معیشت کیلئے ریلیف اور مسائل و مشکلات کا سیلاب

آئی ایم ایف نے پاکستان سمیت 76ممالک کے 40ارب ڈالر کے قرضوں کی واپسی کو ایک سال کے لئے منجمد کردیا۔ یہ قرضے رواں سال کے دوران ادا کئے جانے تھے۔ آئی ایم ایف کے حکام کا کہنا ہے کہ اقساط کی ادائیگی موخر کئے جانے کی وجہ کورونا وباء سے پیدا شدہ عمومی صورتحال میں متاثر ہوئی معیشتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کی معیشتیں مزید متاثر نہ ہوں۔ دریں اثنا سٹیٹ بنک نے شرح سود میں 2فیصد مزید کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد کاروباری اداروں اور عوام کے لئے سرمائے کا حصول آسان بنانا ہے تاکہ کورونا کے اثرات کم کرتے ہوئے معاشی نمو کو فروغ ملے اور روز گار کے مواقع محفوظ بنائے جاسکیں۔ سٹیٹ بنک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں آئی ایم ایف سے مزید سہولت ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان نے قرض ادائیگی میں ترقی پذیر ممالک کو سہولت دینے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ مناسب فیصلہ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا ڈبن ساشیز سے ملاقات کے دوران کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے ترقی پذیر ممالک کو معاشی بحالی کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات میں غیر مشروط تعاون کریں۔ آئی ایم ایف' ورلڈ بنک' ایشین ڈویلپمنٹ بنک' اسلامی ترقیاتی بنک اور پیرس کلب کا پاکستان کے لئے قرضوں کی ادائیگی ایک سال کے لئے روکنے کا فیصلہ خوش آئند ہے جبکہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لئے 1.4ارب ڈالر کا نیا قرضہ جاری کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کو قرضوں اور اقساط کی ادائیگی میں رعایت دینے کیلئے وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر ممالک کے متعدد رہنمائوں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اپیل کی تھی۔ کورونا وباء سے متاثرہ معیشتوں کے لئے موجودہ حالات میں عالمی مالیاتی اداروں کا فیصلہ تازہ ہوا کاجھونکا ثابت ہوگا۔ اپنی اپنی جغرافیائی حدود میں پیدا ہونے والے مسائل اور معاشی دبائو کا شکار ترقی پذیر ممالک اور بالخصوص پاکستان کے لئے یہ سہولت نعمت سے کم نہیں اندریں حالات بہت ضروری ہے کہ ہمارے پالیسی ساز مستقبل کے لئے معاشی پالیسیاں بناتے وقت نہ صرف معروضی حالات کو مد نظر رکھیں بلکہ غیر ترقیاتی مدوں میں اخراجات کو مناسب طور پر کم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائیں اس وقت جب دنیا میں کورونا وباء کے پھیلائو سے ساڑھے چار ارب کے لگ بھگ افراد محصور (گھروں میں بیٹھنے پر مجبور) ہیں اور معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا بھر میں تین کروڑ سے زیادہ لوگ بیروزگار ہوں گے اندازہ یہ لگایا جا رہا ہے بیروزگاری کی شرح عالمی ماہرین کے اندازوں اور اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہوگی کیونکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے پاس ترقی یافتہ ممالک کی طرح کے مربوط وسائل نہیں ہیں کہ وہ محفوظ اثاثوں سے معیشت کو سہارا دے سکیں۔ پاکستان جیسے ممالک جن کی معیشت پہلے ہی دبائو کا شکار ہے بدلتے ہوئے حالات میں دبائو سے نکلنے کے لئے عالمی مالیاتی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف سمیت دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا حالیہ ریلیف بجا طور پر معاشی دبائو کو کم کرنے میں مدد کرے گا زیادہ مناسب ہوتا اگر قرضوں کی وصولی ایک سال کے لئے روک دینے کی بجائے انہیں ری شیڈول کرنے اور معاشی بہتری کے لئے بعض قرضے معاف کردئیے جاتے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ معاشی دبائو کاشکار پاکستان ایسی ریاستوں کو کورونا وباء کی وجہ سے جن حالات کا سامنا ہے عالمی مالیاتی ادارے ان کا از سر نو جائزہ لیں۔ اس امر سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ کورونا وباء سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کو اس وباء سے نکلنے کے بعد معاشی بحالی یا کم از کم وباء کے پھیلنے سے قبل والی صورتحال تک واپس آنے میں بہت وقت لگے گا۔ دنیا بھر سے پاکستانی ٹیکسٹائل کے شعبے کے پاس اربوں ڈالر کے آرڈرز کورونا پھیلنے کی وجہ سے بند ہوئے کاروباروں کی بناء پر منسوخ ہوئے مالیاتی بحران کاشکار یہ صنعت بھی حکومت کی طرف دیکھ رہی ہے حکومت کو بھی بجا طور پر اس صورتحال کا ادراک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر شعبوں کے ساتھ ٹیکسٹائل کے شعبہ کے لئے بھی حکومت کوئی ریلیف پیکج دے۔ یہاں یہ امر بھی مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے کہ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور کساد بازاری بھی خطرے کی حد عبور کرسکتی ہے۔ ان حالات میں معیشت کے مزید دبائو میں آنے کے خطرات کہیں زیادہ ہیں۔ یہ خطرہ بھی ہے کہ غذائی ضروریات میں کمی ہو ان حالات میں دو باتیں بہت اہم ہیں اولاً یہ کہ ماضی کی طرح ڈنگ ٹپائو پالیسیوں سے جی بہلانے سے گریز اور ثانیاً تمام شعبوں میں سالانہ اخراجات میں اس طور کمی کی ٹھوس تجاویز کے ان شعبوں کی کارکردگی بھی متاثر نہ ہونے پائے۔ معاشی ماہرین پالیسی سازی کے وقت بنک دولت آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ کو بطور خاص مد نظر رکھیں۔ یہاں اس امر کی جانب توجہ دلانا بھی از بس ضروری ہے کہ وفاق پاکستان چاروں صوبائی حکومتیں اور سیاسی قیادتوں کو شخصی و سیاسی اختلافات بھلا کر معاشی و سماجی بحرانوں سے نکلنے کے لئے قوم و ملک کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے حالات کی ابتری کے باعث ملنے والے مالیاتی ریلیف سے تن آسانی میں مبتلا نہ ہوا جائے یہ معاشی ماہرین اور بالخصوص وفاقی حکومت کی معاشی ٹیم کے امتحان کا وقت ہے اسے اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ معیشت کو از سر نو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے اور ترقی کے اہداف کے حصول کی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ یہ بھی مناسب ہوگا کہ وزیر اعظم جناب عمران خان پارلیمانی حزب اختلاف کے رہنمائوں کو موجودہ حالات کے حوالے سے اعتماد میں لینے اور مستقبل کے حوالے سے حکمت عملی وضع کرنے میں ان کی تجاویز کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلائیں۔ 22کروڑ کی آبادی والے ملک کی سیاسی قیادت اگر موجودہ حالات میں متحد و متفق نہیں ہو پاتی تو پھر کب ہوگی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران قیادت وسعت قلبی کا مظاہرہ کرے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ باقی ماندہ دنیا کی طرح ہمیں بھی بحرانوں اور مسائل کا سامنا ہے محض یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوا جاسکتا کہ ایسے معاملات تو امریکہ میں بھی ہیں آج کے حالات میں ہم کہاں کھڑے ہیں اور آنے والے دنوں میں کیا مشکلات ہوسکتی ہیں ہر دو کو سامنے رکھتے ہوئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے امید واثق ہے کہ حکومت اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں برتے گی۔