قوموں کا عروج وزوال

قوموں کے عروج وزوال کے حوالے سے جو فلسفہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے وہ سبق آموز ہونے کیساتھ عبرت انگیز بھی ہے۔ قرآن کریم میں فرعون، نمرود، ہامان، قوم عاد وثمود جیسی طاقتور اورجابر اقوام کا ذکر جن سورتوں میںآیا ہے ان کے نزول اور ان میںبیان شدہ قصوں کا مطلب یہ تھا اہل مکہ ان سے عبرت اور سبق حاصل کریں۔ جس طرح فرعون جیسے بڑے بادشاہ نے مصر کے باشندوںکو کئی جماعتوںمیں تقسیم کیا تھا اور انہی میں ایک بنی اسرائیل کی حمایت بھی تھی جو فرعونوں کے شدید مظالم پر اُف نہیں کرسکتے تھے اور پھر جب فرعون کے مظالم حد سے تجاوز کر گئے تب اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ فرمایا اُس کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ پر آیا ہے لیکن سورة قصص میں بہت ہی قابل غور انداز میں آیا ہے ''اور ہم نے چاہا کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور کیا ہوا ہے ان پر احسان کریں اور ان کو پیشوا بنا دیں اور انہیں وارث بنا دیں اور زمین میں انہیں حکومت دے دیں اور فرعون وہامان اور ان دونوں کے لشکروں اور مستضعفین کی جانب سے وہ واقعہ دکھلائیں جس سے وہ اپنا بچاؤ چاہتے تھے''۔
دنیا میں کسی جماعت اور قوم کو اقتدار ملنے اور اُس سے محروم ہونے کیلئے قرآن کریم میں دو سادہ اصول بیان ہوئے ہیں۔ جب کسی قوم میںکچھ ایسی صلاحتیوں والے لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جن میںکائنات اور اہل کائنات کیلئے خیر ونفع کا پہلو موجود ہوتا ہے۔ اُن کے اخلاقی معیارات میں علم، تحقیق اور ایجادات اس انداز سے ہوتی ہوں کہ بنی نوع انسان کیلئے نفع بخش ہوں تو وہ قومیں عروج کی طرف گامزن ہوتی ہیں۔
یہاں پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ افراد کے نیک وبداعمال کا معاملہ قیامت پر موقوف کئے ہوئے ہیں جبکہ اقوام کا معاملہ دنیا ہی میں اُن کے اجتماعی کردار کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔ اس نکتے کے مطابق دنیا کا اقتدار وراثت اُن لوگوں کو ملتی ہے جو صالح ہوتے ہیں۔ صالحیت سے مراد یہاں انفرادی واجتماعی صالح اقدار کے علاوہ انسانیت کیلئے امن، خوشی، محبت، عدل اجتماعی اور احترام انسانیت مراد ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے دنیا کے مختلف حصوں پر سینکڑوں برس حکومتیں کی ہیں اور دنیا کی ساری اقوام سے زیادہ وطویل مدتوں تک کی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ مدینہ طیبہ میں اللہ تعالیٰ نے مکہ المکرمہ کے ضعیت صحابہ کرام کے ہاتھوں جو ریاست قائم کی اُس کی سب سے بڑی خوبی عدل اجتماعی تھی۔ مذہب اور زبان سے ہٹ کر انسانیت کی بنیاد پر سب کیلئے ایک ہی قانو تھا۔ انسانی حقوق واقدار میں سب برابر کے شریک تھے یہی وجہ تھی کہ مختلف ادوار اور علاقوں میں مسلمانوںکی حکومتیں جاری رہیں اور انسانیت کو اُن کے ذریعے خیر وفلاح پہنچتی رہی لیکن اُن کی حکومتوں میں نفع بخشی کا نظام کمزور پڑا اور صرف بادشاہت رہ گئی تو اقتدار دنیا کے دیگر اقوام کے ہاں منتقل ہوا۔ یورپ بالخصوص برطانیہ نے تو اتنی ترقی کی کہ ان کی سلطنت پر سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔ عدل اجتماعی (سوشل جسٹس) کیخلاف جب بھی جہاں بھی ظلم شروع ہوتا ہے توایک نہ ایک دن ظلم کا زور ضرور ٹوٹے گا اور نظام اقتدار اُن لوگوں کے حوالے ہوگا جن کیلئے قرآن کریم مستضعفین (کمزور لوگ، سیکنڈ درجے کے شہری) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ مکہ المکرمہ میں اسلئے باربار مکہ کے اشرافہ (نام نہاد بڑوں) کو تنبیہ کی گئی کہ دیکھو باز آجاؤ ورنہ تاریخ عالم کا اصول یہی رہا ہے کہ ظلم جب انتہاؤں کو چھونے لگتا ہے تو زوال کھاتا ہے، پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ ابوجہل جیسا جابر، متکبر اور ظالم دو نوخیز لڑکوں کے ہاتھوں انجام کو پہنچا۔ برطانیہ اور یورپ جب تک اپنے علوم، تحقیقات اور نظام حکومت (ڈسپلن) اور سخت محنت کے ذریعے دنیا کو دیگر اقوام کے مقابلے میں ڈیلور کرتا رہا تو دو صدیوں تک اُن کی حکومت چلتی رہی لیکن پھر ہندوستانی مستضعفین کے ذریعے نظام تبدیل ہوا۔ اس وقت دنیا میں جو صورتحال برپا ہے سادہ لفظوں میں یہی ہے کہ دنیا بھر کے مستضعفین (خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے) بہت مشکلات اور تکالیف میں ہیں۔ نظام کائنات تحقیقات وتخلیقات کے باوجود عدل اجتماعی سے محروم ہے۔ بھارت سپرپاور اور مغرب کی چشم پوشیوںکے سبب مقبوضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ 70برسوں سے جو کرتا آیا ہے آج وہ مظالم کی انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی یہی بات اظہر من الشمس ہے۔ انسانیت انسانوں کے ہاتھوں لہولہان ہے، ماحولیات تباہ وبرباد ہے۔ کارپوریٹ نظام میں اہمیت وفضیلت صرف مادے ہی کو حاصل ہے، کیا پلڑا پلٹنے کا وقت آن پہنچا ہے؟ کیا مسلمان امت حامل قرآن وسنت ہونے کے سبب اس خلاء کو پر کرنے کیلئے اپنے ہاں حقیقی تبدیلیوں پر غور کرنے کیلئے تیار ہے! اہل دانش کا فرض ہے کہ اہل اقتدار کو سمجھانے کا فریضہ ادا کریں۔