سنجیدگی اور ہم آہنگی کا فقدان کیوں؟

کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میںوطن عزیز کے مختلف طبقات میں سنجید گی اور ہم آہنگی کے فقدان اور خود عام شہریوں میں احساس ذمہ داری کی کمی انتہائی افسوسناک ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اندیکھے دشمن کیخلاف احساس ذمہ داری کاروح پرور مظاہرہ دیکھنے میںآنا چاہئے تھا ہر طبقہ اور فرد من مانی پر مُصر ہے، ایسا لگتا ہے کہ اس ملک میں کسی کی کوئی سمت ہے، راہنما اور ناہی کوئی قانون۔ یہ افسوسناک صورتحال اس معاشرے کی ہے جس کے ہر خاص وعام کو یہ زعم ہے کہ ان کے سوا اصلاح احوال بارے کوئی نہیں جانتا۔ سیاسی اور مسلکی اعتبار سے تقسیم در تقسیم معاشرے میں یکجہتی کے فقدان کی ذمہ داری بنیادی طور پر عدم برداشت اور خود پسندی پر ہے، افسوس کہ اس ''وبا'' سے کوئی بھی محفوظ نہیں، دنیا بھر میں کوروناوبا سے ہوئی ہلاکتوں، پیداشدہ مسائل ومشکلات سے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر سبق سیکھتے ہوئے حکمت عملی وضع کرنا چاہئے تھی لیکن یہاں ہرسو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ فیصلہ سازی اور ان پر عملدرآمد میں کمزوری کا مظاہرہ ہے۔ حکمران طبقات آج بھی متفق دکھائی نہیں دیتے بعض ضروری فیصلوں کو ایک دوسرے کی ضد میں نظراندازکیا گیا۔ اس امر پر دو آراء نہیں کہ لاک ڈائون سے مسائل پیدا ہو ئے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہے،لاک ڈائون یا پھر جزوی لاک ڈائون۔ اکابرین مملکت کے غیرسنجیدہ رویوں کے نتائج ہمارے سامنے ہیں، صرف قائدین ہی جماعتی سیاست اور مفادات سے نجات حاصل نہیں کرپائے، ہر عام وخاص کی یہی حالت ہے۔ ستم بالائے ستم ہمارے مذہبی قائدین ہیں یہ وقت تھا کہ وہ اسلام کی اعلیٰ وارفع تعلیمات اور سیرت حضرت محمدۖ کی روشنی میں عوام کی رہنمائی کرتے، وباء سے پیدا شدہ صورتحال میں وہ معاشرے کی اجتماعی اور انفرادی تربیت کا حق ادا کرتے مگر دوسرے طبقات کی طرح یہاں بھی غیرسنجیدگی کا دور دورہ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں طب کے بنیادی اصولوں کو یکسر نظرانداز کرنے کی تباہ کن روش کی حوصلہ افزائی ایسے میں کیا ہم اس وباء سے نجات حاصل کر پائیں گے جو دوماہ کے دوران دنیا میں ایک لاکھ34ہزار افراد کو نگل گئی۔ 20لاکھ سے زائد مرد وزن اس سے متاثر ہیں، وہ ترقی یافتہ ممالک جو سائنسی اعتبار سے اس مقام پر کھڑے ہیں کہ دوسرے سیارے تسخیر کر چکنے کے بعد وہ زمین کی پرتوں کا حساب اور ان میں پوشیدہ خزانوں تک رسائی کی دسترس رکھتے ہیں، کورونا وائرس کی وبا کے سامنے بے بس ہیں۔ خودپاکستان میں صورتحال دن بدن تشویشناک ہوتی جارہی ہے، تادم تحریر ملک میں اس وبا کے مریضوں کی تعداد6430ہوچکی۔ناخواندگی،طبی سہولتوں میں کمی، دانائی کے مظاہرے سے اجتناب اور دیگر وجوہات کی بدولت یہ مرض بڑھ رہا ہے۔ حکومتی اکابرین پچھلے چند دنوں کے دوران آنے والے دنوں میں اس وبا سے پیدا ہونے والے حالات کاجونقشہ کھینچتے دکھائی دئیے وہ تو اس امر کا متقاضی تھا کہ باقی کے سارے کام التواء میں ڈال کر سارے وسائل صرف دو امور پر صرف ہوں، اولاً وبا سے اپنے لوگوںکو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنا اور ثانیاً زندگی کے سلسلے کو قائم ودائم رکھنے کیلئے ضروری اقدامات۔ یہ بجا ہے کہ کچھ اقدامات ہو ئے لیکن ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی خود نمائی کے ماروں نے ان اقدامات کو کامیاب ہونے دیا یا پھر یہ بھی تعصبات کا شکار ہوگئے؟ بنیادی اہمیت کے معاملات اور مسائل کویکسر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن جس بات کو سمجھنے کی شعوری کوشش نہیں کی جارہی وہ یہ ہے کہ اگر لاک ڈائون اور جزوی لاک ڈائون کے باوجود مریضوں کی تعداد6ہزار سے تجاوز کر چکی ہے تو معمول کے حالات میں صورتحال کیا ہوتی؟ 68فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے اور چھوٹے بڑے شہروں میں کل آبادی کا 32فیصد، ابھی تک کے اقدامات میںبظاہر چھوٹے بڑے شہر ہی ترجیح دکھائی دے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان شہروں اوردیہی علاقوں میں بھی احتیاطی تدابیر کی اہمیت اور ضرورت کو نظراندازکیا جارہا ہے ۔ جفاکشی، مخصوص ماحول اور چند دوسری عمومی چیزوں سے کورونا کوشکست دینے کی باتیں ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں، اس امر کی نشاندہی میں کوئی امر مانع نہیں کہ لاک ڈائون یا پھر اب جاری جزوی لاک ڈائون دونوں مرحلوں پر عالمی ادارہ صحت کے مقررکردہ راہنما اصولوں کویکسر نظرانداز کیا گیا اور کیا جارہا ہے۔ جزوی لاک ڈائون کا جو مرحلہ15اپریل سے شروع ہوا اس کے پہلے دو دنوںمیں ملک بھر کے بازاروں میںحفظان صحت کے اصولوں کو جس طور پامال کیا گیا وہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری طرف بعض سیاسی رہنمائوں میںجاری بیان بازی مایوسی پیدا کررہی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اس کڑے وقت میں22کروڑلوگوں کی ایک ہی سمت ہونی چاہئے، ہر خاص وعام کو یہ سوچنا ہوگا کہ اپنے آنے والے کل اور بچوں کے مستقبل کوکیسے محفوظ کیا جائے۔یہ اس صورت ممکن ہوگا کہ جب وفاقی وصوبائی حکومتیں متفقہ فیصلے کریں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ سماج کے مختلف طبقات کی ذمہ دارشخصیات اپنے سماجی فرائض کو انسانیت کی خاطر اداکریں مسائل ومشکلات کا شکار لوگوں کے لئے حالات کی سختی میںکمی لانے کے لئے حکومت اور صاحب حیثیت افراد وادارے ملکر کام کریں''آدھا تیتر آدھا بٹیر''جیسے معاملات مزید مشکلات پیدا کریں گے۔بہر طور وقت اب بھی ہاتھ سے نکل ہر گز نہیں گیا جو دن گزر گئے ان میں اپنائے گئے رویوں پر ملال سے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں اتحادواتفاق کیساتھ فیصلے کیجئے اور عوام کی رہنمائی، یہی ہماری ضرورت ہے۔