وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا

سیاست سے شائستگی رخصت ہونے لگی ہے ‘امریکی صدر جو بائیڈن نے مہنگائی سے متعلق سوال پر طیش میں آگئے اور صحافی کو احمق قرار دے دیا ‘ خیر احمق تو بے ضرر قسم کا لفظ ہے جو اکثر اساتذہ کرام کلاسوں میں اپنے نالائق اور غبی قسم کے شاگردوں میں تقسیم کرتے رہتے ہیں اور بات یہاں تک رہتی تو پھر بھی کوئی بات نہیں تھی مگر آگے کی جو صورتحال تھی اس پر بقول غالب کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے والا تبصرہ کیا جا سکتا ہے ‘ اور مسئلہ یہ ہوا کہ مائیک کھلا ہونے کی وجہ سے جوبائیڈن نے جو گالی صحافی کو دی وہ نہ صرف نشر ہو گئی یعنی لوگوں نے سن لی بلکہ وہ ریکارڈ بھی ہو گئی ‘ فوکس نیوز ‘ جو صدر بائیڈن کے ناقد چینلوں میں شمار ہوتا ہے ‘ سے تعلق رکھنے والے صحافی نے صدربائیڈن سے مہنگائی سے متعلق سوال کیا کہ کیا مہنگائی کی ذمہ دار حکومت نہیں؟ صدربائیڈن نے طنزیہ کہا کہ نہیں مہنگائی ایک اثاثہ ہے ‘ اس کے بعد جب سب اٹھ گئے تو صدر بائیڈن یہ سمجھا کہ مائیک بند ہو چکا ہے البتہ بعد میں جب پریس کانفرنس کی ریکارڈنگ سنی گئی اور ویڈیو کلپس وائرل ہوئیں تو بھانڈہ پھوٹ گیا ‘ سیاسی رہنماء ہوں یا صحافی ‘ ان کے لہجوں کی ”شیرینی اور ملاوت” پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
وہ عطر دان سا لہجہ مرے بزرگوں کا
رچی بسی ہوئی اردو زباں کی خوشبو
ابھی چند روز پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ر ہنما مریم اورنگزیب اور تحریک انصاف کے ایک رہنما شہباز گل کے مابین بھی بیان بازی کا خاصا چرچا رہا ‘ دونوں نے ”احتیاط” کے دامن سے جان چھڑانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی ‘ اور گزشتہ دنوں مریم نواز اور پرویز رشید کے مابین نواز شریف دور کے ایک پرائیویٹ فون کال کو وائرل کیا گیا جس میں کچھ صحافیوں کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کئے گئے تھے جن پر صحافتی حلقوں اور حکومتی وزیروں ‘ مشیروں کی جانب سے شدید اعتراضات کئے گئے ‘ اور مریم نواز سے معذرت کرنے کے مطالبات سامنے آئے تاہم مریم نواز نے الٹا ان حلقوں کی جانب سے معافی کا مطالبہ کیا گیا جنہوں نے ان کی نجی گفتگو پر مبنی فون کال نہ صرف ر یکارڈ کی تھی بلکہ اب اتنی مدت گزرنے کے بعد اسے وائرل بھی کیا تھا اور کہا کہ ان کی نجی گفتگو کو ریکارڈ کرنے کا حق متعلقہ حلقوں کو کس نے دیا تھا ‘ اگرچہ چند روز اس معاملے پر ہلچل مچ جانے کے بعد وہ معاملہ اب دب گیا ہے ‘ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پرویز رشید اور مریم نواز کے مابین گفتگومیں ادا کئے ہوئے الفاظ اور لب ولہجہ کس حد تک درست تھا کیونکہ گفتگو کے دوران جو ”نازیبا” الفاظ استعمال کئے گئے تھے ان کا محولہ دونوں رہنمائوں کے نزدیک”جواز” بھی تھا کہ کس طرح بعض صحافی حضرات نواز حکومت کے خلاف”کسی کی شہ” پر ”حملہ آور” ہو رہے تھے ‘ یوں پرویز رشید اور مریم نواز سے معذرت کرنے کے مطالبات خود بخود ہی دم توڑ گئے ‘ اور اب تازہ قصہ شہباز گل اور مریم اورنگزیب کے درمیان ”شکوہ جواب شکوہ” سے بڑھ کر تلخ کلامی پر مبنی صورتحال کو ”جواب آں غزل” ہی قرار دیا جا سکتا ہے ‘ اگرچہ بعض غیر جانبدار وی لاگرز نے ان کے مابین بقول احمد فراز لہجے میں گفتگو کو
