نئی سکیورٹی پالیسی کے دھندلے نقوش

ایک سو صفحات پر مشتمل نئی سیکورٹی پالیسی کے کچھ صفحات منظر عام پر آئے ہیں ۔جن کے مطابق پاکستان کے اگلے ایک سو سال کی سلامتی پالیسی کے اہداف کا تعین کیا گیا ہے ۔اس پالیسی کے غیر خفیہ اہم نکات معیشت ،فوج اور انسانی تحفظ پر مشتمل ہیں ۔بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ کشمیر کو نئی پالیسی کا اہم حصہ کہا گیا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے ۔معیشت اوربڑھتی ہوئی آبادی کو ہیومن سیکورٹی کے لئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔قومی سلامتی پالیسی کا باضابطہ اعلان وزیر اعظم عمران خان خود کریں گے ۔تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا اور تجارتی روابط کے باعث سکڑتی ہوئی دنیا اور دفاع کے جدید تصورات اور ہتھیاروں کی جدت نے پاکستان کو بھی اپنے روایتی تصور دفاع پر نظر ثانی پر مجبور کیا ہے ۔پاکستان کی اس بدلی ہوئی پالیسی میں کشمیر کہاں ہے ؟یہ سوال بہت اہم ہے ۔افغانستان میں امن اور استحکام کے بعد اور متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی وادی کشمیر میں براہ راست معاشی سرگرمیوں کے بعد پاکستان کے لئے بھارت سے تعلقات کو تادیر منجمد رکھنا آسان نہیں۔چین کا سارا اُبھار معیشت اور تجارت کا مرہون منت ہے اور وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مستقل قطع تعلقی اختیار کئے رکھے ۔چین کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو فریز کرنے کی تجاویز زیادہ پرانی نہیں ۔یہ تو بھارت نے پانچ اگست کے فیصلے کی سوئی چبھو کر چین کی حساسیت بڑھا دی ہے۔پاکستان کی ماضی کی سیکورٹی پالیسی واقعتا سیکورٹی ،دفاع اور تحفظ کے تصورات کے گرد گھومتی رہی جس میں انسانوں کی بھلائی کا تصور کہیں کھو کر رہ گیا تھا ۔اب دنیا میں اقتصادیات کی جنگ شروع ہوگئی ہے ۔سوویت یونین کے انہدام نے پہلی بار معاشی سیکورٹی کی جانب دنیا کی نظریں مبذول کی تھیں جب دنیا کی سپرپاور اور بے تحاشا جنگی ساز وسامان،بڑی آبادی ،رقبہ اور فوج رکھنے والا ملک اندر سے چٹخ کر رہ گیا ۔سوویت یونین اپنے حریف امریکہ یا یورپی طاقتوں کے ہاتھوں نہیں خود اپنی معاشی
پالیسیوں کے باعث اس انجام سے دوچار ہوا تھا ۔سوویت یونین کے اسلحہ خانے جدید اور مہلک ہتھیاروں سے بھرے پڑے تھے مگر بیکریوں پر کھانے پینے کی اشیا غائب تھیں اور عوام ڈبل روٹی کی خاطر لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہ کر بھی مقصد کے حصول میں ناکام ہو جاتے تھے ۔یہی وہ لمحات تھے جب سوویت یونین کے آخری حکمران میخائل گوربا چوف نے دیوہیکل وجود کا بوجھ اُتار کر کئی ریاستوں کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔یہ دنیا کے لئے معاشی سیکورٹی کی اہمیت کا ایک نمونہ اور مثال تھی ۔سوویت یونین کے انہدام کے دھماکے نے دنیا کے بہت سے ملکوں کو خوف زدہ اور چوکس اور چوکنا کردیا ۔چین امریکہ اور ملائیشیا ،بھارت ان میں شامل تھے جنہوںنے اپنی شرح نمو کو بڑھا کر معیشت کا جہاز ڈولنے نہیں دیا ۔