معاشی بحران کے خطرات

وزیراعظم عمران خان نے صورتحال کی درست نشاندہی کرتے ہوئے عالمی برادری سے لائحہ عمل تشکیل دینے کی اپیل کی ہے۔ دنیا کے ترقی پذیر اور قرض دار ممالک کا مسئلہ صرف کورونا وائرس کی ہلاکت خیزیوں سے نمٹنا ہی نہیں بلکہ لوگوں کو بھوک سے بچانے اور عالمی اداروں کو بھاری قرضوں کی اقساط کی ادائیگی بھی ہے۔ ان حالات میں قرضوں کی واپسی کا معاملہ معطل اور تادیر ملتوی نہ ہونا دیوالیہ پن کے خطرات کیساتھ ساتھ عوام کو سخت ترین معاشی حالات اور غذائی بحران سے دوچار کرسکتا ہے، وزیراعظم عمران خان نے لگی لپٹی رکھے بغیر درست کہا ہے کہ بھوک اور بیماری سے لڑنے کیلئے پیسہ نہیں، خدشہ ہے کہ لوگ کورونا کے علاہ بھوک سے نہ مرجائیں۔ ترقی یافتہ دنیا اور مستحکم معیشتیں رکھنے والے ممالک کو کورونا وائرس سے مسائل ہیں جبکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو لاک ڈاؤن کے معاشی اثرات کا بھی سامنا ہے جو روزبروز سنگین سے سنگین تر ہوتے جارہے ہیں حالانکہ ابھی پاکستان میں لاک ڈاؤن کو مہینہ بھی نہیں گزرا مگر فاقہ اور ضرورت لوگوں کو صحت اور زندگی کی پرواہ کئے بغیر معاشی جدوجہد کیلئے نکلنے پر مجبور کررہی ہے۔ عالمی بنک نے پاکستان کی معیشت پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا ہے کہ مجموعی قومی پیداوار 1952ء کے بعد پہلی مرتبہ منفی ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی بنک نے اپنی اس رپورٹ کو رسک کا نام دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معیشت مزید دوسال تک دباؤ کا شکار رہے گی۔ اس امر کے امکانات ہیں کہ رواں مالی سال پاکستان کی شرح نمو منفی1.3فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار اس سے قبل 1952ء میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.80فیصد رہی تھی۔ خدشہ ہے کہ کرونا وائرس کے باعث پاکستان کا بجٹ خسارہ 8.7 سے 9.5تک ہو سکتا ہے جس کے باعث قرضوں کا حجم اور بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ بڑھے گا۔ ڈالر کی قدر میں اضافہ سے پاکستان کا زرمبادلہ ریٹ متاثر ہوگا اس ساری صورتحال میں ملک کے زیریں اور متوسط طبقے کو سخت معاشی حالات کا سامنا ہوگا اس لئے حکومت کو اولین توجہ اس طبقے کو غربت اور بھوک سے بچانے پر دینی ہوگی۔ معاشی ماہرین کو توقع ہے کہ پاکستان اصلاحات کے ذریعے سرمایہ کاروں کیلئے پُرکشش ملک بن سکتا ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس کی ہولناکیوں، اس کے پھیلاؤ اور اموات کی شرح بڑھتی جارہی ہے لیکن اگر محولہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو پابندی میں ناکام لاک ڈاؤن سنگین معاشی اثرات سے عوام کو بچانے اور معیشت کو مزید متاثر نہ ہونے دینے کیلئے لاک ڈاؤن کے ایام میں اضافہ کی بجائے اس میں بتدریج نرمی لانے اور حفاظتی اقدامات وبچاؤ کی تدابیر کیساتھ کاروبار زندگی کو بحال کرنے کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا۔ اس ضمن میں حکومت کے پاس اختیار کرنے کا کوئی اور موزوں موقع نظر نہیں آتا۔ بہرحال اس حوالے سے حکومت اور ماہرین ہی بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں اور وہی اس کے مجاز بھی ہیں، جہاں تک لاک ڈاؤن اور اس سے پیدا شدہ معاشی حالات کا تعلق ہے اس کے باعث سنگین معاشی مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں، مختلف اداروں دفاتر صنعتوں کارخانوں اور نجی تعلیمی اداروں میں تنخواہ پر کام کرنے والے ملازمین کے آجر کاروبار بند ہونے کے عذر کی بناء پر تنخواہوں کی ادائیگی سے معذرت کر رہے ہیں بلکہ بہت سے ادارے ملازمین کی چھانٹی بھی شروع کر چکے ہیں، یہ وہ حالات اور صورتحال ہے جس کے باعث وزیراعظم عالمی برادری سے قرضوں پر ریلیف کی اپیل پر مجبور ہوئے۔ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی ادارے اور ترقی یافتہ ممالک کو اگرچہ حالات کے باعث خود بھی دباؤ کا سامنا ضرور ہے، انسانوں کو اس مشکل صورتحال سے نکالنے اور معاملات میں اصلاح اور نرم رویہ اپنانے کا ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ کے کندھوں پر ہے۔ اس کیساتھ ساتھ دنیا کے امیر ممالک اور ترقی یافتہ دنیا کا کردار ہے جہاں تک پاکستان کے قرضوں کی واپسی کا معاملہ ہے اس حوالے سے پاکستان کے دوست ممالک چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو قرضوں کی واپسی میں خصوصی رعایت دینی چاہئے۔ عالمی برادری قرضوں کی ری شیڈولنگ اور شرح سود کی معافی اور کمی لانے پر سنجیدگی سے غور کرے، اس سلسلے میں وزیراعظم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو خط لکھنے جارہے ہیں بہتر ہوگا کہ یہ صرف ملک کے وزیراعظم کی جانب سے نہ ہو بلکہ پاکستانی قوم کی جانب سے ایک متفقہ اور مشاورت کے بعد تحریر ہونے والا خطہ ہو، وزیراعظم کی عالمی برادری سے خطاب کے موقع پر موزوں لباس زیب تن کرنا یقیناً ضروری تھا جسے تنقید کا نشانہ بنا کر وزیراعظم کی اپیل کی اہمیت کم کرنے کا وتیرہ ملک اور اس کے عوام سے مذاق کرنے کے مترادف ہے۔ مشکل کی اس گھڑی میں سطح نظری کی بجائے بردباری اپنانے سیاسی اختلافات سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور اس وباء پر قابو پانے کی پیہم مساعی کی ضرورت ہے، سیاسی قیادت کو ہم آہنگی کیساتھ درست فیصلے کرنے کا ماحول قائم کرنے کی ضرورت ہے قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