بیج کی قیمتوں میں اضافہ

کھاد کے بعد بیج کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا

خوراک اور روزمرہ استعمال سے جڑی اشیاء کے نرخ بڑھنے کے ساتھ ساتھ منی بجٹ نے کسانوں کیلئے فصلیں کاشت کرنا بھی ناممکن کردیا ہے کھاد اور بجلی بلوں میں اضافہ کے بعد ڈیلرز نے ٹیکس کی وجہ سے بیجوں کی قیمتیں بڑھانے کا آغاز کردیا ہے مختلف کمپنیوں نے مکئی اور دیگر بیجوں کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جبکہ نئی قیمتیں لاگو کرنے کے بعد مارکیٹ سے بیج بھی غائب ہونے کا خدشہ ہے اس لئے کسانوں کی جانب سے حکومت سے پیشگی اقدامات لینے کی درخواست کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے ملک بھر میں یوریا کھاد کا بحران چل رہا ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں بھی یوریا اور ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں بڑھا اور کھاد کا ذخیرہ مارکیٹ سے غائب کردیا گیا تھا بجلی کے بل بڑھنے سے ٹیوب ویلز کے اخراجات بھی بڑھ گئے تھے اور کسانوں کیلئے فصلوں کی کاشت مشکل ہوگئی تھی لیکن چند روز قبل وفاقی حکومت کی جانب سے منظورکئے گئے ضمنی بجٹ سے بیج کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور اب زمینداروں کیلئے فصلیں کاشت کرنا بالکل بھی ممکن نہیں رہا ہے۔

گذشتہ روز مکئی کے بیج کے ایک پیک کی قیمت 25سو روپے بڑھ گئی ہے قبل ازیں بیج کا یہ ایک پیک 10ہزار 9سو روپے پر دستیاب تھا ریٹ بڑھنے کے بعد بیج کے بڑے ڈیلرز نے نئی قیمت میں 25سو روپے کا اضافہ کردیا ہے جبکہ بعض اضلاع میں بیج کے نرخ اس سے بھی زائد رپورٹ کئے گئے ہیں کسان ایسوسی ایشن کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یوریا سرکاری نرخ 1760روپے کی بجائے کھاد مارکیٹ میں 25سو روپے کا ہوگیا ہے ڈی اے پی کھاد 9ہزار 8 سو روپے کا ہوگیا ہے گذشتہ سال ان دنوں میں ڈی اے پی کھاد کی ایک بوری کی قیمت 4ہزار 5 سو روپے تھی حالیہ مہنگائی سے صوبے میں بہت سی فصلیں مخدوش ہونے کا خدشہ ہے ۔

مزید دیکھیں :   پاراچنار ،غیر حتمی انتخابی فہرستیں عوام کیلئے ڈسپلے مراکز میں اویزاں