تبدیلی اپنے اندر بھی ضروری ہے

حکومت کے کسی بھی اقدام سے مکمل اتفاق ممکن نہیں، یہ صورتحال اس وقت اور بھی سوا ہو جاتی ہے جب معاملہ اصولی نہ ہو۔ ایسی صورت میں ہر ایک شخص کو اپنی رائے حتمی اور بالکل درست معلوم ہو جاتی ہے۔ میڈیا کی آزادی کے نتیجے میں اس حتمی رائے کا اظہار دو چند ہو جاتا ہے اور معاملات میں ایک نئے اُلجھائو کو جنم دیتا ہے۔ جس معاشرے میں تحقیق کی گنجائش یا سکت نہ ہو وہاں ذاتی مرضی، عناد یا معلومات کی حد بے شمار حتمی آراء کو جنم دیتی ہے حالانکہ ایک معمولی فہم کا انسان بھی کم ازکم اتنا ضرور سمجھ سکتا ہے کہ رائے کبھی حتمی ہو ہی نہیں سکتی۔ معاملات اور حالات کی تبدیلی سے رائے میں تبدیلی لازمی ہے۔ پھر علم کی حد بھی رائے کے رنگوں پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ بہرحال ہمارے معاشرے میں اس ساری بحث کی کوئی جگہ نہیں۔ ہم میں سے ہر ایک عقل کل ہے اور ہر دوسرے کی غلطی کو سدھارنے کا ذمہ داربھی لیکن خیال رہے کہ ہم میں سے کم ہی لوگ خود اپنے آپ کو سدھارنے کے ذمہ دار ہیں۔ اکثریت میںیہ خیال بھی غالب ہے کہ وہ کمال کی شخصیت اور عقل کے مالک ہیں، معاملہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ اب مزید سدھار کی گنجائش ہی نہیں یعنی کمال کو اور کیا کمال نصیب ہوگا۔ اب معاملہ جب اس قدر حتمی کیفیت اختیار کرگیا ہو تو ظاہر ہے تبدیلی کی گنجائش ہمیشہ دوسروں میں ہی باقی رہتی ہے۔
کورونا کی آمد سے ملک میں ہی نہیں پوری دنیا میں بے یقینی کی کیفیت ہے لیکن ہمارا کمال اب بھی وہی ہے کہ اس بے یقینی میں بھی ہمیں کچھ باتوں کا ہمیشہ یقین رہتا ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ کچھ لوگوں کو کچھ باتوں کا یقین ہے جبکہ کچھ اور لوگوں کو کچھ اور ہی باتوں کا یقین ہے۔ مثلاً چین میں کورونا شروع ہوا، حکومت نے اپنی پالیسی کا اعلان کیا کہ وہ چین سے پاکستانیوں کو واپس نہیں لائینگے کیونکہ پاکستان کے پاس نہ تو ایسی طبی سہولتیں موجود ہیں اور نہ ہی وسائل کہ کسی ایسے وائرس کو مقید کرنے کیلئے لوگوں اور معاشرے کی رفتار روک دی جائے۔ خاصے تندوتیز اعتراضات ہوتے رہے، حکومت کو باربار نااہل پکارا گیا اور پھر جب ایران سے پہنچنے والے زائرین کو ملک میں آنے دیا گیا تو وہ بھی درست نہ تھا۔ اب اصل بات تو یہ ہے کہ ملا نصیرالدین کے گدھے کی کہانی کی طرح گدھے کو خالی چلائیں یا اس پر سواری کریں کسی نہ کسی کو اعتراض ضرور ہوتا ہے۔ ایران سے آئے زائرین سے کورونا خاصی تیزی سے پھیلا اس کا الزام حکومتی مشیروں پر تو نہایت آرام سے لگا دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کا کمال یہ ہے کہ یہ اب صرف سازش سازش پکار کر خبروں میں رہتے ہیں۔ انہیں ہر بات میں سازش دکھائی دیتی ہے۔ ان کے اثاثوں کے بے محابہ حجم کی بات کرو تو سازش ان کی بات ہی نہ کرو تو سازش، انہیں ملک میں رہنے دو تو سازش نہ رہنے دو تو سازش، سو اس فیصلے میں بھی سازش تھی۔ ایک غیرجانبدار تجزیہ کار یہ دیکھ سکتا تھا کہ دراصل اس سازش کی پکار سے سُنی، شیعہ تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ معاملہ تب خاموش ہوا جب حکومتی مشیر زلفی بخاری نے خواجہ آصف پر ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔ بات یہیں تک محدود نہیں جب کرونا کی وباء ملک میںپھیلنی شروع ہوئی وزیراعظم نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا کہ ہمارا ملک لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دیہاڑی دار بھوکے مرنے لگیں گے لیکن پھر مجبوراً لاک ڈائون کرناپڑا کیونکہ ملک بیماری کی شدت برداشت کرنے کا بھی اہل نہیں۔ اعتراضات ہی اعتراضات ہوتے رہے، کسی نے کہا لاک ڈائون میں دیر کی، کسی نے کہا ان کو دیہاڑی داروں کا کیاپتا ہے۔ اب جب جزوی لاک ڈائون ختم کیا گیا ہے اب بھی ہر قسم کی رائے ہے جو مارکیٹ میں موجود ہے اور بیچارے عوام کس کا یقین کیجئے کس کا نہ کیجئے لائے ہیں بزم سے یار خبر الگ الگ کی تفسیر ہیں۔ خود ان کی بھی اپنی اپنی رائے ہے جو ان کیلئے سب سے زیادہ صائب ہے لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اصل معاملہ ذرا مختلف ہے کیونکہ آخر میرا بھی اسی قوم سے تعلق ہے تو اپنی رائے تو رکھوں گی۔
اس وقت حکومت جو کر رہی ہے، اپوزیشن جو کہہ رہی ہے، لوگ جو سمجھ رہے ہیں اس سب سے کہیں زیادہ اہم بات ہے کہ ہم سب یہ سمجھ لیں کہ جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں ان میںکوئی مکمل صحیح یا مکمل غلط فیصلہ نہیں۔ یہ بیماری، یہ وباء جس کا ہم اور پوری دنیا مقابلہ کر رہی ہے بالکل نئی ہے۔ نہ اس کا علاج ہمارے پاس موجود ہے اور نہ ہی اس سے بچائو کے واضح طریقے ہیں۔ چند چیزیں معلوم ہیں وہ بھی اندازے ہی ہیں، کئی اندازے اب تک غلط ثابت ہوچکے ہیں سو صورتحال میں بڑی غیریقینی سی کیفیت ہے۔ پہلے یہ کہا جارہا تھا کہ26ڈگری سے اوپر یہ وائرس زندہ نہیںرہ سکتا، اب یہ بات بھی غلط ثابت ہوچکی۔ پہلے خیال تھا کہ یہ چمگادڑیں کھانے سے پھیلا پھر تحقیق سے یہ بات بھی ثابت نہ ہوسکی، کئی ابہام ہیںاور جواب ندارد ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ صحیح غلط کے حتمی نتائج جاری کرنے کے بجائے عوام پر اور ان کی مشکلات پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔ حکومت نے جزوی لاک ڈائون ختم کیا ہے احتیاط کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ لوگوں کو یہ احساس دلایا جانا بھی ضروری ہے۔ اس حکومت کا پہلے دن سے ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ یہ خود سب سے زیادہ ایماندار، سب سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ انہیں نہ کوئی مشورہ دیا جاسکتا ہے نہ ہی یہ کسی پر اعتبار کرتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایماندار ہیں لیکن کم عصر ہیں اور انہیں ابھی بیوروکریسی چھانٹنے کا تجربہ ہی نہیں اسی لئے اکثر غلطیاں کرتے ہیں۔ چونکہ رائے سننے کے عادی نہیں اسلئے غلطیوں میں سدھار کا امکان نہیں۔ ان کی ٹیم میں کئی ایسے اعلیٰ پائے کے جانباز ہیں جو کرونا میں بھی معیشتی سرگرمیوں سے کسی صورت باز نہیں رہتے۔ اگر یہ ذرا بھی اپنی کیفیت میں تبدیلی پیدا کریں تو معاملات میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ ابھی انہیں بیوروکریسی کو سمجھنے میں اک عمر لگے گی لیکن یہ عمر ان کے پاس نہیں ہے ۔ سو بہتر ہے تحقیق اور عقل سے کام لیا جائے ورنہ اعتراض تو یوں بھی ہو رہے ہیں بعد میں بھی ہوتے رہیں گے لیکن عمران خان جو اس ملک کیلئے معجزاتی اور کرشماتی تبدیلیاں چاہتے ہیں وہ ممکن ہی نہیں۔ تبدیلی اپنے اندر بھی بہت ضروری ہے۔