پاکستان ان ملکوں میں شامل ہے جنہوںنے قرض در قرض کا راستہ اپنا کر اپنی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی طرف سرے سے کوئی توجہ ہی نہیں دی۔اب جب آنکھ کھلی تو ملک کی معیشت کلی طور پر قرض کے آکسیجن ٹینٹ پر آگئی ہے ۔چند برس پہلے پاکستان کی حکمران اشرفیہ کو روایتی اور قدیم دفاعی تصورات اور اہداف میں تبدیلی کا خیال آیا جس کا نتیجہ موجودہ سیکورٹی پالیسی ہے ۔پاکستان کی ماضی کی سیکورٹی پالیسی میں کشمیر کو پاکستان کے تصوردفاع میں خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔اس عرصے میں امریکہ نے پورا زور اس بات پر صرف کیا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو فریز کرکے بھارت کے ساتھ تعلقات میں نارملائزیشن کی طرف بڑھے ۔اس سے بھی زیادہ پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر کیمپ ڈیوڈ طرز کے معاہدے پر آمادہ کرکے” جیساہے جہاں ہے” کے اصول کی بنیاد پرکشمیر سے اسی طرح لاتعلق کیا جائے جس
طرح کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں مصر کو فلسطین سے الگ کیا گیا تھا ۔جس کے بعد اردن بھی فلسطینیوں کی تحریک سے الگ ہوگیا اور یوں فلسطینیوں کی تحریک مکمل طور پر اسرائیل کے رحم وکرم پر رہ گئی تھی ۔ دنیا بھر میں دوروں کے دوران حکمرانوں جیسا پروٹوکول لینے والے یاسرعرفات رملہ کے کمپلیکس میں ایک قیدی کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوگئے تھے ۔پاکستان نے کشمیر یوں سے اس انداز کی لاتعلقی کے دبائو کی مزاحمت کی ۔بدترین حالات میں ہونے والے شملہ معاہدے کی بھی پاکستان نے وہ تشریح قبول نہیں جو بھارت کرتا چلا آرہا تھا ۔پاکستان نے شملہ معاہدے کے باوجود کشمیر پر اپنا موقف اور استدلال اور سرگرمیاں ترک نہیں کیں۔ایک مرحلے پر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن برسرعام اسلام آباد میں کہہ گئیں کہ اگر پاکستان بھارت کے ساتھ معاشی تعلقات قائم کرے تو اس کی معیشت راکٹ کی رفتار سے اوپر جاسکتی ہے۔امریکہ نے پاکستان کی معیشت کو بھارت کے ذریعے بحال کرنے کا خواب دیکھا تھا پاکستان نے اس کو تعبیر دینے کی بجائے سی پیک کی صورت میں ایک الگ خواب دیکھنا شروع کیا ۔اب پاکستان کی بدلی ہوئی قومی سلامتی پالیسی میں بھی کشمیر کو خاص اہمیت حاصل ہے توبھارت کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کو بھی ہدف کے طور پر سامنے رکھا گیا ہے ۔یہ دومشکل اور باریک باتیں ہیں۔کہنے کو تو قائداعظم نے بھی پاکستان اوربھارت کے تعلقات میں امریکہ اور کینیڈا کے دوستانہ انداز کا خواب دیکھا تھا اور اصولی طور پردوناقابل بدل ہمسایوں کے تعلقات ایسے ہی ہونا چاہئے تھے مگر اس ہندو ذہنیت کا کیا کریں جس نے انگریز سامراج کے چنگل سے نکلتے ہی کالا انگریز بننے کا فیصلہ کیا تھا جس کے نتیجے میں سارے خواب بکھرتے چلے گئے تھے ۔اب بھی یوں لگتا ہے کہ بھارت کشمیر پر اپنی گرفت ہر لحاظ سے سخت کرنے کے بعد وادیٔ کشمیر میں باقی سپیس عربوں کو دے رہا ہے۔اس سپیس میں پاکستان کے لئے کتنی گنجائش نکلتی ہے ؟اس پر مستقبل کی سیکورٹی پالیسی کی ذیلی” بھارت پالیسی” کی کامیابی کا دارومدار ہے ۔