اس دور ناگوار میں جینا محال ہے

نہ پائے رفتن نہ جائے ماندن والی صورتحال ہے، حکومت نے لاک ڈائون میں مزید دو ہفتے تک جزوی توسیع کرتے ہوئے بعض شعبوں کو لاک ڈائون سے مستثنیٰ بھی کردیا ہے حالات مگر بہت سے طبقوں کیلئے قابل برداشت کے دائرے سے نکل چکے ہیں، کراچی اور بلوچستان کے تاجروں نے مزید لاک ڈائون کو مسترد کرتے ہوئے کاروبار شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے اور نتائج کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے، سندھ حکومت نے اس صورتحال کی مزاحمت کا فیصلہ کیا ہے مگر کراچی کے تاجروں نے اعلان کیا ہے کہ اگر انہیں روکا گیا تو وہ جیل جانے کو بھی تیار ہیں اور چابیاں لاکر وزیراعلیٰ ہائوس کے سامنے رکھ دیں گے۔ پشاور میں بھی تاجروں نے لاک ڈائون مسترد کرتے ہوئے آج سے دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایک دوسری خبر میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ صرف تجویز ہے،البتہ ملک بھر میں علمائے کرام نے مساجد پر مزید پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے نہ صرف باجماعت نمازوں کی ادائیگی کا اعلان کر دیا ہے بلکہ رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح اور اعتکاف کا سلسلہ جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمن نے کراچی میں مفتی تقی عثمانی، علامہ راشد سومرو، محمد حسین محنتی اور مولانا انس نورانی کیساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا، انہوں نے عبادات کے حوالے سے تمام تر احتیاطی تدابیر کیساتھ نماز وتراویح وغیرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ اور بیمار لوگ مساجد نہ آئیں، گھروں پر عبادات کا اہتمام کریں، انہوں نے کہا کہ امام کا کام نہیں کہ لوگوں کو نماز ادا کرنے سے روکیں، ادھر گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن نے بھی کہا تھا کہ اگر بینکوں اور بازاروں میں لوگ جمع ہوتے ہیں تو مسجد میں کیا قباحت ہے، انہوں نے بھی کہا تھا کہ کسی کو منع کرنا امام کا کام نہیں ہے۔ اب ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دلانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے اگر بچنے کیلئے14دن احتیاط کی جائے یعنی سوشل روابط سے گریز کیا جائے تو یہ وائرس خودبخود ختم ہو جاتا ہے اس بات کو لیا جائے تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ملک کے اندر لاک ڈائون کو پہلے ہی14روز سے بھی زیادہ ہوچکے ہیں اس لئے اس میں مزید توسیع کا کیا جواز بنتا ہے تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عام لوگوں نے اس اصول پر پوری طرح عمل بھی تو نہیں کیا، اور اس دوران ملک کے مختلف حصوں سے مزید مریضوں کے سامنے آنے کی اطلاعات آتی رہی ہیں، بلکہ اب بھی بیرون ملک کئی ملکوں میں بہت سے پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں اور ان کی واپسی کے بعد انہیں قرنطینہ میں رکھنے کے بارے میں سوچ بچار کی جارہی ہے، اس ضمن میں بعض خلیجی اور عرب ملکوں میں مختلف مزدوری کیلئے جانے والوں کی جو دگرگوں حالت ہے کہ ان کو ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا ہے اور متحدہ عرب امارات نے ان ممالک کو یہاں تک دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اپنے شہریوں کو واپس نہیں بلائیں گے تو ایسے ممالک کیساتھ معاہدوں پر نظر ثانی کریں گے گویا ایسے ممالک کیلئے آئندہ ملازمتوں کیلئے ویزے جاری نہیں کئے جائیں گے، غالباً اس دھمکی کے بعد ہی پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے ہیں اور ایک دو روز میں خصوصی پروازوں کے ذریعے پاکستانیوں کو واپس لانے کا عمل شروع کیا جارہا ہے۔ اب اس میں متحدہ عرب امارات یا دوسرے عرب اور خلیجی ممالک کا کیا قصور کہ یہ تو ایک ایسی صورتحال ہے جہاں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے، ہر ایک کو اپنی فکر لاحق ہے گویا قیامت نہ ہوتے ہوئے بھی قیامت کا سماء ہے، نفسانفسی ہے اور جن سے اپنے عوام آسانی سے نہیں سنبھالے جارہے ہیں وہ دوسروں کے باشندوں کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ ایسی صورت میںہمیں من حیث القوم جس قسم کے رویئے اختیار کرنے چاہئیں بدقسمتی سے ان کی نفی کی کیفیت سے ہم دوچارہیں، جہاں حکومت حزب اختلاف پر ان حالات میں بھی تبرہ تولنے سے باز نہیں آئی اور مخالف جماعتوں کی جانب دست تعاون بڑھانے پر آمادہ نہیں ہے حکومتی رویئے سے شاکی ہو کر ہر اس اقدام میں کیڑے تلاش کرنے میں مصروف ہے جس کا مقصد عوام خصوصاً غریب طبقے کی داد رسی ہو۔ بلاول بھٹو زرداری اور مریم اورنگزیب کے بیانات کو اگر تحریک انصاف کے مخالفین کے بیانات سمجھ بھی لیا جائے تو اس کا کوئی جواز بھی بنتا ہے کہ دونوں حزب مخالف جماعتوں اور تحریک انصاف کے بیچ سیاسی اختلافات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، تاہم افسوس تو اس بات کا ہے کہ جماعت اسلامی اور بعض دیگر سیاسی جماعتیں بھی حکومتی رویئے سے نالاں ہیں اگرچہ وہ چاہتی ہیں کہ مصیبت کی اس گھڑی میں حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک قومی بیانیہ مرتب کرے اور اس صورتحال سے متحد ہو کر باہر نکلنے کی تدبیر کی جائے۔بات لاک ڈائون میںکچھ نرمی اور کچھ سختی، کہیں اس پر مزید عمل درآمد نہ کرنے اور اس لاک ڈائون کو توڑ کر سماجی سرگرمیاں بہرصورت بحال کرنے سے چلی تھی یعنی صورتحال نیمے دروں، نیمے بروں والی ہے، اگر تاجروں نے مزید لاک ڈائون سے انکار کر دیا ہے تو اس کی وجوہات بھی حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ لوگ بھوکے مرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، اللہ نہ کرے کہ کل کوئی کسی ''بے قابو'' ہجوم کو یہ مشورہ دینا شروع کر دے کہ روٹی نہیں ملتی توکیک پیسٹری کھا لیا کرو۔ اللہ بچائے
ہمیں بھی آپ سے اک بات عرض کرنا ہے
پر اپنی جان کی پہلے امان مانگتے ہیں