اومی کرون

مشرقیات

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
اور مرض اس لئے بھی بڑھتا گیاکہ
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اس عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں
آپ دیکھیں تو وراثت صرف سیاست ہی نہیں ہمارے ہاں ہر شعبہ حیات میں اپنی اولاد کو سونب کر اسے کسی اور کام کے قابل نہیں چھوڑا جاتا یعنی اس جوہر قابل کو جوہری کے ہاتھوں میں سونپنے کی بجائے لگے بندھے کاروبار،سیاست اور کسی بھی دوسرے پیشے کو اپنانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ کسی بھی محکمے سے ریٹائرمنٹ کے قریب پہنچنے والے بابو حضرات اپنے بچوں کو اسی محکمے میں بھرتی کرانے کے لئے دوڑ دھوپ شروع کر دیتے ہیں،اس کے لئے بہت سے محکموں میں ہمارے بابولوگوں نے سن کوٹہ کے نام سے اپنے لئے وراثت میں نوکریاں لکھوائی ہوئی ہیں ،باپ کے بعد بیٹے کی بھرتی کو ضروری قرار دے کر اپنا ہی نہیں اپنی نسلوں کے روزگار کے یہ مواقع میرٹ کے اصولوں ہی کی نفی نہیں حق دار کے حق پر کھلا ڈاکہ بھی ہیں ،سپریم کورٹ ایک مقدمے میں اسے دھاندلی بھی قرار دے چکی ہے تاہم کون پروا کرتا ہے قانون کی، بجائے اس کے قانون کو اپنے مفاد کے لئے موم کی ناک بنانے والے ایک راستہ بند ہونے کی صورت میں دو راستے نکال لیتے ہیں ،سرکاری نوکریوں کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی وراثت سنبھالنے کے لئے نسلوں کا مسقتبل دائو پر لگا دیا جاتا ہے ،کوئی درزی ہو تو اپنے بیٹے کو بھی ساتھ میں سینا پرونا سکھانے لگتا ہے کہ لگے بندھے گاہک بھاگ نہ جائیں اور سلسلہ روزگار کا بندھا رہے چاہے متعلقہ بندے کا برخوردار کسی بھی دوسرے کام یا پڑھائی میں طاق ہو لیکن باپ کے حکم پر ہی اسے اپنی مرضی اور شوق کی قربانی دینی ہوتی ہے ایسے ہی نانبائی نان سے آگے سوچتا ہی نہیں، اس کے بچے ہی نہیں بچوں کو بچوں کو بھی ہم نے اسی پیشے سے لگا بندھا دیکھا ہے۔صفا ئی والا اپنے پیشے سے آگے دیکھتا ہی نہیں ،بچوں کے جوان ہوتے ہی انہیں جھاڑو پکڑوا دیتا ہے ،غرض آپ جس روزگار حیات کو بھی دیکھیں آپ کو وراثتی طور پر اس کے ڈانڈے ایک ہی خاندان میں دور دور تک نظر آئیں گے،کچھ یہی حال پیشہ ورانہ تعلیم میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے باپ ڈاکٹر ہو تو بیٹے کو ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے اپنی اور اس کی زندگی دوبھر کردیتا ہے ،کچھ ہی کامیاب ہو تے ہیں جو ناکام ہو جاتے ہیں انہیں پھر باپ اپنے کلینک میں بھرتی کر کے عملی طور پر اس قابل بنا دیتے ہیں کہ باپ کی دکان آگے بڑھاتے رہیں ،ہمارے ہاں کے بہت سے کلینکس میں مرحوم باپ کے نام کا دھند ا چلانے والے ان کے برخوردار نام کے ڈاکٹر ضرور ہیں ان کے پاس سند نہیں ہوتی۔ایسے وارداتیے پھر جو نسخہ لکھتے ہیں اسے استعمال کرنے والے مریضوں کے بارے میں میر تقی میر صدیوں پہلے پیشن گوئی کر گئے تھے
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جن کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

مزید دیکھیں :   معاملات کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