کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا

لاک ڈاؤن کو ہم اُردو زبان اور اس قبیل کی دیگر زبانوں میں تالہ بندی کہہ سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ بات ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے کہ تالہ بندی اور دستور زباں بندی میں بڑا فرق ہے اس لئے ہمیں تالہ بندی کے نتیجہ میں دستور زبان بندی پر عمل نہ کرتے ہوئے یہ بات کہنے میں عار نہیں ہونی چاہئے کہ
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
اس بات کو جانتے بوجھتے لاک ڈاؤن یا تالہ بندی کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا جارہا حالانکہ کہیں دور پار سے لیکر آئی ہے چلتی ہوا کرونا نامی قاتل وائرس کو جس کی دھاک سارے عالم پر چھائی ہوئی ہے۔ چلتی ہواؤں یا بدلتے موسموں پر کسی کا بس نہیں چلتا کوئی سرحد نہیں ہوتی ان کی، اسلئے کرۂ ارض کی فضاؤں میں حدود وقیود کو خاطر میں لائے بغیر یہ قدرت کے اس نظام کی پیروی میں دندناتی پھرتی ہیں جس کو موسمی تغیرات کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر ایک مقام کی فضاؤں میں موسمی تغیرات کی وجہ سے ہوا کے دباؤ میں کمی ہوجائے تو کسی دوسرے مقام کی ہوا اس کمی کو دور کرنے کیلئے آندھی اور طوفان بن کر بڑے ہیبت ناک انداز سے دوڑتی چلی آتی ہے اور بعض اوقات اس تیز وطرار یا طوفانی ہوا کے دوش پر کالے سیاہ بادلوں کی فوج بھی اُڑتی چلی آتی ہے اور یوں ہم ایسی ہوا کو طوفان باد وباراں کے نام سے یاد کرنے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے بارش اور ژالہ باری سے میدان کے میدان جل تھل ہو جاتے ہیں۔ کچے مکانوں کی دیواریں گرتی ہیں اور لوگ چادر وچار دیواری کا خیال رکھے بغیر کچے مکانوں میں در آتے ہیں۔ ہائے اب کے جوبن ساون کے پون چلی تو
سدا ایک ہی رخ ناؤ نہیں چلتی
چلو تم ادھر کو جدھر کی ہوا ہو
کا راگ الاپتا ظالم قاتل اور تباہ کن کوویڈ19 بھی اس کے دوش پر سوار ہوکر ملکوں ملکوں اپنی تباہ کاریاں پھیلانے لگا۔ اس ناہنجار کو نہ ہماری سرحدوں کے محافظ روک سکے اور نہ ہی ہوا کے گھوڑے نے اس کو اپنے دوش کی سواری سے منع کیا، جس طرح چلتی ہوا پر سرحدوں کی پاسداری یا حدود وقیود کا قانون لاگو نہیں کیا جاسکتا اسے اپنے ساتھ بے مہر موسموں کو لانے لیجانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی، کرونا وائرس نے عالمگیر سطح پر جتنی بھی تباہ کاریاں کیں اس سے اہل وطن پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ وہ بھی اس گلوبل ویلیج میں رہتے ہیں جہاں کی ہر خبر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی کی بدولت ایک مقام سے کسی دوسرے مقام تک پہنچنے میں دیر نہیں لگتی۔ جب صورتحال ایسی ہے تو بھلا ہم یا ہمارے یہ سب کچھ دیکھتے بھالتے بسنت کے اندھوں کی طرح ہرا ہی ہرا تو دیکھ نہیں سکتے تھے، سو انہوں نے
نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں
ہم نوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
کے مصداق ہوا کے دوش پر اُڑ کر پاکستان میں در آنے والے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے اور اس کی تباہ کاریوں سے ملک اور قوم کو بچانے کی خاطر قہردرویش برجان درویش کے مصداق اپنی گلیوں، بازاروں، فیکٹریوں، کارخانوں، تعلیمی اور غیرتعلیمی اداروں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کی سرگرمیوں کی تالہ بندی یا لاکردی اور یوں ہنستی بستی اور چلتی پھرتی زندگی بھر کی سرگرمیاں مفقود اور مفلوج ہوکر رہ گئیں کہ زندگی کے تعاقب میں کرونا موت کا لٹھ یا اللہ کی بے آواز لاٹھی لیکر چلا آیا تھا۔ ہم نے حکومت یا اس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کرونا کے اس طوفان بلاخیز کو بیڑیاں ڈالنے کیلئے تالہ بندی کی اس مصلحت کو بسر وچشم قبول کیا۔ اپنے اپنے گھروں میں مقید ہوکر رہ گئے ہم سب کہ پوری قوم پر امتحان بن کر اُترا تھا یہ عذاب الٰہی۔ بند ہوگئے ناجائز منافع خوری کے بازار، چوپٹ ہوگئی رشوت خوروں کی اضافی یا اوپری آمدن مگر اس کا کیا جائے کہ خشک لکڑی کیساتھ گیلی بھی جل جاتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے محنت کش غیرمعینہ مدت تک ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھنے پر مجبور گئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے ایک کروڑ نوکریاں دلانے کا خواب سبزباغ بن کر تاخت وتاراج ہوگیا۔ ایسے میں بھلا کون خاموش رہ سکتا ہے، دستور تالہ بندی کیخلاف آواز اُٹھانے والے
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
فیض احمد فیض کے اس فیض نے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے کے عادی ہنرمند، محنت کش، رزق حلال کے متلاشی ہم وطنوں کو دستور زباں بندی توڑنے پر مجبور کردیا۔ تاجر برادری نے تالہ بندی جاری رکھنے کے حوالہ سے سرکار کی حکم عدولی کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ انہوں نے لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کو ناقابل قبول گردانتے ہوئے اپنے کاروباری مراکز کھول دینے کی قسم کھالی ہے۔ کیونکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ کرونا سے ہم نے اپنی حفاظت خود کرنی ہے، جب ایوان اقتدار نے مزید دو ہفتہ لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا ہے اور دوسری طرف مفتی منیب نے مساجد سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لگتا ہے کرونا کو چاروں شانے چت کر دینے کی یہ لڑائی چومکھی لڑائی کا منظرنامہ پیش کرنے لگی ہے، ایسے میں ہم شاعر مشرق کا یہ فرمودہ ہی آج کے کالم کا عنوان بنا سکتے ہیں کہ
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی