کورونا ٹیموں کا بائیکاٹ

11 ماہ سے معاوضہ نہ ملنے پر انسداد کورونا ٹیموں نے بائیکاٹ کردیا

11 ماہ سے معاوضہ کی بندش کے باعث محکمہ صحت کے رپیڈ رسپانس ٹیموں نے کورونا ٹیسٹنگ کیلئے لوگوں سے نمونے لینے کا سلسلہ معطل کرتے ہوئے اس سلسلے میں ڈیوٹیوں سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کردیا ہے اس سلسلے میں ہڑتال کی پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی حمایت کی گئی ہے کورونا رپیڈ رسپانس ٹیموں کیلئے اعزازیہ محکمہ صحت نے خود طے کیا تھا اور کئی مہینے تک جاز ایزی پیسہ اکائونٹ کے ذریعے ٹیموں کے اہلکاروں کو دیا گیا لیکن اس کے بعد سے یہ معاوضہ بند کردیا گیا ہے اس مقصد کیلئے گذشتہ کئی ہفتے سے محکمہ صحت کے ڈائریکٹوریٹ کو اضلاع کے ہیلتھ افسران کی جانب سے ڈیمانڈ بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے تاہم تاحال محکمہ صحت سے یہ فنڈز جاری نہیں ہوئے ہیں۔

ہیلتھ سیکرٹریٹ کے حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس بارے میں محکمہ خزانہ کو اضافی گرانٹ دینے کیلئے درخواست ارسال کر رکھی ہے جس میں پیسوں کی منظوری کے بعد ٹیموں کے بقایاجات اداکئے جاسکیں گے ادھر ریپڈ رسپانس ٹیموں نے اعزازیہ ملنے تک صوبے بھر میں کورونا کے مریضوں کی تشخیص کیلئے نمونے جمع کرنے کی ڈیوٹی سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے ، بائیکاٹ کرنے والے ملازمین کی طرف سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر محکمہ صحت نے کورونا رپیڈ رسپانس ٹیموں کا اعزازیہ جاری نہ کیا تو ڈی جی ہیلتھ سروسز اور سیکرٹری صحت کے د فاتر کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