عمران خان عام آدمی کا جرم

عام آدمی کا ‘جرم’ اس کی غربت ہے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عام آدمی کا جرم اس کی غربت ہے’ طاقتور خود کو قانون کے نیچے نہیں لاتا لیکن قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرتا’ انگریز نے جانے سے پہلے پاکستان کو جو نظام دیا وہ آہستہ آہستہ نیچے گیا، کسی بھی معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا تو خوشحالی نہیں آئے گی، غریب جب ہسپتال جاتا ہے اور حکمران اسے فائدہ پہنچاتا ہے تو وہ دعا دیتا ہے، عدلیہ سے اپیل کرتا ہوں قانونی اصلاحات اور قانون پر عمل کراوئیں۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں فوجداری قوانین میں اصلاحات کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آہستہ آہستہ طاقتور قانون سے بالاتر خود کو سمجھنے لگا، ملک میں قانون کی حکمرانی کا نظام طاقت ور طبقے نے نظرانداز کیا ہے۔تعلیم، قانون،علاج اور ہر شعبے میں امیر غریب کے لیے 2 قانون آئے، غریب کے لیے قانون ہوتا ہے لیکن طاقت ور خود کو قانون کے نیچے نہیں لاتا تھا، ہم نے قانونی اصلاحات سے متعلق اپنا کام کردیا اب عدلیہ کا کام اس پرعمل کرانا ہے، خواتین کو جائیداد میں حصہ دینا قانون میں لازمی قرار دیا ہے،

خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے کا قانون اسلام نے دیا تھا، اسی طرح ای وی ایم سے انتخابات اور نتائج میں شفافیت لانا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ رسول ۖ نے اسلامی فلاحی ریاست میں بہترین اصول رکھے تھے، فلاحی ریاست کی طرف ہم بڑا قدم اٹھا چکے ہیں، اب ہمارا انقلابی قدم قانون میں اصلاحات اور عمل کی طرف ہوگا کیوں کہ ملک میں طاقت ور کو چوری کی سزا نہیں ملتی اور غریب پس جاتا ہے، سوئٹزر لینڈ میں کسی چپڑاسی کے اکاونٹ میں اربوں روپے نہیں جاتے، جیل غریب لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں، پاکستان میں عدالتی نظام آہستہ آہستہ کمزورہوتا گیا، پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام کمزور اور نجی تعلیمی نظام بہتر ہوا۔عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں، ان کی ترسیلات پر ملک چل رہا ہے، اوورسیز پاکستانی ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مگران کو اعتماد نہیں ہے، ریکوڈک کیس میں پاکستان کو بہت نقصان ہوا، ریکوڈک کیس میں پاکستا ن کو جرمانہ ہوا اور معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا، سیاحتی شعبے میں بیرون ملک قانون پر عمل داری ہے وہاں کوئی قبضہ گروپ نہیں ہے، پاکستان میں قدرتی خوبصورتی ہے مگر قانون پر عمل داری نہیں ہے۔

مزید دیکھیں :   پختونخوا کا رابطہ منقطع کرنے پرصوبائی حکومت برہم