لاک ڈاؤن کرنے اور نہ کرنے کی پالیسی

قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی مشاورت کے بعد حکومت پاکستان نے ملک بھر میں لاک ڈائون میں دو ہفتے کی توسیع کو ضروری سمجھتے ہوئے بعض شعبوں کو کھولنے کا جو اعلان کیا ہے وہ پہلے سے جزوی اور برائے نام لاک ڈائون کو بھی تقریباً ختم کرنے کے مترادف ہے۔ مخصوص صنعتوں اور کاروباری شعبوں کو کام کرنے کی اجازت دینے کی مجبوری اور ضرورت اپنی جگہ لیکن اس کے برائے نام لاک ڈائون پر اثرات کے بعد لاک ڈائون برائے نام سے بھی برائے نام ہو جائے گا جبکہ دنیا لاک ڈائون پر زور دے رہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ خاص طور پر انتباہ جاری کر چکے ہیں، خوش آئند امر یہ ہے کہ فیصلہ کے باوجود صوبوں کی جانب سے اپنے حالات کے مطابق فیصلے کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سب سے پہلے لاک ڈائون کا فیصلہ کرنے والے صوبہ سندھ کی حکومت کا اس فیصلے سے اتفاق نہیں اور سندھ میںلاک ڈائون کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسے خوش قسمتی ہی قرار دیا جائے گا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو اور اس سے اموات کی شرح پاکستان میں بہت زیادہ نہیں اس کے باوجود کہ لاک ڈائون کی پابندی میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا صورتحال اس قدر تشویشناک نہیں لیکن دوسری جانب اس کی وجہ اموات کو چھپانا اور ٹیسٹس کی نہایت کم تعداد ہے۔ بہرحال ان معاملات سے قطع نظر حکومت کا فیصلہ جہاں ایک جانب عوام کیلئے ریلیف کا باعث ہوگا وہاں اس کے مضر اثرات بھی عین متوقع ہیں۔ لاک ڈائون اور پابندیوں کو ادھورا چھوڑدینے کے تباہ کن نتائج سے بچنے کا واحد ذریعہ اب لوگوںکو مکمل احتیاط اختیار کرنا اورحفاظتی اقدامات کیساتھ ان شعبوں میں کام کا آغاز ہے جس کی اجازت دی گئی ہے، بعض شعبے مثلاً ہیئر ڈریسنگ کا کام ایسا ہے کہ اس میںاحتیاط ممکن ہی نہیں، اسی طرح درزی کے پاس اگر نا پ پہلے سے موجود نہیں تو وہ بھی اچھی صورت نہیں، نیز جن شعبوں کو کھولا گیا ہے اس سے وابستہ دیگر کاروبار کا بھی چوری چھپے جاری رکھنے کا راستہ نکل آئے گا۔ درزی کپڑے لیتا ہے اسے دھاگے، بٹن، کاج اور دیگر اشیاء کی ضرورت پڑے گی اسی طرح کنسٹرکشن کی صنعت سے تقریباً چالیس مختلف کاروبار وابستہ ہیںوہاں بھی یہی عالم ہوگا، یوں لاک ڈائون ایک طرح سے عملی طور پر ختم ہو کر رہ جائے گا، اس کی توسیع رسمی ہی رہے گی۔ اس ساری صورتحال میں متاثر ہونے والے مریضوں کو سماج سے دور رکھنے کیلئے زیادہ سے زیادہ ٹیسٹوں کی ضرورت پڑے گی تاکہ پھیلاؤ کا عمل بے قابو نہ ہو جائے اور حکومت کو ایک مرتبہ پھر بے قابو صورتحال کے باعث مکمل لاک ڈاؤن پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ جن کاروباری شعبوں کو کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے وہاں پر کیا حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں گی؟ آجر اور اجیروں کے تحفظ کی ضروریات اور تقاضے کیا ہیں اور اس پر عملدرآمد کی حکومت اور محکمہ صحت کی طرف سے کیا نگرانی ہوگی اس حوالے سے کسی ٹھوس لائحہ عمل اور انتظامات کا قابل عمل منصوبہ سامنے نہیں آیا۔ پندرہ روزہ توسیع کیساتھ ہی متعدد انڈسٹریز کا کھلنا بڑے خطرے کی بات ہے اور احتیاط کا متقاضی ہے، اگر خدانخواستہ انسانی جانوں کے ضیاع اور وائرس کے پھیلائو میں زیادہ تیزی آئے تو ذمہ داری حکومت پر آئے گی، بہرحال جو ہوا سو ہوا، ایک فیصلہ ہوگیا ہے اب اس کا واحد حل سماجی دوری، فاصلہ اور ممکنہ حد تک گھروں سے نہ نکلنا ہے۔ یہ امر تقریباً یقینی ہے کہ حکومت پر دیگر کاروبار کھولنے کیلئے دباؤ بڑھے گا اور خلاف ورزیاں اتنی ہوں گی کہ قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس حساس فیصلے سے پیدا شدہ حالات کو سنبھالنا ماہرین کا بھی امتحان ہوگا اور حکومت کا بھی، حکومت سے لاک ڈائون کی پابندی کی تو زیادہ توقع نہیں کم ازکم حفاظتی اقدامات اختیار کرنے میں رعایت نہ کی جائے تو غنیمت ہوگی۔