لمحہ فکریہ

کل سبزی خریدتے ہوئے جب سبزیوں کی ہوشربا قیمتوں کے حوالے سے دکاندار سے احتجاج کیا تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا! جناب راستے بند ہیں اخراجات بڑھ گئے ہیں لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے دوچار دنوں کی بات ہے لاک ڈاؤن ختم ہوگیا تو پھر صورتحال معمول پر آجائے گی، پھر آنکھیں گھما کر تھوڑا سا ہمارے قریب ہوتے ہوئے بڑے فلسفیانہ انداز سے کہنے لگا! جناب ہماری سمجھ میں تو آج تک یہ کرونا نہیں آیا؟ اور جناب موت کا ایک دن مقرر ہے اس نے اپنے وقت پر آنا ہے! آج یہ بیانیہ ہر طرف گردش کرتا دکھائی دیتا ہے یہ انتہائی عجیب رویہ ہے ان سے کوئی پوچھے جناب یہ وبا کے دنوں کے حوالے سے جید علمائے کرام نے قرآن واحادیث کی روشنی میں جو ہدایات جاری کر رکھی ہیں وہ کیا ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے؟ ہمارے دین نے ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے بیماری میں علاج کرنے کی ہدایت کی ہے تو ہمیں احتیاط سے کام لینا چاہئے! یہ ہم سب کیلئے ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے ہمارے لوگ ابھی تک ایک قوم بن کر نہیں سوچ سکے، اسی لئے ابھی تک کوئی ایک لائحہ عمل نہیں اختیار کیا جاسکا ایک طرف تاجر برادری لاک ڈاؤن ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی ہے اور پشاور کے بہت سے علاقوں میں آہستہ آہستہ دکانیں بھی کھولی جارہی ہیں۔ تاجر برادری کی طرف سے آسان شرائط پر قرضہ حسنہ بھی مانگا جارہا ہے حکومت نے معاشرے کے پسے ہوئے پسماندہ طبقے کیلئے کسی حد تک امداد کا بندوبست تو کردیا ہے لیکن یہ اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے اس صورتحال میں یہی کچھ ممکن تھا حکومت کو اس وقت مشکل ترین حالات کا سامنا ہے ایک طرف تو کرونا وائرس کی موجودگی پر سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے مطالبات کئے جارہے ہیں اور دوسری طرف یہ وائرس آہستہ آہستہ بڑے غیرمحسوس طریقے سے پھیلتا چلا جارہا ہے جس کی ایک بہت بڑی وجہ لوگوں کی عدم احتیاط بھی ہے۔ ہم نے اپنے بے گناہ کانوں سے بہت سے لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ یار یہ قرنطینہ کس بلا کا نام ہے، مرنا تو ایک دن ہے پھر ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب اس وبا کے حوالے سے موجودہ صورتحال پر نظر پڑتی ہے تو کوئی اچھی تصویر بنتی نظر نہیں آتی! مکمل حفاظتی کٹس کی عدم دستیابی اور مناسب تربیت کے فقدان کی وجہ سے ملک بھر میں طبی عملہ کے ایک سو ستر افراد اب تک کرونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔ ہمارے صوبے میں طبی عملہ کے 16افراد اس موذی مرض سے متاثر ہوئے ہیں، صرف پشاور میں کرونا سے متاثر ہونے والوں میں سات ڈاکٹرز، ایک نرس اور ایک پیرامیڈیکس شامل ہیں۔ ایک اور پریشانی یہ ہے کہ کرونا وائرس کی ہنگامہ خیزیوں کی وجہ سے دوسرے امراض میں مبتلا مریضوں کو ہسپتالوں میں وہ توجہ نہیں دی جارہی جو عام دنوں میں دی جاتی ہے۔ بہت سے مریض جو کسی جان لیوا بیماری کی آخری حدوں تک پہنچ چکے ہوتے ہیں اور جنہیں ہسپتال میں رکھنا ضروری ہوتا ہے سرسری معائنے کے بعد اس تاکید کیساتھ گھر واپس بھجوا دیا جاتا ہے کہ دوائیاں ہم نے لکھ دی ہیں، باقی علاج گھر پر ہوگا۔ بس اپنی احتیاط کریں! ہسپتال جیسی سہولت اور دوسری احتیاطی تدابیر گھر میں کہاں ممکن ہیں؟ اس وجہ سے بھی چند لوگ سفرآخرت اختیار کر چکے ہیں۔ ہسپتال کی بندش کی وجہ سے دوسرے امراض خصوصی طور پر گائنی کی مریض خواتین کی مشکلات کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح پشاور کی اتحاد کالونی میں دو مشتبہ کیسز سامنے آنے پر علاقے کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو گھر وں تک محدود رہنے کی ہدایت کر دی گئی ہے یعنی پورا علاقہ قرنطینہ ہوگیا اس کے علاوہ گھر گھر جراثیم کش سپرے بھی کیا گیا اس سب کچھ کے باوجود علاقے کے لوگ قرنطینہ کو مسترد کرتے ہوئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، ہم لوگ اپنے فائدے کیلئے بھی حکومت کیساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتے، حکومت کو ان تمام مشکلات کا اچھی طرح اندازہ ہے اب ہنگو میں صورتحال بہتر ہونے کے بعد وہاں تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز کھول دی گئی ہیں جبکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال ہنگو کو صرف کرونا مریضوں کیلئے مختص کر دیا گیا ہے، ہمارے لوگ ابھی تک فضول قسم کے مباحثوں میں اُلجھے ہوئے ہیں کچھ لوگوں کا اب بھی یہی ماننا ہے کہ کرونا امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہے جو ہمیں کمزور کرنے کیلئے کی گئی ہے، کیا ہم مضبوط ہیں؟ ہماری معیشت مضبوط ہے؟ سائنس وٹیکنالوجی میں ہم ساری دنیا سے آگے بڑھ چکے ہیں جو ہمیں کمزور کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس بات سے قطع نظر کہ کرونا کہاں سے آیا اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیارکی جاتیں، ہم ہاتھ دھوتے رہیں، ماسک کا استعمال ضرور کریں، جہاں لوگوں کا ہجوم ہو وہاں جانے سے پرہیز کریں، گھروں تک محدود رہیں، صرف انتہائی ضرورت کے سوا باہر نکلنے سے گریز کریں۔ الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں ہمیں نماز جیسی نعمت میسر ہے، قرآن پاک نے ہمیں نماز اور صبر سے مدد مانگنے کی ہدایت کر رکھی ہے، قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے والے کسی خوف کا شکار نہیں ہوتے، ہمیں اللہ کریم سے مدد مانگتے رہنا چاہئے۔