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں
سے تشبیہ دیتے ہوئے طنز بھی کیا ہے اور بحیثیت ایک خاتون مریم اورنگزیب سے احتیاط کا دامن تھامنے کی درخواست بھی کی ہے ‘ کیونکہ بقول ان وی لاگرز کے شہباز گل سے تو کوئی توقع کی ہی نہیں جا سکتی ‘ مگر کیا کیا جائے کہ اب ہمارے ہاں بعض خواتین صحافی بھی(بہ امر مجبوری) اسی لب و لہجے میں بات کرنے لگی ہیں جن کی اگرچہ ان سے توقع نہیں کی جانی چاہئے ‘ مگر وہ بے چاریاں بھی کیا کریں کہ ایک خاص سیاسی جماعت کے ٹرولز نے انہیں ٹویٹر’ وٹس ایپ اور دیگر ایپس پر اتنی مغلظات بکنا شروع کر رکھی ہیں کہ ان کے پاس اسی لب و لہجے میں بات کرنے کے علاوہ چارہ ہی نہیں رہا ‘ اس لئے یہ ٹرولز ان خواتین کو جتنی ”تقدیس” سے نوازتے ہیں ‘ جواب میں یہ خواتین بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر انہی کے لہجے میں جواب دینے سے نہیں کتراتیں ‘ اور انہیں چیلنج کرتے ہوئے بقول ظفر اقبال یوں مخاطب کرتی ہیں
دیکھ رہ جاتے نہ حسرت کوئی دل میں تیرے
شور کر اور بہت ‘ خاک اڑااور بہت
بات جوبائیڈن سے شروع ہوئی تھی کہ کس طرح انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران مہنگائی کے حوالے سے ایک سوال پر کسی صحافی کو احمق بھی کہہ دیا اور یہ سوچ کر کہ مائیکرو فون بند ہو چکا ہے ‘ کچھ ناشائستہ الفاظ کا استعمال بھی کیا ‘ اگرچہ نہ مائیک بند تھا نہ ہی ریکارڈنگ سسٹم ‘ یوں اچھا خاصا ہنگامہ کھڑا ہو گیا ‘ سواب دیکھتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ حالانکہ دوسری صورت میں امریکی صحافی ان کے خلاف محاذ بھی کھول سکتے ہیں اور ممکن ہے انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں بھی صدر بائیڈن کی مذمت میں آگے آئیں اور عوامی رائے بھی ان کے خلاف ہو جائے ‘ تب روسی صحافی بڑھ چڑھ کر ان کا ساتھ دیں جن کے سینیئرز نے بہت پہلے ایک عالمی صحافتی سیمینار میں امریکی صحافیوں کے اس سوال پر کہ ہمارے ہاں امریکی صدر کے خلاف بات کرنے پر ہمیں کوئی ہچکچاہٹ ہوتی ہے نہ ہمیں کوئی روکتا ہے ‘ جواب میں کیا کہ تم صرف مخالفت کر سکتے ہو یا ہمیں تو گالیاں تک دینے کی اجازت ہے ‘ اس پر حیران ہو کر امریکی صحافی روسی صحافیوں کا منہ تکنے لگے تو ایک روسی صحافی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ‘ حیران نہ ہوں ہمیں امریکی صدر کو گالیاں تک دینے کی اجازت ہے بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جو ہمارے ہاں سیاست اور صحافت سے برداشت کا عنصر ختم ہوتا جا رہا ہے اور ہمیں اپنے لہجوں اور الفاظ پر کنٹرول رکھنے میں دشواری ہو رہی ہے تو اس کا انت کیا ہو گا؟ کہ بقول خالد خواجہ
میرا ماحول جو بدلا ہے تو میں سوچتا ہوں
اب بہاروں کے حوالے نہ گریبان کروں