رجوع اِلی اللہ کا وقت

مشکل اور آزمائش کے اوقات میں رجوع اِلی اللہ سے افضل کوئی عمل نہیں ہوتا۔ مسلمان کیلئے اگرچہ ہر لمحہ رجوع اِلی اللہ پر مشتمل ہونا چاہئے لیکن کیا کریں کہ آج مسلمان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ دین اور دنیا کو یوں الگ الگ رکھا گیا ہے گویا ان کا آپس میںکوئی تعلق ہی نہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم نماز کے وقفے کا بورڈ تو اپنے کاروباری اوقات میں دفتر یا دکان کے دروازے پر آویزاں کر لیتے ہیں لیکن اس مصیبت کے وقت میں مہنگائی، گراں فروشی، ذخیرہ اندوزی اور ہیر پھیر سے (الاماشاء اللہ) باز نہیں آتے، یہی حال ایک عام آدمی سے لیکر ایوان وزیراعظم تک ہے۔ کوئی دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ وطن عزیز میں اس عالمی وبا کی سخت مصیبت میں آٹا چینی بحران نے اُن لوگوں کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونا تھا جو پہلے ہی ارب پتی ہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ نارمل حالات میں ملک وقوم کے غریب عوام کی خاطر سبسڈی کی آڑ میں یہ کھیل نہ کھیلتے تاکہ اس کا فائدہ غریب عوام کو پہنچتا۔ اس وقت جبکہ حالات روز بروز سخت اور تکلیف دہ ہوتے جا رہے ہیں اور انسانی حوصلے امریکہ اور یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ٹوٹنے لگے ہیں اور وہاں عام لوگ تو ایک طرف، جرمنی کے وزیر مالیات جیسے شخص نے مایوسی کے گرداب میں پھنس کر خودکشی کرلی لیکن مسلمان کیلئے یہی وہ لمحہ ہوتا ہے کہ جہاں انسان کا حوصلہ (جب دنیاوی اسباب وذرائع منقطع دکھائی دینے لگتے ہیں) ختم ہوتا نظر آتا ہے تو وہاں سے رحمت خداوندی شروع ہوتی ہے۔ رحمت خداوندی کے حصول بلکہ اپنے آپ کو اُس کا کسی حد تک مستحق بنانے کیلئے حکم خداوندی یہ ہے کہ بندہ اللہ کی طرف رجوع کرے، ذکر کرے، توبہ کرے، دعا کرے اور گڑگڑا کر پوری قوم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔
اور اتنا ہی کافی نہیں بلکہ توبةالنصوع کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے سابقہ گناہوں پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ گناہوں کے ارتکاب سے باز رہنے کا پکا عہد کرے اور اپنے عمل کے ذریعے ثابت کرے کہ وہ ایک بدلا ہوا انسان ہے۔ لیکن معاف کیجئے کیا میرے ملک میں دور دور تک اس قسم کا کوئی مسلمان ہے؟ ہم میں سے کتنے لوگ اس تکلیف کے وقت بھی ناجائز اور ناروا معاشی معاملات سے باز آتے ہیں۔ کیا ہماری میڈیا میں کچھ تبدیلی آئی ہے۔ کیا فحاشی وعریانی کا سیلاب رک گیا ہے، اخبارات میں اب بھی قتل وغارت، ڈاکہ زنی اور دیگر جرائم کی خبریں تواتر کیساتھ سامنے آتی ہیں اور پھر یہ خاص نکتہ کہ ہمارے علماء کرام تو پہلے بھی منبر ومحراب سے وعظ ونصیحت کے ذریعے امربالمعروف کا فریضہ سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے اور اللہ کرے کہ ایسی ہی جاری وساری رہے کہ یہ وطن ان کی دعاؤں اور نیم شبی کی آہ و زاریوں سے قائم ہے لیکن کبھی حکومت وریاست کی طرف سے بھی ایسی کوئی بات سامنے آئی ہے؟۔
محترم وزیراعظم کئی بار قوم سے خطاب کر چکے ہیں اور ایاک نعبد وایاک نستعین کے باوجود نہ تو خود توبہ واستغفار کا اظہار کیا اور نہ ہی اپنی کسی تقریر میں قوم کو اس کی تلقین کی۔ میرا خیال تھا کہ مولانا طارق جمیل صاحب وزیراعظم کو اس طرف مائل کریں گے اور ہو سکتا ہے کہ اُنہوں بات کی بھی ہو لیکن شاید یہ بات پریس میںنہ آسکی ہو چاہئے تو یہ تھا کہ پوری قوم بشمول ایوان ہائے وزیراعظم وصدر اجتماعی توبہ واستغفار کے عمل میں شامل ہوتے لیکن اس وقت وبا کے پیش نظر اگر یہ ممکن نہیں ہے تو وزیراعظم عمران خان کیلئے بہت نادر وشاندار موقع ہے کہ رجوع اِلی اللہ کے عملی اظہار کیلئے آئین پاکستان میں درج اور (1973) سے عملدرآمد کے منتظر حدود اللہ، پر عمل کرنے کا قوم سے خطاب کر کے اعلان کرے۔ اس کے ذریعے فحاشی وشراب نوشی وغیرہ ختم ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ ایک بہت ہی اہم کام کا بہت اچھا اور مناسب وقت ہے کہ پاکستان سے سودی نظام کے خاتمے کا اعلان کیا جائے۔ اب تو امریکی صدر نے بھی سود کو زیرو کر کے گویا ختم ہی کر لیا۔ سود اللہ اور رسولۖ کیخلاف اعلان جنگ ہے اور جس ملک میں عریانی فحاشی پھیلانے پر کوئی قدغن نہ ہو وہاں اللہ تعالیٰ نے دنیا میں عذاب دینے کی دھمکی دی ہے اور بدکاری کی کثرت سے نئی اور اچانک بیماریوں کے پھیلنے کی احادیث میں صراحت کیساتھ ذکر موجود ہے۔ رجوع اِلی اللہ کے گھروں (مساجد) سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔ نبی اکرمۖ کے دورمبارک میں جب بھی کوئی مصیبت یا آزمائش آئی ہے، آپۖ نے مصلیٰ بچھایا ہے اور اللہ کے حضور سربسجود ہوئے ہیں لیکن کیا کریں خوف، اندیشے اور افواہوں اور لمبی ضروریات اور تاکید کے پیش نظر سعودی عرب سے لیکر انڈونشیا اور پاکستان تک مساجد میں اجتماعات محدود کر دیئے گئے ہیں، اگرچہ مسلمان کیلئے اللہ کی زمین ہر جگہ مسجد کی حیثیت رکھتی ہے لیکن بیوت اللہ کا بہرحال اپنا مقام ہے۔ سماجی فاصلہ احتیاطی تدابیر کے طور پر ضروری ہے لیکن حرمین شریفین سے لیکر پاکستان تک مساجد کو جس تندہی کیساتھ محدود کیا جارہا ہے اور ہمارے ہاں کی دعوت دین کا اہم فریضہ ادا کرنے والی جماعتوں پر احتیاط کے نام پر پابندیاں لگائی جارہی ہیں یہ قابل غور بھی ہیں اور دو ہفتے بعد رمضان المبارک کی آمد پر بھی علماء کرام کا اعتماد حاصل ہونا چاہئے۔