ہوئے بیمار جس کے سبب۔۔۔

پی ڈی ایم کی جانب سے اپنے اہم ترین قرار دیئے جاے والے اجلاس میں بھی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ تو درکنار تحریک عدم اعتماد کا خیال ہی ترک کر دیاگیا۔ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لئے حزب اختلاف 342 رکنی قومی اسمبلی میں کم از کم 172ارکان کی حمایت درکار ہے جو فی الحال ا ن کے پاس نہیں۔ حزب اختلاف کے ایک اہم رہنما کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد اسی وقت پیش کی جائے گی جب انہیں اس بات کا یقین ہو جائے گا کہ اسٹیبلشمنٹ حکمران اتحاد کے پیچھے نہیں ہیں ان کا ماننا ہے کہ اسٹیلشمنٹ جب مداخلت نہیں کرے گی تب ہی عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گی۔ جب تک تمام اپوزیشن جماعتیں اور پارلیمنٹ کے اندرموجود قوتیں ایک پیج پر نہ ہوں ان تمام عوامل کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو تو ایسا لگتا ہے کہ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں بھی سیاسی فیصلے کی بجائے کسی اور طرف دیکھ رہی ہیں اور ان کی حمایت یا پھر کم از کم ان کے غیر جانبدار ہونے کا یقین اور اطمینان کرنا چاہتی ہیں ۔ عدم اعتماد کی تحریک پر پی ڈی ایم کے اجلاس میں اتفاق نہ ہونا ان کا داخلی معاملہ ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے دور رکھنا حکومت اور حزب اختلاف دونوں ہی کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت بچانے اور حکومت گرانے والے دونوں فریقوں کے بارے میں لگتا ہے کہ ان کو بیساکھیوں کی ضرورت ہے جس کی موجودگی میں ہر دو اپنی اپنی جگہ پرغیر موثر اور ناکام ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ملکی سیاست اور حکومت و اقتدار جب تک بیساکھیوں کی تلاش میں رہے گی ان کی کمزوری و ناکامی پالیسیوں پر عدم عملدرآمد یہاں تک کہ شفافیت اور میرٹ جیسے عوامل پر بھی پورا اترنا ان کے لئے دشوار رہے گا۔ ہوئے بیمار جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں کا مصداق سیاست و حکومت ہی وہ مسئلہ ہے جس کے گھن چکر سے نکلنے کی عملی اور سنجیدہ سعی کسی سطح پر بھی نظر نہیں آتی۔ہمارے سیاسی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کو حصول اقتدار اور تحفظ اقتدار دونوں کے لئے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنے کا فیصلہ کرنا چاہئے اور جو بھی ہو اپنے بل بوتے پر کیا جائے تبھی حکومت اور اقتدار وحزب اختلاف کی وقعت ہو گی اور وہ اپنی پالیسیوں اور مینڈیٹ پرپورا اتر سکیں گے ۔
طالبان کا اہم ممالک سے مدد کیلئے رابطہ
طالبان قیادت کی جانب سے اوسلو میںمغربی سفارتکاروں کے ساتھ افغانستان میں انسانی بحران پر گفتگو کوتاریخی اور ملاقاتوں کو کامیاب قرار دینا افغان حکومت کی آئندہ پالیسیوں میں تبدیلی کا ایک واضح اشارہ ہے ۔طالبان حکومت کی وفد سے ملاقات و مذاکرات کے باوجود بین الاقوامی برادری ابھی اپنی اس شرط سے دستبردار نہیں ہوئی بلکہ بین الاقوامی برادری نے اصرار کیا ہے کہ امداد کی بحالی سے قبل طالبان کو افغانستان میں انسانی حقوق کا احترام کرنا چاہئے جہاں بھوک کی شکار نصف سے زیادہ آبادی خطرے میں ہیں۔ ناروے کی جانب سے متنازعہ دعوت قبول کرنے کے بعد طالبان کا امریکہ ‘ فرانس ‘ برطانیہ ‘ جرمنی ‘ اٹلی ‘ یورپی یونین اور ناروے کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات طالبان حکومت کا بین الاقوامی سطح پر پہلا اہم رابطہ ہے ۔طالبان کی جانب سے ماضی کے برعکس جدت پسند ہونے کا دعویٰ ضرور کیا ہے لیکن بین الاقوامی برادری نے جہاں طالبان کے ساتھ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا ہے وہاں وہ اس امرکی بھی منتظر ہے کہ طالبان ایسے کیا اقدامات یقینی بناتے ہیں جو عالمی برادری کے لئے قابل قبول ہو۔ اس ضمن میں سب سے پہلے طالبان حکومت کو مخالفین اور خاص طور پر حقوق کے لئے مظاہرہ کرنے والی خواتین تنظیموں کے حوالے سے عملی طور پر ایسا نرم رویہ اختیار کرنا ہو گاجس پر داخلی طور پر اطمینان کا اظہار سامنے آئے اس کے بعد ہی بین الاقوامی برادری کی جانب سے طالبان حکومت کے حوالے سے پالیسیوں میں نرمی پیدا ہو گی۔ایک جانب سخت گیری کا مظاہرہ اور دوسری جانب عالمی برادری سے اعانت کے حصول کی مساعی دو متضاد امور ہیں اس حوالے سے طالبان حکومت کو یکسوئی اختیار کرنا ہو گی جس کے بعد ہی بین الاقوامی برادری ان کی دستگیری کی طرف متوجہ ہو گی۔
ویران پارک ٹوٹے جھولے
پشاور میں پبلک پارک کے شادی ہالز اور مستری خانوں میں تبدیلی پارکس میں شادی بیاہ اور نجی تقریبات کے انعقاد پر ا نتظامیہ کی خاموشی کے باعث پارکس نہ صرف ویران ہونے لگے ہیں بلکہ جس مقصد کے لئے قائم کئے گئے ہیں وہ مقصد ہی سرے سے فوت ہو جاتا ہے صوبائی دارالحکومت میں شاید ہی کوئی پارک ایسا ملے جو ویرانی کا منظر پیش کرتا ہو ۔ جھولے اور بچوں کے کھیلنے کے دیگرسہولیات توڑ پھوڑ کا شکار نہ ہوں۔ صوبائی دارالحکومت پشاور کے نسبتاً بہتر سمجھے جانے والے علاقہ حیات آباد کے پارکوں کی حالت اگربدتر مناظر پر مبنی ہو تو پھر گنجان آبادی والے علاقوں میں پارکوں میںجہاں تفریحی مقاصد کے علاوہ بھی سرگرمیاں پارکوں میں ہونے لگیں تو اس کا اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے حکومت کو اس کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور پارکوں کی بحالی کے لئے جلد سے جلد عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