کورنا وائرس کے معاشی اثرات

کورونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر کی معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ اب تک ہزاروں افراد کی ہلاکت کا سبب بن چکی ہے اور اب بھی اس کے معاشی، سماجی اور سیاسی اثرات کا حتمی طور پر اندازہ کرنا جلدبازی ہوگی۔ ایک مبصر نے اسے ان الفاظ میں سمویا کہ کورونا وائرس نے عالمی منڈی کو ایک عالمی ہسپتال میں تبدیل کر دیا ہے۔ اس وائرس سے ہر فرد بلاتفریق سرحد غیرمحفوظ ہے۔ اس وائرس سے متعلق ابتدائی انتباہ کے باوجود دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک بھی اس سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ یہ ممالک اب وائرس کا مرکز بن چکے ہیں اور ان کے معاشی انحطاط کا شکار ہونے کے خطرات نمایاں ہو گئے ہیں جو موجودہ عالمی نظام میں تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اس سب کے باوجود یہ وائرس دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو ہی سب سے زیادہ متاثر کرے گا۔ دنیا کے ایک چوتھائی آبادی کا حامل جنوبی ایشیاء اس وبا کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوگا۔ اگرچہ اس وقت یہاں دنیا کے باقی خطوں کی نسبت کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد قدر کم ہی ہے البتہ یہاں کے دگرگوں نظام صحت اور کمزور معیشت کے سبب وبا کا پھیلاؤ تباہ کن ہو سکتا ہے۔
اس وبا کے بیچو بیچ عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ نے اس خطے میں بھیانک معاشی صورت کی تصویرکشی کی ہے جس کے مطابق وبا کے بعد ہم پچھلے چالیس برسوں کی بدترین معاشی ابتری کا شکار ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق خطے کی معاشی نمو رواں سال کے دوران1.8سے لیکر2.8فیصد پر گرنے کا امکان ہے جبکہ ابھی صرف چھ ماہ قبل یہ نمو6.3فیصد پر آنے کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ حالات اگر مزید خراب ہوئے تو پورے خطے کو ہی اپنے جی ڈی پی میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لوگوں کی ایک بڑی تعداد غربت میں ہونے کے سبب یہاں پر سماجی اور سیاسی نتائج گمبھیر تر ہو سکتے ہیں۔ یہاں صورتحال اس لئے بھی مزید خطرناک ہو سکتی ہے کہ اس خطے میں وبا کے باوجود پرتشدد کارروائیوں کا خطرہ جوں کا توں موجود ہے اور اس قدر ابتر حالات کے باوجود بھی کشیدگی میں کمی کے کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔ پاکستان اور بھارت کے بیچ لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں اور افغانستان میں امن کے باوجود جاری قتل وغارت میں کسی طور کمی ہوتی نظر نہیں آرہی۔
پاکستان جس کی معیشت کی کشتی پہلے ہی ہچکولے کھارہی تھی، اپنے لوگوں کی جانیں اور ان کے روزگار بیک وقت بچانے کی پاداش میں سب سے زیادہ نقصان اُٹھا سکتا ہے۔ افغانستان اور سری لنکا کیساتھ پاکستان بھی معکوس معاشی نمو کے خطرات سے دوچار ہے۔ ہر سال 1.8فیصد کی رفتار سے بڑھنے والی آبادی کے ہوتے ہوئے بہتری کے امکانات مزید مدہم ہو چکے ہیں۔ آبادی میں اضافہ جو اس سے پہلے کبھی بھی ہمارے پالیسی سازوں کی توجہ کامرکز نہیں رہا اس وقت ہمارے نظام صحت کے گھٹنوں بیٹھنے کی ایک بڑی وجہ بن چکا ہے۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ موجودہ بحران نے ہمارے نظام میں موجود سقموں کو بیدردی سے افشا کر دیا ہے۔
مزید برآں ہمارے سامنے ایک اور بڑا مسئلہ بھی آن کھڑا ہے اور وہ یہ کہ تیل کے پیداواری عرب اور خلیجی ممالک میں روزگار کے مواقع محدود ہوتے جارہے ہیں۔ یہ ممالک پاکستانی مزدوروں کیلئے معاش کا ایک بڑا ذریعہ تھے اور یہاں روزگار کے مواقعوں میں کمی کے باعث نہ صرف بیروزگاری میں اضافہ ہوگا بلکہ ہمیں زرمبادلہ بھی کم موصول ہوا کرے گا۔ اس صورتحال سے معاشی اور سماجی طور پر خاصے سنجیدہ اثرات مرتب ہوں گے۔
پاکستان پہلے ہی اندرونی اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور اب حکومت کیلئے اپنے معاشی ذخائر کو وبا سے نمٹنے کیلئے مختص کر دینے کی مجبوری نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ بلاشبہ اس صورتحال میں معاشی طور پر سب سے زیادہ پسنے والے طبقات تک مالی امداد پہنچانا ایک خوش آئند قدم ہے مگر ملکی خزانے میں محدود وسائل کے سبب یہ کوششیں درپیش مشکلات سے نمٹنے کیلئے ناکافی ثابت ہوں گی۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق فوری معاشی تنزلی کیساتھ آسمان کو چھوتا مالیاتی خسارہ نہایت تکلیف دہ اثرات مرتب کرے گا۔ اس وقت پاکستان کے کل قرضہ جات اور خرچوں کا مجموعی حجم اکتالیس کھرب روپے ہے جو ہمارے جی ڈی پی کا94فیصد بنتا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ بڑا مسئلہ بیرونی قرضوں کا معاملہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے امیر ممالک سے پاکستان سمیت ان دیگر غریب ممالک کے قرضوں کو معاف کر دینے کی درخواست کی ہے جو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ بلاشبہ قرضوں کی معافی یا کم ازکم ان کی واپسی کے وقت میں توسیع غریب ممالک کو اس بحران سے نمٹنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان وہ اکیلے رہنما نہیں جو دنیا کے امیر ممالک سے غریب ممالک کی معاشی مشکلات بانٹنے کا کہہ رہے ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اپنے حالیہ بیان میں ایک ایسی صورت پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو بھی بحران سے نمٹنے کیلئے برابر مواقع حاصل ہو سکیں۔ انتونیو گوتریز کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور وہاں کے غریب باسیوں تک غذا کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کھربوں ڈالر درکار ہوں گے مگر ان اپیلوں پر خوشحال ممالک کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا کہ وہ خود وبا سے نمٹنے کیلئے برسر پیکار ہیں اور انہیں فی الوقت اپنی معیشت کے بھی مستحکم رہنے کا یقین نہیں۔
اہم بات یہ کہ اس وقت کورونا سے نمٹنے کیلئے ہمیں عالمی ردعمل کی ضرورت ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ''ہم اس باہمی طور پر مربوط اور منحصر دنیا میں صرف اور صرف اتنے ہی طاقتور ہیں جتنا کہ اس دنیا کا کمزور ترین نظام صحت''۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)