جو اپنے پاؤں سے رستے نہیں بنائے ہوئے

ہمارے چاروں طرف زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح بکھری ہوئی ہے ہر چیز ایک کہانی ہے بس اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ خالق کائنات کی تخلیقات کو غور سے دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے، کہتے ہیں انسان کا بہترین مطالعہ انسان ہے، ہمارے آس پاس انسان تو بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر ان میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے، ان کے اچھے کاموں پر غور کرنا اور ان کی غلطیوں سے بچنا دانش مندی کی علامت ہے۔ صحبت کا اثر انسان کی شخصیت پر سب سے زیادہ ہوتا ہے وہ جو کہتے ہیں: انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے! انسان ہمارے لئے باعث عبرت بھی ہوتے ہیں اور باعث تقلید بھی! لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے جب ان میں دلچسپی لی جائے، ان کے حالات کا بغور مشاہدہ کیا جائے، سیکھنے کیلئے ہمارے اردگرد سب کچھ موجود ہوتا ہے بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہئے۔ یہ اور اس طرح کی بہت سی باتیں کل ایک نوجوان کیساتھ بالمشافہ گفتگو میں زیربحث آئیں، وبا کے دنوں میں کسی جنازے میں شریک ہونا بھی بہت سی نزاکتوں کا متقاضی ہوتا ہے، ہم نے کوشش کی کہ لوگوں سے ذرا فاصلے پر ہی رہا جائے تو بہتر ہے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ لوگوں سے ملنا ملانا ہماری تہذیب وثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے، جنازے میں لوگوں کی تعداد عام دنوں کے مقابلے میں کم تھی اور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ بہت سے لوگ ماسک پہنے ہوئے تھے اور دور ہی سے سلام پر اکتفا کر رہے تھے، ہماری نوجوان نسل میں تجسس تو بہت ہے، جنازہ اُٹھنے میں ابھی وقت تھا اس دوران ایک نوجوان کیساتھ بات چیت کا سلسلہ چل نکلا، تعلیم کی تکمیل کے بعد بیروزگاری اور نوجوانوں کا آنے والے وقت کے حوالے سے خدشات کا اظہار! حالات جیسے بھی ہوں ہم نے اپنی نوجوان نسل کو پراُمید رہنے کا درس دینا ہے، ارنسٹ ہیمنگوے نے کہا تھا کہ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے اور خوش نصیب ہونا اچھی بات ہے لیکن ایک بات کا خیال رہے کہ جب خوش قسمتی آپ کے دروازے پر دستک دے تو آپ کو اس کے استقبال کیلئے پہلے سے تیار ہونا چاہئے، خوش نصیب ہونا یا خوش نصیبی کیلئے پہلے سے تیار ہونا یہ اور اس قسم کی دوسری بہت سی باتیں نوجوانوں کیلئے بڑی پرکشش ہوتی ہیں۔ دراصل انسان کی زندگی کا سب سے اہم حصہ یہی جوانی تو ہے؟ یہی وہ زمانہ ہے جب انسان ایک بہتر مستقبل کیلئے جدوجہد کرتا ہے یہی وہ زمانہ ہے جب اسے یہ سیکھنا ہوتا ہے کہ وقت بڑی دولت ہے وقت کو ضائع کرنے کا مطلب اپنے آپ کو ضائع کرنا ہے، اسے اس زمانے میں اپنے لئے زندگی کی راہیں متعین کرنا ہوتی ہیں، اگر کوئی نصب العین سامنے ہو تو باقاعدہ منصوبہ بندی کیساتھ اسے پانے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے یعنی جس طرح دن نیا ہے اسی طرح انسان کے دل میں نئی اُمنگیں بھی پیدا ہونی چاہئیں، وہ ایک نئے حوصلے کیساتھ نئے دن کا آغاز کرے وہ چوبیس گھنٹوں کے ہر منٹ ہر سیکنڈ سے فائدہ اُٹھائے، خوش نصیبی کیلئے پہلے سے تیار ہونا اسی کو کہتے ہیں! کہتے ہیں ایک مرتبہ خوش قسمتی نے ایک کاہل شخص کے دروازے پر دستک دی لیکن اس نے اپنی طبعی سستی کی وجہ سے اُٹھنے کی زحمت گوارا نہیں کی، اب خوش قسمتی کے پاس اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ وہ اس کاہل اور تن آسان شخص کے انتظار میں دروازے پر کھڑی رہتی، وہ آگے بڑھ گئی اور اس نے ایک اور شخص کا دروازہ کھٹکھٹایا وہ شخص ہوشیار اور بیدار تھا اس نے جیسے ہی دستک سنی اُٹھ کر دروازہ کھولا اور خوش قسمتی کو گلے لگالیا۔ خوش قسمتی ہے کیا؟ یہ درحقیقت انسان کو زندگی میں ملنے والے مواقع ہیں اور اللہ تعالیٰ سب کو موقع دیتا ہے جس طرح بارش ہر زمین پر برستی ہے، اسی طرح سورج ہر جگہ چمکتا ہے، اب یہ زمین پر ہے کہ اس میں کتنی گنجائش ہے نرم زمین پر بڑی اچھی فصل اُگتی ہے لیکن اگر زمین بنجر ہے تو اس پر بارش کے برسنے کا کوئی اثر نہیں ہوتا،بقول امجد اسلام امجد
جو اپنے پاؤں سے رستے نہیں بنائے ہوئے
سوال یہ ہے کہ ان پر چلا ہی کیوں جائے
دراصل خزانہ ہمارے اندر موجود ہوتا ہے اور ہم اسے پانے کیلئے زمانے بھر کی خاک چھانتے رہتے ہیں بس اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے وہ وقت حالات اور زمانے کو پہچاننے کے قابل ہوجاتا ہے اپنے آپ کو پہچان لیا جائے تو زندگی کا سفر آسان ہوجاتا ہے۔ نوجوانوں کیساتھ مکالمے کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھنا چاہئے، زندگی کے اسرار ورموز کو سمجھنے کیلئے مکالمہ بہت ضروری ہوتا ہے اور مکالمہ اس سوچ کیساتھ کیا جائے کہ ہم نے کچھ سیکھنا ہے، بحث برائے بحث اور تعمیری مکالمے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ کوشش کیجئے کہ بحث کا روازہ نہ کھلے، یہ آپ کو اُلجھا کر رکھ دیتی ہے اس میں آپ کی انا شامل ہوجاتی ہے، ہر طرح کے مواقع تو ہمارے چاروں اور بکھرے ہوتے ہیں بس آگے بڑھ کر ان سے فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح زمین بارش کے پانی سے زرخیز ہوجاتی ہے اسی طرح ہم دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھ کر اپنی انا کے بت کو توڑ کر اپنی منزل حاصل کرسکتے ہیں۔