مشرقیات

سب اپنے مفادات کے لئے نئی مہرے بازی کا کھیل ہے آپ آج یا کل دیکھ ہی لیںگے کہ اپنے شاگرد کیسے نئے ایجنڈے کو بھی اپناتے ہیں اور اپنے طالب علموں کو بھی راضی رکھنے میں کامیاب ہو تے ہیں کابل جان سب کو اتنا پیارا ہے کہ ایک بار اس کے دامنوں میں بس کر پھر کس کا دل اسے چھوڑنے کو چاہتا ہے وہ بھی جب اقتداراور اختیار کے ساتھ ہاتھ آئے۔کون نہیں جانتا کہ بغیر کسی خون خرابے کے کابل شاگردوں کے حوالے کئے جانے کا پلان انکل سام نے بھی بنایا تھا تاہم بالکل آخر میں غنی استاد اپنا پتا کھیل کر سارا بنا بنایا پروگرام غارت کر گئے سب سے زیادہ انہیں اچھے الفاظ میں سابق صدر کرزئی اور عبداللہ عبداللہ یاد کر رہے ہیں اس کے بعد حکمت یا ر اور باقی سابق وحاضر کمانڈر حضرات نے بھی موقع کھو کر انہیں صلواتیں ہی سنائی ہیں۔اب مسلہ یہ ہے کہ مغرب اپنی حکمت عملی تھوڑی سی تبدیل کر کے انہی شاگردوں سے کام لینا چاہتاہے اور اس کے لئے دونوں ایک دوسرے کو رام کر رہے ہیں ،شاگردوں کو کابل چلانے کے لئے ڈالروں کی ضرورت ہے اور ڈالر وں میں کھیلنے والوںکو اپنے وہ مفادات عزیز ہیں جو سیدھے جا کر کبھی روس تو کبھی چین سے جا ٹکراتے ہیں درمیان میں پاکستان بھی پڑا ہے اور آپ مانیں یا نہ مانیں اس بھی حساب بھی بے باک کرنے کے لئے انکل سام نے ان شاگردوں سے ہی کام شام لینا ہے،تو سوال یہ ہے کہ نئے گیم پلان میں ہمارے لئے کیا ہے جواب ہے چیلنج ہی چیلنج ،فی الحال تو اپنے شاگرد بات چیت کے لئے ذریعے آفرز مار رہے ہیں ادھر اہل مغرب کا دل ان پر آگیا تو امداد کے سوتے بھی پھوٹ پڑیں گے اور پہلے کی طرح کابل جان میں ہر ملک کے گورے یوں نظر آئیں گے جیسے یہ شہر نیٹوا ور امریکہ کا ایک پھر دارالحکومت بن گیا ہو،پہلا چیلنج تو ہمارے لئے یہی ہوگا کہ ہم وہ نامکمل باڑ شاید ہی مکمل کر سکیں ،لراوبر کا نعرہ ادھر بھی لگانے والے بہت ہیں اور ادھر بھی ،ان میں ہمارے شاگرد بھی شامل ہیں وہ تو افغان فورسز سے بھی دو قدم آگے باڑ کی مخالفت میں سامنے آئیں ہیں ایک نہیں کئی جگہوں پر انہوں نے باڑ اکھاڑی ہے اور ساتھ ہی ڈیورنڈ لائن کو ایک تنازعہ قرار دے کر مستقبل کے اپنے عزائم بھی ہم پر آشکار کر دئیے گئے ہیںتو جناب ہوشیارباش ؟آپ نے سنا ہی ہوگا مشہورزمانہ شعر کا وہ مصرعہ جس میں شاعر نے کہا ہے کہ جن پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔مسئلہ یہ ہے کہ اب اقتدارہاتھ آجانے کے بعد شاگردوں پر یہ راز کھل چکا ہے کہ انہوں نے ملک چلانا ہے اور اس کے لئے وہ دنیا کو رازی کیے بغیر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے اس کے لئے وہ دنیا کو رضامند کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں،ادھر دنیا مفت تو کچھ دینے سے رہی اپنی کچھ منوانے کے بعد ہی ہاتھ جیب کی طرف بڑھائے گی ،سوال یہ ہے کہ انکل سام جو منوائیں گے اس سے ہمیں کیا فرق پڑے گا اس کا جواب تلاش کر لیں۔