدمات بھی ہیں جو پچاس ساٹھ سال سے مختلف عدالتوں میں چلے آرہے ہیں ان کے فیصلے نہیں ہوتے انصاف لینے کے لیے کئی افراد مختلف عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں لیکن ان کو اپنی زندگیوں میں انصاف نہیں ملتا بعض ایسے افراد جیلوں میں بند ہیں جو مختلف نوعیت کی سزائیں کاٹ رہے ہیں بیس بیس سال گزارنے کے بعد فیصلہ آتا ہے کہ یہ بے گناہ ہیں تو بے گناہ شخص کو کیوں بیس سال تک جیل میں ڈالا؟ اس کی بیوی اور بچے کس حال میں رہے بیرونی ممالک میں اس طرح کے قیدی جو ناجائز جیل میں زندگی گزارے ان کو حکومت کثیر معاوضہ ادا کرتی ہے لیکن یہاں اس ملک میں اس کے لیے کوئی قانون ہی موجود نہیں۔
حکومت سنجیدگی سے سستا انصاف عوام کو فراہم کرنے کی کوشش کرے محکمہ پولیس اور عدالتی نظام کا از سر نو جائزہ لیا جائے جس میں کس بھی جگہ سقم اور کمزوری ہو تو اس کے لیے صحیح قانون سازی کرے عوام کو سستا اور جلد انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے تمام کورٹس زیر التوا کیسیز نمٹا نے کے لیے مختلف کمیشنز بنائیں وہ مختلف طریقوں سے مقدمات کی صحیح پیروی کرکے صحیح فیصلے کرنے کے احکامات صادر فرمائے ۔ ڈی آر سی کو مزید مستحکم اور پورے ملک تک توسیع دی جائے۔ بیرونی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات کی طرح جرائم کی روک تھام کی جائے پولیس، عدلیہ ، حتی کے تمام اداروں میں اس کی تقلید کی جائے ۔امریکہ کی طرح یہاں عدالتی نظام میں جیوری سسٹم بنایا جائے ۔ ان تمام امور کو اگر نافذ العمل کیا گیا توتوقع ہے کہ بہتری آئے گی۔