سخت معاشی بحران اور بیروزگاری کے خدشات

خیبرپختونخوا میں لاک ڈائون سے تیرہ لاکھ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کی رپورٹ ایک مفروضہ ہے، ورنہ دیکھا جائے تو صوبے کی 90فیصد آبادی کسی نہ کسی طرح متاثر ہو چکی ہے۔ صورتحال کے معیشت پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی کا جو دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ حقائق کی بنیاد پر اور وسائل کے اندر رہتے ہوئے طے شدہ حکمت عملی ہے یا اجلاسوں کا انعقاد کرنے کی روایت پوری کی گئی ہے اس سے پردہ اُٹھنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، فی الوقت کے اختیار کردہ حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے تو امداد کی تقسیم میں ہڑبونگ، حقیقی ضرورتمند افراد کے امداد سے محروم رہ جانے کی بڑھتی شکایات کے علاوہ ہسپتالوں میں طبی عملے کو وائرس سے تحفظ کیلئے ضروری سامان کی عدم فراہمی جیسی صورتحال ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ تمام اقتصادی اشارے معاشی صورتحال کی خرابی کی تصویر دکھا رہے ہیں اور اب خرابی وہ نہیں جو عام حالات میں ہوتی ہے بلکہ ان غیرمعمولی حالات کے اثرات نہایت سنگین ہوں گے۔یومیہ اُجرت والوں کو ابھی کام نہیں مل رہا ہے، دکانداروں کا کاروبار بند ہے، فیکٹریوں میں یا کام مکمل طور پر بند ہے یا پھر جزوی طور پر جاری ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں نے کارکنوں کو فارغ کردیا ہے، ٹرانسپورٹ بند ہے، کاریگروں اور اجیروں کو اگر فارغ نہیں بھی کیا گیا ہے تو وہ نیم بیروزگاری کا شکار ہیں۔ ان کو تنخواہوں کی ادائیگیاں نہیں ہورہی ہیں، صورتحال اس قدر ہولناک ہے کہ جب لاک ڈائون ختم ہونے کے بعد لوگ گھروں سے نکل کر روزگار تلاش کریں گے تو ہر کسی کو فوری طور پرروزگار نہیں مل سکتا، صورتحال کو معمول پر آنے میںکتنا وقت لگتا ہے اور حالات کب بہتری کی طرف آنا شروع ہوجائیں گے اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں، حکومت نے جہاں امدادی رقم کی تقسیم سے ایک خاص طبقے کے کچھ حصے کو وقتی ریلیف دینے کی کوشش کی ہے وہاں بجلی اور گیس کے بلوں میں رعایت کی بھی ضرورت ہے۔ آٹے، دال اور دیگر ضروری لوازمات کے نرخوں پر اتنی سبسڈی تو دے کہ لوگ ان کو خریدنے کے قابل ہوسکیں۔ حکومتوں کی منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث مسائل حل ہونے کی بجائے نئے اور سنگین مسائل کے سامنے آنے کا خدشہ ہے، عام آدمی اب بھی مشکلات سے دوچار ہے اور بعد میں بھی ان کی مشکلات میں کمی کی بجائے اضافہ کا خطرہ ہے۔ منصوبہ بندی اور بردباری سے حالات سے نمٹنے کے اقدامات نہ کئے گئے تو بڑا انسانی المیہ پیش آسکتا ہے جس کی شدت کورونا سے ہلاکتوںسے خدانخواستہ کم نہ ہوگا۔
قیدیوں بارے ترک پارلیمان کے فیصلے کی تقلید کی جائے
