دنیا وائرس سے، بھارت انسانیت سے محوجنگ

دنیا کورونا سے مصروف جنگ ہے مگر بھارت اس عالمگیر خوف اور دہشت کے عالم میں بھی کشمیریوں سے جنگ لڑ رہا ہے۔ گزشتہ چند روز میں وادی کے اندر جعلی آپریشنوں کے نام پر ڈیڑھ درجن نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔ کئی مکانات کو بارود سے اُڑایا گیا۔ کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس نے کشمیر سمیت تمام جنگ زدہ علاقوں میں جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اس اعلان پر عمل کرنے کی بجائے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے اندر اور آزادکشمیر میں نہتے لوگوں کیخلاف پہلے سے جاری جنگ کو تیز کر دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں جبر وتشدد کا بازار گرم کرنے کیساتھ ساتھ کورونا کے خوف میں بھارتی فوج نے آزادکشمیر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ بھارتی جارحیت کا آغاز وادی نیلم سے ہوا جہاں مختلف سیکٹرز میں بھارتی فوج نے عام آدمی کو بے رحمی سے نشانہ بنایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے شاردہ دودنیال اور شاہکوٹ میں شہری آبادی کو بلااشتعال نشانہ بنایا، پاک فوج کی جوابی کارروائی کے بعد بھارتی گنیں خاموش ہوگئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں سال بھارتی فوج نے کنٹرول لائن کی708مرتبہ خلاف ورزی کی۔ اس دوران دو شہری شہید جبکہ بیالیس زخمی ہوئے۔ گزشتہ چند روز میں بھارتی فوج نے متعدد بار کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت موجودہ صورتحال کو مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کیلئے استعمال کر رہا ہے اور دنیا کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے۔ اس دوران حقوق انسانی کے حوالے سے سرگرم چھ عالمی تنظیموں نے کورونا خطرات کے پیش نظر بھارتی جیلوں میں قید کشمیریوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ جنیوا میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشین فورم برائے انسانی حقوق، شہریوں کی شرکت کے عالمی اتحاد، بین الاقوامی کمیشن برائے جیورسٹ، بین الاقوامی فیڈریشن برائے انسانی حقوق، تشدد کیخلاف عالمی ادارہ نامی تنظیموں نے بھارت سے کشمیری قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارت میں کورونا کے کیسز کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔ جس کی وجہ سے کشمیر کے ہزاروں سیاسی قیدیوں کے رشتہ داروں اور عام افراد میں ان کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ خود کشمیر میں 100افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ دو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ کورونا خطرات نے پوری دنیا میں خوف ودہشت کی فضاء پیدا کر رکھی ہے۔ دنیا بھر کی طرح بھارت میں ابھی تک کورونا کا کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا۔ یہ الگ بات کہ بھارتی ہندوؤں کا ایک طبقہ کورونا کا علاج گؤموتر اور جسم پر گوبر لیپنے میں تلاش کر چکے ہیں مگر خودروش خیال ہندو اس تھیوری کا مذاق اُڑانے میں پیش پیش ہیں۔ نریندر مودی نے بھی موم بتیاں جلانے اور گو کورونا گو کے مہمل اور مجہولانہ قسم کے نعرے لگوا کر اپنے تئیں کورونا کا راستہ روک دیا ہے۔ حد تو یہ کہ ایک ویڈیو کلپ میںبی جے پی کی ایک خاتون لیڈر تو ہوا میں فائرنگ کرکے کورونا کو مارنے کی کوشش کررہی ہیں۔ اس عالم میں کشمیری عوام کا اپنے قیدیوں کی صحت وسلامتی کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہونا فطری سی بات ہے۔ اس وقت بھارت اور جموں وکشمیر کی جیلوں میں ہزاروں قیدی جرم بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ ان میں صف اول کے سیاسی راہنما محمد یاسین ملک، محمد اشرف صحرائی، شبیر احمد شاہ، نعیم خان، عبدالحمید فیاض جبکہ میاں عبدالقیوم جیسے سربرآوردہ وکلا، تاجر، سول سوسائٹی کے افراد اور ٹین ایجر شامل ہیں۔ پانچ اگست سے پہلے بھی جموں وکشمیر کی جیلیں کشمیری قیدیوں سے بھری پڑی تھیں اس کے بعد بھارت کی دوردراز جیلوں میں بھی کشمیری قیدی بند کر دئیے گئے ہیں۔ بھارت کا نظام انصاف بھی مسلمانوں کے معاملات میں بالعموم اور کشمیریوں کے بارے میں بالخصوص گونگا بہرہ اور ناکارہ ہو چکاہے۔ کشمیریوں کو ریلیف فراہم کرنے سے بھارتی عدالتوں کے پر جلنے لگتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کشمیری قیدیوں کی رہائی کی کوئی سبیل نظر نہیں آرہی۔ اسیروں میں بہت سے لوگ صحت کی اچھی حالت میں نہیں، بہت سوں کی عمریں ستر برس تک ہیں۔ دوسری طرف کورونا کیخلاف جنگ میں دنیا انٹرنیٹ سے مستفید ہو رہی ہے مگر کشمیری ڈاکٹر اس سہولت سے محروم ہیں۔ پانچ اگست کے بعد بند کیا ہوا انٹرنیٹ2G کی حد تک بحال تو کر دیا گیا مگر اس کی رفتار نہ ہونے کے برابر ہے۔ گھروں میں مقید لوگ اس سہولت سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔ حقوق انسانی کے حوالے سے سرگرم عالمی تنظیموں نے ان قیدیوں کے حق میں آواز بلند کرکے اچھا قدم اُٹھایا ہے۔ اس عمل میں پاکستان کی کوششیں بھی ہوں گی مگر ان کوششوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف کورونا نے خوف کے سائے پھیلا رکھے ہیں تو دوسری طرف بھارتی فوج آٹھ ماہ سے لاک ڈاؤن کا شکار کشمیریوں کو دوطرفہ تصادم کے نام پر قتل کر رہی ہے۔کشمیر میں تشدد میں اضافے کی بات برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بھی کی گئی ہے۔ حکومت پاکستان کو ان حالات میں کشمیری قیدیوں کی جانوں کی حفاظت کیلئے بھارت پر اپنا سفارتی دباؤ قائم رکھنا چاہئے۔ مودی کی بلائی گئی سارک ویڈیو لنک کانفرنس کی طرح دنیا کے ہر فورم پر اس آواز کو مسلسل بلند کرتے رہنا چاہئے۔