خیبر پختونخوا میں اومیکرون وائرس

خیبر پختونخوا میں اومیکرون وائرس کے مزید 75 کیسز رپورٹ

خیبرپختونخوا میں اومیکرون کے وار جاری ہیں۔ صوبہ میں اومیکرون کی مجموعی تعداد 264 جبکہ صوبائی دارالحکومت میں 140 تک پہنچ گئی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں اومیکرون ویرینٹ کی مزید 75 افراد میں تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 42 افراد کا تعلق پشاور، 8 کا صوابی اور 7 کا مردان سے ہیں۔ نئے متاثر ہونے والے افراد میں 41 مرد اور 32 خواتین مریض شامل ہیں۔

محکمہ صحت نے بتایا کہ اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کےلئے مجموعی طور پر 3ہزار 260 بیڈز مختص ہیں جبکہ اس وقت صوبے کے مختلف اسپتالوں میں کورونا کے 189 مریض داخل ہیں جن میں 11 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: ضلع کچہری کے 15 ججز اور58اہلکار کورونا کا شکار

دریں اثنا، کے پی کے محکمہ صحت نے 10 فیصد سے زیادہ مثبت تناسب والے شہروں کے لیے ایم CoVID-19 پابندیوں کو مطلع کیا۔ حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ کو 70 فیصد صلاحیت کے ساتھ چلانے کی ہدایت کی ہے، مذہبی مقامات 50 فیصد مکمل ویکسین شدہ افراد کے لیے کھلے رہیں گے۔ تمام قسم کے اندرونی جواہرات ویکسین شدہ لوگوں کے لیے کھلے رہیں گے انڈور شادیوں اور دیگر تقریبات پر 15 فروری تک مکمل پابندی ہوگی، جبکہ بیرونی اجتماعات کی اجازت صرف 300 مکمل ویکسین شدہ افراد کے لیے ہوگی۔

واضح رہے کہ اومیکرون نظام تنفس کی نالی کے اوپری حصے یعنی حلق کے خلیات پر اثر انداز ہوتاہے اور پھیپھڑوں تک جانے کے بجائے حلق میں ہی اپنی تعداد تیزی سے بڑھاتا ہے۔ اگر یہ وائرس ایک بار کسی فرد میں داخل ہوکر حلق میں اپنی تعداد بڑھاتا ہے تو اس طرح اس کے پھیلنے کی رفتار کئی گنا تیز ہوسکتی ہے یہی وجہ ہے اومیکرون بہت تیزی پھیل رہا ہے۔

کورونا وائرس کی سابقہ اقسام پھیپھڑوں کو زیادہ متاثر کرتی تھی اسی لئے وہ کم متعدی لیکن جان لیوا تھی۔ تاہم اومیکرون سانس کی نالی کے خلیات پر اثرانداز ہوتا اور انہیں زیادہ متاثر کرتا ہے اسی لئے ایسے تمام افراد جو اومیکرون سے متاثر ہوتے ان میں بیماری کی شدت کافی کم ہوتی ہیں اور ہسپتال جانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

مزید دیکھیں :   بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ،48افسر تبدیل،ذکاء اللہ خٹک سیکرٹری اطلاعات