مشرقیات

ماحول اور موسم کی آلودگی کے ساتھ ساتھ ہماری ثقافت بھی آلودہ ہو گئی ہے ہمارے ٹی وی ، فلم کے پرڈیوسر اور فنکار ہمہ وقت پڑوسی ملک کی اندھی تقلید میں اپنی ثقافت کو پس پشت ڈال کر ایک بے ہنگم سی تفریح اور ثقافت کو فروغ دے رہے ہیں ہر طرح کی بے حیائی کو کلچر کا نام دینے والے اپنا مذہب’ اپنی شاندار روایات’ اقدار’ اپنے رسم و رواج اور اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر دوسروں کی بلاوجہ نقالی کر رہے ہیں، یہاں یہ بات بھی بتاتے چلیں کہ اس طرح کی بے حیائی اس پڑوسی ملک کی روایت رہی ہے اور نہ ہی اُن کا مذہب کسی طور اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ ہمارے ہاں ان لوگوں کی ایک عرصہ سے مخالفت جاری ہے اور یہ لوگ جنریشن گیپ کا نام دے کر اس تنقید اور مخالفت کو بے جاگردانتے ہیں لیکن جنریشن گیپ کا سہارا لیکر یہ مادر پدر آزاد مٹھی بھر لوگ میڈیا کا بے دریغ استعمال کرکے کبھی” کیٹ واک ”کے نام پر بے ہودگی پھیلارہے ہوتے ہیں تو کبھی بے ہودہ اور واہیات گانے گاکر اور ان موسیقی کو آلودہ کر رہے ہوتے ہیں ان لوگوں میں اتنی اخلاقی جرأت تو ہے نہیں کہ اپنی کوئی دھن یا اپنا کوئی انداز اپنائیں، چوری کی ہوئی دھنیں اور اُدھار مانگے ہوئے گانے گارہے ہوتے ہیں یہ تو آلودگی میں بھی آلودگی کے قائل ہیں ان کے گانے نہ تو پورے فوک ہیں نہ ہی پورے ڈسکو انکو کلاسیکل کی الیف بے تک نہیں آتی ۔ گانا کے لئے ریاض کیا ہوتا ہے یہ ان کے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم، اب ان دھنوں پر نظر دوڑائی جائے تو آپ دنگ رہ جائیں گے کہ کب فوک ڈسکو میں اور کلاسیکل موسیقی مغربی میوزک میں مدغم ہوجاتے ہیں کب مقامی زبان اردو میں اور اردو انگلش میں گڈ مڈ ہو رہی ہوتی ہے اور اس پر طرہ یہ کہ پھر بھی یہ لوگ اس زبانوں کے اچار اور میوزک کے گڑبڑ گھٹالے کو موسیقی کا نام دے رہے ہوتے ہیں اس طرح کی ہر بے حیائی کو ختم کر نا ہے کلچر کے نام پر پھیلائے جانے والی اس آلودگی کو ختم کرنا ہے۔اسی طرح کا حال نجی ٹی وی چینلز پر چلنے والے ڈراموں کا بھی ہے ، کسی زمانے میں وارث، اندھیرااجالا، دھواں، الفا برائو چارلی، سمندر وغیرہ کی طرح کے ڈرامہ قومی ٹی وی پر چلتے تھے تو سب گھر والے بیٹھ کردیکھتے تھے اب تونجی چینلز کے بے ہودہ ڈرامے ماں بیٹی کے ساتھ، بیٹا باپ کے ساتھ اور تو اور بہن بھائی بھی ایک ساتھ بیٹھ کر یہ ڈرامے نہیں دیکھ سکتے کیونکہ اعلیٰ پائے کی بے حیائی دکھائی جاتی ہے کوئی تو نوٹس اوربس۔