مذمت اور مرمت ساتھ ساتھ چلے

دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ڈی جی ساؤتھ ایشیا زاہد حفیظ چوہدری نے اسلام آباد میں مقیم بھارتی ناظم الامور گرو اہوالیا کو دفترخارجہ میں طلب کرکے کنٹرول لائن پر ہونے والی بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا گیا ہے، بھارتی سفارتکار کو بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج نے بارہ اپریل کو کنٹرول لائن کے دودنیال، رکھ چکری، چڑ ی کوٹ اور بروہ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی جس میںدو سال کا بچہ شہید اور چار افراد زخمی ہوئے۔ بھارتی نمائندے کو بتایا کہ بھارت کنٹرول لائن پر تناؤ بڑھا کر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ نہیں ہٹا سکتا۔ بھارت کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی علاقائی امن وسلامتی کیلئے خطرہ ہے۔ بھارتی سفارتکار سے رسمی احتجاج بھی ایک سفارتکاری کا انداز سہی مگر پاکستان اور بھارت کے معاملات رسمی احتجاج سے کہیں آگے بڑھ گئے ہیں۔ جس دن دودنیال سیکٹر میں بھارتی گولہ باری سے دو سال کا معصوم شہید ہوا عین اسی دن کپواڑہ میں کنٹرول لائن سے بتیس میل دور ریڈی قصبے میں سات سال کا ایک بچہ گولہ لگنے سے شہید ہوا۔ بھارتی فوج نے یہ تاثر دینے کی بھرپور کی کوشش کی کہ یہ بچہ پاکستان کی کارروائی میں شہید ہوا ہے مگر کنٹرول لائن سے میلوں کی مسافت پر پاکستان کی گولہ باری سے نقصان ہونا ایک عجیب سی بات تھی۔ یہ حقیقت اس وقت عیاں ہوئی جب اس قصبے کے مکینوں بالخصوص شہید ہونے والے بچے کی چچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ گولے بھارتی فوج نے داغے تھے۔ انہوں نے کنٹرول لائن کی جانب اس جنگل کی جانب اشارہ کیا جہاں بھارتی فوج موجود ہے۔ اس طرح ایک اور ویڈیو میں اسی علاقے میں مقامی لوگوں کو جن میں خواتین بھی شامل تھیں ایک وسیع میدان میں جمع ہو کر احتجاج کرتے دکھایا گیا ہے۔ یہ لوگ اس گراؤنڈ میں بھاری توپیں یعنی بوفرز تنصیب کرنے کیخلاف احتجاج کررہے تھے اور بھارتی فوج ان مظاہرین کو ڈرا دھمکا رہے تھے۔ یہ صورتحال خطے میں کشیدگی کے ایک نئے دور کے آغاز کا اشارہ ہے جو بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو قتل کرنے میں لمحوں کی تاخیر نہیں کرتی اسے کنٹرول لائن کے اندر ہی مقبوضہ کشمیر کے باشندوں پر گولہ باری کرنے میں کیا ہچکہاہٹ ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر مقبوضہ کشمیر میں شہید کے گئے بچے کی شہادت پر بھی بھارتی ناظم الامور سے احتجاج ہونا چاہئے تھا ایسے میں جب خود بچے کے لواحقین نے اس گولہ باری کا الزام بھارتی فوج پر عائد کیا ہے۔ یہاں احتجاج کرنے والوں نے الزام عائدکیا ہے کہ بھارت عام کشمیریوں کو ''ہیومن شیلڈ'' کے طور پر استعمال کر رہا ہے اس کیلئے گنجان آبادیوں کے قریب ''بوفرز'' توپیں نصب کی جا رہی ہیں۔ ان توپوں سے جب آزادکشمیر پر گولہ باری ہوگی تو جواب میں پاکستانی فوج بھی انہیں تلاش کرکے نشانہ بنانے کی کوشش کرے گی اور اس کے نتیجے میں نشانہ خطا ہونے کی صورت میں نقصان عام لوگوں کو ہی اُٹھانا پڑے گا۔ بھارت کے روئیے کی مذمت تو بجا مگر معاملات اب مذمت سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ بھارت کی مرمت بھی مذمت کے پہلو بہ پہلو جاری رہنا ضروری ہے۔ کشمیر میں پانچ اگست کے بعد ایک نئی صورت گری ہونے کو ہے۔ جہاں بھارت نے پانچ اگست کے بعد کی صورتحال کو سنبھالا دینے کیلئے ''اپنی پارٹی'' کے نام کی جماعتیں بنوانا شروع کی ہیں اور نئے چہروں کو نئے انداز سے پیش کرنا شروع کیا ہے وہیںگزشتہ دنوں ملنے والی خبروں کے مطابق مقبوضہ علاقے میں تحریک ملت اسلامی جموں وکشمیر کے نام سے ایک نئی مسلح تنظیم وجود میں آچکی ہے جبکہ اس سے پہلے بھارتی میڈیا نے خبر دی تھی کہ کشمیر میں جموں وکشمیر فائٹرز نام کی ایک تنظیم وجود میںآچکی ہے جس میں مقامی نوجوان بڑی تعداد میں شامل ہو رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں بھارتی فوج کیخلاف چھاپہ مار کارروائیوں میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ اب حریت پسندوں کی سرگرمیاں دوبارہ جموں اور پونچھ تک وسیع ہورہی ہیں۔ یہ بکھرے ہوئے واقعات مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت کے ایک نئے دور کے آغاز کا پتا دے رہے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس میں کوئی اچنبھا بھی نہیں کیونکہ بھارت نے پانچ اگست کو کشمیریوں کی رہی سہی اُمید بھی غرقاب کر دی ہے۔ اب ان کی مایوسی اپنی آخری حدوں کو چھورہی ہے۔ جب کسی قوم سے اُمید چھن جائے تو وہ مزاحمت اور بغاوت کو اپنا شعار بنا لیتی ہے۔ پانچ اگست کے بعد کشمیری ''اب یا کبھی نہیں'' کے مقام پر کھڑے ہوگئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اگر انہوں نے بھارت کے عزائم کا جواب پوری قوت سے نہ دیا تو کشمیر میں ایک اور غرناطہ کی تاریخ دہرائی جائے گی۔ بھارت کے عزائم اور ارادوں سے بھی یہی کچھ مترشح ہے۔ مودی جس مائنڈ سیٹ کے نمائندے اور ترجمان ہیں اس میں مسلمانوں کیلئے عزت اور عافیت کی کوئی جگہ نہیں۔ آج جب دنیا کا مسئلہ نمبر ایک کورونا وائرس اور اس کی تباہ کاریاں ہیں مگر جنوبی ایشیا کا مسئلہ اول اس وقت بھی کشمیر ہے۔ کشمیر کی سرزمین پر ایک جنگ جاری ہے جو آنے والی کئی جنگوں اور حادثات کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ دنیا نے اس کا احساس نہ کیا تو جنوبی ایشیا کا مستقبل زیادہ روشن دکھائی نہیں دیتا۔