کنسٹرکشن بورڈ کا قیام اور انجینئرز کے تحفظات

یہ بات عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے کہ تعمیرات کا شعبہ کسی ملک کی معاشی ترقی اور مُلکی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زراعت کے بعد روزگارمہیا کرنے کے حوالے سے بھی اسے ایک بڑا شعبہ سمجھا جاتا ہے کہ ہزاروں ہنر مند اور غیر ہنر مند لوگوںکو ملازمت کے مواقع مل جاتے ہیں۔
ملک میں کنسٹرکشن انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بورڈ کی تشکیل کے لئے ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے اور حکومت مسلسل کوشش میں ہے کہ اس مسودہ کی جلد ہی منظوری عمل میں لائی جائے۔ اگرچہ بورڈ کا مقصد نجی تعمیراتی صنعت کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور پہلے سے کی گئی سرمایہ کاری کو محفوظ کرنا ہے۔ اس بل میں سرکاری محکموں یا دیگر متعلقہ اداروں کے خلاف پرائیویٹ کنسٹرکشن انڈسٹری کی شکایات سننے کے لئے خصوصی ٹریبونل قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ یہ بورڈ ایک ایگزیکٹو کونسل پہ مشتمل ہو گا جو انتظامی اور تکنیکی معاملات کی دیکھ بھال اور فیصلہ سازی کے تمام امور از خود سر انجام دے گا۔یہ کہا جا رہا ہے کہ اُن اشخاص کو بورڈ میں شامل کیا جائے گا جنہیں پاکستان میں تعمیراتی خدمات اور انسانی وسائل کو بروئے کار لانے کا تجربہ ہو۔ اس بورڈ کا چیرمین مُلک کے وزیر اعظم کا نامزد کردہ ہوگا ۔پلاننگ کمیشن سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کا ایک ایک سیکرٹری بھی اپنے صوبہ کی نمائندگی کرے گا۔ کنسٹرکٹر ایسوسی ایشن آف پاکستان، ایسوسی ایشن آف کنسلٹنگ انجینئر پاکستان،سیمنٹ مینو فیکچرنگ اور سٹیل ری رولنگ سیکٹر سے دو دو نمائندے شامل ہوں گے۔ ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے اس کونسل کے لئے قانونی ماہرین، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس،نجی شعبہ سے ایک خاتون (جسے انفراسٹرکچر انڈسٹری کا دس سالہ تجربہ ہو) اور اکیڈمیہ سے ارکان کا انتخاب کرنا ہے۔
ملک میں پارلیمانی ایکٹ (1976) کے تحت پاکستان انجینئرنگ کونسل پہلے ہی بڑی کامیابی سے انجینئرنگ انڈسٹری کو ریگولیٹ کر رہا ہے۔یہ کونسل پاکستان میں انجینئرنگ کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے انجینئرز پر مشتمل ہے۔کنسٹرکشن انڈسٹری انجینئر کی پیشہ ورانہ جانچ پرکھ اور ڈیزائن کے لازمی شرائط کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تعمیراتی صنعت سے متعلق کسی بھی معاملے کی ترویج، حوصلہ افزائی اور تحقیق کرنا ایک انجینئر کا کام ہے۔ہماری یہ بد قسمتی رہی ہے کہ مُلکی تعمیر و ترقی کے اداروں کو جب بھی نان پروفیشنل یا بیوروکریسی کے حوالے کیا گیاتو ادارے کمزور ہوتے گئے اور مُلکی معیشت کو خوب نقصان اُٹھانا پڑا۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ٹھیکیدار اشرافیہ جسے یقیناً بیوروکریسی اور وزرا کی سرپرستی بھی حاصل ہے ،اپنے ذاتی فائدے کے لئے وفاقی حکومت کو یہ کہہ کر گمراہ کر رہی ہے کہ اب تک ایسی کوئی باڈی قائم نہیں کی گئی جو تعمیراتی صنعت کی ترقی میں کردار ادا کر سکے۔اُنہوں نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹس اینڈ کنٹریکٹس کی بحالی کا مینڈیٹ بھی مجوزہ بورڈ کو تفویض کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام اور تمام وفاقی و صوبائی منصوبوں کے لئے کمرشل بینکوں کے ذریعے فوری طور پر برج فنانسنگ کی تجویز بھی دی ہے۔ حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل میں کنسٹرکشن بینک کے حوالے سے پیش رفت ہو چکی ہے اور کونسل کے سابق چیئرمین انجینئر جاوید سلیم قریشی نے پی ای سی کے تحت کنسٹرکشن انڈسٹریل بورڈ کے لئے خطیر رقم بھی مختص کر دی تھی۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل ہی اس بورڈ کی انتظامی اور تکنیکی ذمہ داریاں نبھا سکتا ہے ۔ اگر یہ بورڈ مجوزہ بل کے نتیجہ میں الگ سے معرض وجود میں آتا ہے تو قانونی، مالیاتی اور ریگولیٹری خلاف ورزیوں کا سامنا ہو گا بلکہ اس بل میں تجویز کردہ کئی نکات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے ذریعے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا احتمال بھی ہے۔ پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا یہ کہنا ہے کہ پہلے ہی چینی، گندم، پاور سیکٹر کی کارٹیلائزیشن نے پاکستانی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے اور اب تعمیراتی صنعت کے لئے اس نئے کارٹیل کی تشکیل سے صرف چند لوگوں کو مالا مال کرنے کے لئے پوری انجینئرنگ انڈسٹری کو تباہ کرنے کا خدشہ ہے۔مُلک بھر کے انجینئر اس تشویش کا شکار ہیں کہ مجوزہ بورڈ انجینئرنگ کے پیشے کے لئے ایک غیر جانبدار ریگولیٹری ادارے کے طور پر کام نہیں کر سکے گا، کیونکہ اس کے اراکین کی اکثریت غیر انجینئرز اور بیوروکریسی پر مشتمل ہو گی ۔ بورڈ کے مسودہ میں ریگولیٹرز کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا ہے اور اس بل کی منظوری کے ساتھ ہی PEC اور دیگر ریگولیٹری ادارے غیر فعال ہو جائیں گے۔ حکومت کونسل کے متوازی بورڈ قائم کر رہی ہے۔ پی ای سی ایک آئینی ادارہ ہے اور اس کی موجودگی میں کسی دوسرے بورڈ کی تشکیل غیر قانونی ہے۔ ایسے اقدامات کے خلاف انجینئرز کو احتجاج پہ مجبور نہ کیا جائے۔