بیماریاں اور اتائیوں سے بچائو

ڈاکٹر اپنے مریضوں کو ہمیشہ یہ باور کروایا کرتے ہیں کہ جب کسی بھی انسان’ چاہے وہ مرد ہویاعورت ، بچہ ہو یابوڑھا’ کو تکلیف ہوتی ہے تو اپنے معالج کے پاس ضرور جایا کرے اس معالج میں حکیم ، ہومیووایلوپیتھک ڈاکٹر سب شامل ہیں ۔بس شرط یہ ہے کہ وہ سند یافتہ ہو اور عطائی نہ ہو۔ وہ مریض اپنے معالج کو اپنے دکھ درد یا بیماری کا سارا احوال کہتا ہے جب مریض ناک’ کان’ گلہ’ دل ‘ گردے حتیٰ کہ پیشاب کی بیماریوں اور پھر عورتیں اپنے زچگی کے مسائل اپنی لیڈی ڈاکٹرسے حتی المکان اور حتی المقدور شئیر کرتی یا بتاتی ہیںجس سے معالج کو مرض کی صحیح تشخیص کرنے میں مدد ملتی ہے تو پھر مرض کاعلاج کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔بالکل اسی طرح ہر مریض کو اس کے اعضاء رئیسہ کے بارے میں کسی قسم کے اتارچڑھائو ‘ جسے ہم بیماری کہہ سکتے ہیں ہو تو اس کا بھی احوال اپنے معالج سے کھل کرکرنا چاہئے۔اکثر اوقات ہمارے سادہ لوح مریض یا ضرورت سے زیادہ حیاء دار مریض آدھے سے زیادہ علامات چھپاتے ہیں جس سے ان کا خاطرخواہ علاج نہیں ہوسکتا۔ہم مانتے ہیں کہ حیاء نصف ایمان ہے اور ہمارا ایمان کامل ہے کہ جس نے شرمگاہوں کی حفاظت کی وہ ضرور جنت میں جائے گا مگر ان احکامات سے بے حیائی سے بچنے یا اجتناب کرنے کا حکم ہے ناکہ علاج کی غرض سے بھی اپنے معالج سے بھی سب کچھ چھپانے کا۔اور یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ یہ ہے کہ کچھ مرد حضرات ہمت کرکے کسی عطائی کے پاس چلا بھی جائے تو وہ اسے یہ ہی ہدایت کرے گا کہ یہ پوشیدہ بیماری ہے اور اس کا علاج صرف اسی طرح کے معالجین کے پاس ہے اور بڑے بڑے پروفیسر ڈاکٹر اس طرح کا علاج کرنے کے قابل نہیں لیکن حقیقت یہ نہیں ہے ۔
آج میں آپ کواس حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے اس لئے آمادہ ہوا کہ ہمارے پیارے صوبہ خیبر پختونخوا کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر کو تعینات کیا گیا ہے کہ جن کو عورتوں کے امراض میں مہارت ہے اور بلخصوص وہ والی زنانہ امراض جن میں عام طور پر عورتیں کسی زنانہ ڈاکٹر کے سامنے بھی بولنے کی ہمت نہیں کرسکتی کیونکہ وہ اپنے گائناکالوجسٹ یعنی کہ ڈاکٹر خود بھی ایک عورت ہوتی ہے سے اپنے مرض کے بارے میں بتانے میں ہچکچاتی ہیں، اب یہ ڈاکٹر عورتوں کے ان امراض کا علاج بھی کریں گی اور اس سے بھی بڑی خوشخبری کی بات یہ ہے کہ یہ اسسٹنٹ پرفیسر یوروگائناکالوجسٹ ایک سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کریں گی۔پورے پاکستان میں اس علاج کے ماہر صرف چند ہی ڈاکٹر ہیں اورہمارے صوبہ کی یہ خاتون ڈاکٹر چھٹے نمبر پر ہیں ، انہوں نے آغا خان ہسپتال سے یہ مہارت حاصل کی ہے اور اگر وہ چاہتی تو کراچی یا اسلام آباد جیسے بڑے شہر میںرہ کر خوب پیسے کماسکتی تھیں تاہم انہوں نے اپنے پسماندہ صوبہ کے غریب عوام کی خدمت کرنا کا عزم کیا ہے اور اسی مقصد کے لئے وہ صوبہ کے نجی ہسپتال کی بجائے سرکاری ہسپتال میں خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہوکر بیٹھی ہیں ۔
