ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا آئینہ

موجودہ حکومت اکثروبیشتر دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے لیکن پاکستان کی سی پی آئی درجہ بندی گزشتہ تین سالوں میں مسلسل نیچے گئی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ مالی کرپشن نہیں بلکہ سیاسی کرپشن اور قانون کی حکمرانی نہ ہونے کے باعث گرا ہے ۔حزب اختلاف کے رہنمائوں کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید فطری امر ہے جس سے قطع نظراس بارے دو رائے نہیں کہ پاکستان میں بدعنوانی میں اضافے کا تاثر بڑھا ہے جو ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کے کرپشن پر رپورٹ انڈیکس میں واضح ہے ۔ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کے کرپشن پر انڈیکس میں صفر سے 100تک کے اسکیل پر ممالک کی بدعنوانی کو ظاہر کیاجاتا ہے کہ کس ملک کے کاروباری لوگوں اور مختلف پیشہ ورانہ امور کے ماہرین کی نظر میں وہاں کے سرکاری ادارے کس درجہ بدعنوان ہیں۔بین الاقوامی ادارے کی رو سے کرپشن کی تعریف بڑی واضح ہے اور دنیا بھر میں اسی تناظر میں اسے لیاجاتا ہے مگر اس رپورٹ کے آنے کے بعد حکومتی ترجمان اور عناصر نے جو موقف اختیار کیا ہے اگر دیکھا جائے تو بادی النظر میں وہ اس رپورٹ میںبدعنوانی کے تاثر میں بہت اضافے کو تسلیم کرتے نظر آتے ہیںمگر لفظوں کے ہیر پھیر میں اسے الجھا نے کی بہرحال ان کی جانب سے اپنی کوشش ضرور ملتی ہے ۔ وطن عزیز کے حکمران جو بلند و بانگ دعوئوں اور چیلنج کے باوجود بدعنوانی کو کم نہیں کر سکے ہیں ان کی جانب سے سی پی آئی کے مفہوم کو تبدیل کرنے سے حقیقت چھپ تو نہیں سکتی سی پی آئی سکور میں گراوٹ وزیر اعظم اور موجودہ حکومت کے شفافیت کے بیانیے کے لئے یقینا بہت بڑا دھچکا ہے ۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ موجودہ حکومت بلکہ حکمران جماعت کا بنیادی منشور اور ایجنڈہ بدعنوانی کا خاتمہ تھا اور اسی نعرے کے تحت عوام نے ان پر اعتماد کیا تھا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پرمانے ہوئے شفافیت کے اشاریے جو کچھ دکھا رہے ہیں اور ممالک کی فہرست میں پاکستان آج جس نمبر پر آکھڑا ہوا ہے قبل ازیں اس پوزیشن پہ پاکستان کبھی نہیں رہا جو باعث تشویش امر ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اپنے ایجنڈے کے مرکزی خیال کونہ صرف عملی صورت نہ دے سکی بلکہ کرپشن کی روک تھام اور احتساب کے عمل دونوں میں بدعنوانی میں اضافے کا تاثر عوامی سطح پر بلاوجہ قائم نہیں ہو ا کرتا اب ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کی رپورٹ میں جس کی تصدیق کردی ہے تو یہ سنجیدہ امر ہے ۔ ماضی میں خود وزیر اعظم عمران خان ٹرانسپرنسی ا نٹرنیشنل کی رپورٹ کو نہ صرف مستند قرار دے کر تسلیم کرتے آئے ہیں بلکہ وہ بار بار اس کا حوالہ دے کر حکمرانوں کو بدعنوان اور نااہل بھی گردانتے آئے ہیںگراوٹ مالی بدعنوانی کی وجہ سے ہو یا پھر بقول وزیر اطلاعات قانون کی حکمرانی نہ ہونے کا نتیجہ ہو جو بھی ہو اس کی ذمہ داری سے حکومت وقت بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ قانون کی حکمرانی کا نہ ہونا بھی مالی کرپشن کا راستہ ہموار کرتا ہے قانون کی حکمرانی اور مالی کرپشن کی روک تھام دونوں ہی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے اگر کسی ایک عنصر کی وجہ سے دوسرا عنصربڑھا ہے تو بھی اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں
حکومت وقت ہے دیکھا جائے تو کسی سماج میں بدعنوانی کے خاتمے کی کوشش قانون کی حکمرانی کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ قانون کی حکمرانی اور احتساب کا عمل ہی شفافیت کی بنیاد ہے۔موجودہ حکومت نے بھی بدعنوانی کے خاتمے کے جو دعوئے کئے تھے قانون کی حکمرانی ان اقدامات کا لازمی حصہ تھی اور اسے عملی صورت دینے کی ذمہ دار بھی حکومت پر تھی مگر شفافیت میں کمی کے اشاریے سے اس امر کا ا ظہار ہوتا ہے کہ حکومت اپنے اس مینڈیٹ کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی قانون کی حکمرانی اور شفافیت دونوں کے حوالے سے کافی اقدامات کرنے میں حکومت کو کامیابی نہیں ہو سکی۔شفافیت اور حسن انتظام ‘ صنعتی ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کے لئے لازم و ملزوم امر ہے صنعتی ترقی کا خواب بھی انہی امور کا متقاضی گردانا جانتا ہے جبکہ بدعنوانی سماج کی سب سے بڑی دشمن اور ریاست کے وجود کو کھوکھلا کرنے کا باعث امر ہے ۔وزیر ا عظم نے کابینہ کے اجلاس میں جو توجیہہ پیش کی ہے اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جن عناصر کی جانب انہوں نے اشارہ کیا ہے یا جن اقدامات کا انہوں نے ذکر کیا ہے وہ ایسے معاملات نہیں جس میں وزیر اعظم اور حکومت بری الذمہ ہو سکیں ۔ریاست کا کام کسی خائن کے ساتھ مفاہمت کرنا نہیں اور نہ ہی ان کو راستہ دینا ہے بلکہ ریاست کا کام اس طرح کے مسائل کی روک تھام اور تعزیر ہے ۔ وطن عزیز کے عوام نے جس امید پر یقین کے ساتھ موجودہ حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی تھی آج ان میںنہ صرف مایوسی دیکھی جارہی ہے بلکہ ان کے تاثرات بھی حکومت کے حوالے سے مثبت نہیں۔مدت اقتدار کے آخری سالوں میں مشکلات میں گھری حکومت کے لئے یہ الزام کسی چارشیٹ سے کم نہیں مشیر احتساب کے استعفے کے بعد حکومت ا یسے کیا اقدامات کرتی ہے کہ پاکستان میں احتساب کا عمل تیز ہواور بدعنوانی کا خاتمہ ہو اس حکومت کی ساکھ کا دارومدار بس اب اسی پر ہے ۔