کوڑے پر بیٹھے کتاب پڑھتے بچے

کوڑے کرکٹ پر بیٹھے کتاب پڑھتے بچے کی تصویر نے ہلچل مچا دی

لبنان میں ایک دس سالہ شامی بچے حسین کی تصویر نے سوشل میڈیا پر لوگوں کے دل پگھلا دئیے۔ تصویر دیکھ کر لوگوں کی جانب سے وسیع پیمانے پر ہمدردی دیکھنے میں آ رہی ہے اور وہ اس بچے کی مدد کے واسطے اس کا پتہ معلوم کرنے کے خواہاں ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تصویر میں یہ بچہ حسین کچرے کے ایک ڈرم میں بیٹھا نظر آ رہا ہے اور اس کے ہاتھوں میں کتاب ہے۔ یہ کتاب اس نے کچرے سے ہی نکالی تھی۔ حسین کی تصویر ایک نوجوان لبنانی انجینئر اور یونیورسٹی پروفیسر روڈرک مگامس نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی۔ روڈرک نے حسین کو بیروت میں اپنے دفتر کے نزدیک دیکھا تو اس نے اس منظر کی تصویر لے لی۔

روڈرک نے بتایا کہ اس نے حسین کو سات منٹ سے زیادہ وقت تک پورے شغف اور پیار کے ساتھ کتاب کے صفحات پلٹتے ہوئے دیکھا۔ خیال رہے کہ یہ کتاب بچوں کے لیے نہیں تھی۔روڈرک کے ساتھ بات سے حسین کے جو حالات سامنے آئے ان کے مطابق وہ بہت ذہین بچہ ہے۔ اسے پڑھائی پسند ہے اور وہ صبح کے وقت اسکول جاتا ہے۔ دوپہر کے بعد حسین خردہ اشیا جمع کرنے کا کام کرتا ہے تا کہ اپنے بیمار باپ اور چار بہنوں کی مدد کر سکے۔روڈرک کے مطابق وہ ایک سوسائٹی کے ساتھ مل کر حسین اور اس کے گھرانے کی مدد کے واسطے مطلوب مالی رقم جمع کرنے پر کام کر رہا ہے۔ اس شرط کے ساتھ کہ حسین دوبارہ سے خردہ اشیا جمع کرنے کا کام نہیں کرے گا اور اپنی تعلیم کے لیے پوری طرح فارغ ہو جائے گا۔روڈرک کے مطابق بہت سے لوگوں نے حسین کی مدد کے طریقہ کار کے حوالے سے استفسار کیا ہے۔

مزید دیکھیں :   پی آئی اے کا عازمین حج کیلئے 31 مئی سے13 اگست تک پروازوں کا اعلان