کورونا، پرنالہ وہیں ہے

کورونا ایک سیلابِِ بلا بن کر ملکوں ملکوں پھیلتا جا رہا ہے۔ طاقتور، وسائل اور ترقی کے کوہ ہمالیہ اس سیلاب کے آگے تنکوں کی طرح بہہ رہے ہیں۔ دنیا کا سب سے طاقتور ملک عاجز اور بے بس ہے۔ برطانیہ دنیا میں صحت کا بہترین نظام رکھنے والا ملک ہے مگر یہ سسٹم اپنے وزیراعظم بورس جانسن کوکورونا سے بچا نہ پایا۔ بورس جانسن کئی روز سے انتہائی نگہداشت میں ہیں۔ ٹرمپ جو پہلے پہل اس وباء کو طنز واستہزا میں اُڑا رہے تھے اب اس قدر خوفزدہ ہیں کہ ایک لاکھ تابوتوں کا آرڈر دے چکے ہیں۔ دولاکھ افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہم یہ تعداد ایک لاکھ تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے تو یہ ایک بڑی کامیابی تصور ہوگی، گویا کہ انہیں اس بات کی قوی اُمید ہے کہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوں گی۔ فرانس، اٹلی، سپین کے جدید سسٹم اور وسائل کو روندتا ہوا یہ وائرس دور تک پھیل چکا ہے۔ مغربی ملکوں کے پررونق شہر ان شہروں کے پارکس، بازار، ہوائی اڈے سب ویران ہو چکے ہیں۔ پالتو جانوروں کا جنون کی حد تک شوق رکھنے والے معاشرے میں اب اپنی اس محبت اور شوق سے بوجھ سمجھ کر جان چھڑائی جا رہی ہے۔ ویک وینڈ کو تہوار کے طور پر منانتے ہوئے گھروں سے نکل کر پارکوں، بارز اور شاپنگ مالز کا رخ کرنے والے ان سب چونچلوں کو تیاگ کر گھروں میں دبکے ہوئے ہیں۔ مغرب کی فضائیں جن آواز سے قطعی ناآشنا تھیں اب بہت سے شہروں اور پبلک مقامات پر فضائیں اور عوام کی سماعت اذانوں کی آوازوں سے آشنا ہو رہے ہیں۔ لوگ گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔ مغربی ملکوں میں بہت سے نامور، متحرک اور بااثر پاکستانی نژاد بھی اس وباء کی زد میں آکر اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ ان میں کاروباری لوگ بھی ہیں، منتخب ایوانوں کے نمائندے بھی اور ٹیکسی چلا کر اپنی گزر اوقات کرنے والے محنت کش بھی ہیں اور گھریلو خواتین بھی۔ آئے روز برطانیہ اور امریکہ سے کسی جانی پہچانی شخصیت کے داعیٔ اجل کو لبیک کہہ جانے کی اطلاع ملتی ہے۔ برطانیہ کے اخبار ڈیلی میل نے پاکستان کے تنتیس سالہ نوجوان کی دلدوز داستان لکھی ہے جو اپنی والدہ اور بہن کیساتھ لندن میں رہ رہا تھا اور ٹیکسی چلا کر زندگی کی گاڑی کو دھکا دے رہا تھا۔ ایوب اختر نامی نوجوان خوبرو اور صحت مند اور مستقبل کے خوابوں کی تعبیر کیلئے پُرعزم تھا۔ یہ نوجوان اس وقت گردش دوراں کا شکار ہوا جب ایک عورت اس کی ٹیکسی میں سوار ہوئی اور وہ مسلسل کھانستی جا رہی تھی۔ ایوب اختر کورونا کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔ گھر والوں کو بستر مرگ سے اس کے پیغامات کچھ یوں ملتے رہے ''میں شدید تکلیف میں ہوں میرے لئے دعا کیجئے'' ایوب کے گھر والے موبائل پر اس کی کھانسی کو یاد کرکے آبدیدہ ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اہل خانہ کے اس کرب کو ان کے سوا اور کون سمجھ سکتا ہے اور اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایوب اختر کی صحت کو ایک ہفتے میں موذی وائرس نے تباہ کر کے رکھ دیا۔