میرے کالم ہمیشہ سے معاشرہ کے اجتمائی مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کو حل کے لئے مختص ہوتے ہیں سیاست پر بھی لکھنا ضروری ہے اور یہ بھی ہمارے معاشرتی مسائل میں ہی شامل ہے تاہم معاشرہ میں ہونے والے مختلف واقعات سے بچنے کے لئے بھی لکھتارہتاہوں اور معاشرہ کی اصلاح کے لئے بھی بھرپور اندازمیں اپنا فرض اداکرنے کی پوری پوری سعی کرتارہتاہوں اس میں جہاں جعلی پیروں سے بچنے اورغریب عوام کی جمع پونیجی لوٹنے والے معاشرہ میں پھیلے بہروپیوں سے بچنے کے لئے بروقت آگاہ کرنا بھی شامل ہے ۔ اسی طرح عام آدمی کو لاحق ہونے والی بیماریوں سے بروقت بچنے اور پھر ان کے علاج کروانے کے لئے بھی مفید معلومات دینا میرا فرض ہے۔ ہم اس قسم کے لوگوں سے نہ صرف دور رہتے ہیںبلکہ باقاعدہ سے نفرت بھی کرتے ہیںکہ جو انسانی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔اس لئے کبھی بھی مشور ہ نہیں دیںگے کہ آپ کسی قسم کے عطائی کے پاس جائیں چاہے اس کا تعلق کسی بھی شعبہ طب سے ہو، چاہے وہ انگریزی ڈاکٹرکا روپ دھارے ہوئے ہو یا حکیم وغیرہ کے بھیس میں لوٹ مارکررہے ہیں۔ یہ لوگ ہمارے معاشرہ کے سادہ لوح عوام کو اس لئے بھی لوٹتے ہیں کہ ہمارے معاشرہ میں جنسی بیماریوں کو کسی بھی ڈاکٹروں کو بتانے میں عار سمجھتے ہیںاور تو اور پھر ان کے اپنے رشتہ دار اور دوست یا ربھی ان پر ہنستے ہیں۔ یوں وہ ”ُپوشیدہ امراض” کے خودساختہ معالجوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور میری طرح آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ کبھی بھی کسی شریف آدمی کو ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن شریف آدمی اسے بھی پوشیدہ رکھتاہے اور یوں یہ اتائی ایک کے بعد دوسرے کو لوٹتے رہتے ہیں۔ اس لئے میری رائے میں جب کبھی بھی ہمارے کسی قاری کو اس قسم کی بیماری ہوتو مستند ماہر ڈاکٹر سے ضرور مشور ہ کریںمردوں کو بھی ماہر معالجین سے ہی علاج کروانا چاہئے اور اس سے بھی بڑھ کر ہمارے پردہ دار بہنیں اور بیٹیاں ضرور اپنی زنامہ امراض کی خاتون ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور انہی کے کہنے پر کسی خاتون ڈاکٹر سے ضرور ملیں انہیں اپنی ساری بیماریوں کے بارے میں بتائیں۔ کیونکہ ہماری بہن بیٹیاں ان بیماریوں کے پیچیدہ ہونے کا انتظار کرتی ہیں اور پھر ان بیماریوں کے ساتھ ہی اس دنیا سے چلی جاتی ہیں اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ بیماریاں خطرناک شکل اختیار کرلیتی ہیں اور پھر لاعلاج ہوجاتی ہیں۔