کورونا وائرس پھیلنے کے باعث ترک پارلیمان میں قیدیوں کی رہائی کا قانون منظور کرلیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر45ہزار قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا، نہایت سنگین جرائم میں ملوث قیدیوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، وطن عزیز میں پارلیمان کا اجلاس طلب کرنے میں نہ تو حکومت کو دلچسپی ہے اور نہ ہی حزب اختلاف اجلاس طلب کرنے کی درخواست جمع کرانے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قیدیوں کی رہائی کاجو حکم دیا تھا اسے عدالت عظمیٰ معطل کر چکی ہے، قیدیوں کی رہائی تو درکنار جیلوں میں اپنی سزا بھگتتے قیدیوں کو قیدیوں کے حقوق اور ان کا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خیال رکھنے کی حالیہ وباء کے دوران کوئی نظیر سامنے نہیںآئی۔ کسی حکومتی اعلیٰ عہدیدار نے کسی بندی خانے کا دورہ نہیں کیا، سیاسی عمائدین سے تو اس کی توقع نہیں البتہ جماعت اسلامی کے امیر نے ملتان جیل میں قیدیوں سے ملاقات اور ان کی مدد کا فریضہ ضرور نبھایا ہے۔ الخدمت کی خدمات مخفی نہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے سرکاری عمال کو خدمت گزاروں کی خدمت بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ کرک میں الخدمت کے کارکن پر تشدد کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر کیخلاف ہنوز سخت تاددیبی کارروائی ہونی چاہئے تھی مگر اس کا کوئی نوٹس ہی نہیں لیا، بہرحال خیبرپختونخوا کے قیدخانوںخاص طور پر سنٹرل جیل پشاور میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی قابل توجہ مسئلہ ہے قانون سازی اور آرڈیننس کے ذریعے حکومت اگر ترکی کی طرح قیدیوں کو رہائی نہیں دلا سکتی تو کم ازکم جیل قوانین اورانسانی حقوق کے تقاضے تو قیدیوں کا حق ہے جس سے ان کو محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں، ترکی کی حکومت کی جہاںحکمران وعوام تعریف کرنے اور ان کی مثالیں دینے سے نہیں تھکتے تو کیا قباحت ہے کہ ترکی کی طرح پاکستان میں بھی ایک خاص عمر اور سزائوں کی نوعیت کے مطابق ان کورعایت دی جائے ، جتنی سزا وہ اب تک بھگت چکے ہیں اس کو کافی جانا جائے اور ان کو رہائی کا فیصلہ کیا جائے۔
بروقت اقدامات
کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی ہسپتالوںمیں کونسلنگ کیلئے ماہرین نفسیات کی خدمات کا حصول اور وزیراعلیٰ ای رضاکار پروگرام کا اجراء اور ٹول فری نمبر سے رابطہ کی سہولت مشکل وقت میں حکومت کی طرف سے عوام کو ایک آسان اور مناسب وقابل رسائی پلیٹ فارم کی فراہمی ہے۔ لاک ڈائون اورمعاشرتی فاصلوں کی پابندی کے باعث اب نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جس پر قابو پانے کیلئے حکومتی اور نجی میڈیا ہائوسز کو روزانہ کی بنیاد پر ماہرین نفسیات اور ذہنی امراض کے ممتاز معالجین کیساتھ سوال وجواب کی باقاعدہ نشست کا اہتمام کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ گھروں میں رہنے کی مجبوری اور ہسپتالوں میں اوپی ڈی کی سہولیات کی معطلی کے باعث مریضوں کی مشکلات کے ازالے مشاورت اور علاج یا پھر کم ازکم ان کے مرض کو پیچیدہ ہونے سے بچانے کیلئے ابتدائی طبی مشورہ اور علاج کی سہولت کی فراہمی میں وزیراعلیٰ ای رضا کار پروگرام معاون ثابت ہوگا۔ اس پروگرام میں رضاکارانہ طور پر خدمات کی انجام دہی کرنے والے بجا طور پر قابل تحسین اور نیکی کما کر مالک حقیقی کے حضور سرخروں ہوں گے، مشکل وقت میں یہ فریضہ سر انجام دینے والے کسی داد کے محتاج تو نہیں لیکن حکومت حوصلہ افزائی کیلئے ان کو اعزاز دے تو مناسب ہوگا۔