پاکستان سے جانے والی یہ خبریں کہ یہاں عام لوگ ابھی تک کورونا کو مذاق سمجھ رہے ہیں اور احتیاطی تدابیر سے بدستور گریزاں ہیں ان پاکستانی نژاد لوگوں کے دلوں پر چھریاں بن کر چل رہی ہیں۔ یہ ہر ممکن انداز سے اپنے ہم وطنوں کو سمجھا رہے ہیں کہ خدارا اس آفت کو مذاق نہ سمجھیں وگرنہ پچھتاوا ان کا مقدر بن جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی گزشتہ روز خدا کا واسطہ دے کر اہل وطن سے احتیاط کرنے کو کہا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک اس وباء کی دوا تیار نہیں ہوتی اس وقت خوف اور خطرے کی تلوار سروں پر لٹکتی رہے گی۔ چین نے ووہان میں جہاں سے یہ وائرس پھیلا تھا بہت جان جوکھم سے اس پر قابو پا لیا ہے مگر حفاظتی تدابیر اب بھی جاری ہیں۔ ماسک کا استعمال، ملاقاتوں میں فاصلہ اب بھی جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ وبا پھر سر اُٹھا سکتی ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اپنی اپنی لیبارٹریوں میں سرجوڑ کر بیٹھے ہیں مگر تاحال کامیابی کے کوئی آثار نہیں۔ ویکیسن کی تیاری کب ہوگی کسی کو خبر نہیں۔ اس صورتحال میں حفاظت اور بچاؤ کی پہلی ذمہ داری عوام پر عائد ہوتی ہے۔ عوام کو اس بیماری، اس سے وابستہ تصویروں اور خبروں کو محض افسانے سمجھ کرحکومت اور انتظامیہ کیساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ حکومت کو لاک ڈاؤن میں کمی یا خاتمے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ ابھی تک کورونا وائرس کا تعلق ٹریول ہسٹری سے نکلتا تھا مگر اب رفتہ رفتہ ایسے مریض سامنے آنے لگے ہیں جن کا وائرس ہوم گراونڈ ہے۔ انہیں اپنی سوسائٹی کے ہی کسی فرد میں پوشیدہ وائرس نے بے خبری میں آن دبوچا ہے۔ حالت یہ ہے کہ معاشرے کے اندر وائرس دور تک پھیل چکا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ ٹیسٹنگ کی سہولت عام نہیں اس لئے متاثرہ افراد کی اصل تعداد کا تعین نہیں کیا جا سکتا مگر اس بات پر کامل اتفاق ہے کہ بحران ابھی مزید بڑھنا اور پھیلنا ہے اور کڑے دن آنا ابھی باقی ہیں۔ ان حالات میں حکومت کو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی کا خیال ترک کرکے حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کرنا چاہئے۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ عوام کی اکثریت نے اس مرض کو سنجیدہ نہیں لیا۔ ایسے میں حکومت کے پاس سختی کے سوا کوئی چارہ نہیں جبکہ اس وقت تک دنیا میں سیلف آئسولیشن کو ہی اس وباء کیخلاف سب سے مؤثر اور جاندار ہتھیار سمجھا رہا ہے اور چین نے یہ ثابت بھی کیا ہے۔ چین کی کامیابی کے بعد اب دنیا اسی ماڈل کو اپنانے پر مجبور ہے۔ چینی ہمیں بھی اپنے تجربات کا نچوڑ بتانے آتے ہیں مگر ہم نے من حیث القوم کچھ نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہے۔ اس روئیے پر جس قدر ماتم کیا جائے کم ہے۔