فکری مغالطہ،نقصان دہ ہے

عالم اسلام اور پاکستان میں بڑے بڑے واقعات اور نازک حالات کے دوران جہاں قومی وملی یکجہتی اور فکری یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے ،عموماً فکری انتشار، تذبذب اور خیالات کی آوارگی اور پریشانی کا عالم ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ جو چیز دیگر اقوام کے ہاں صرف جانی و مادی وسائل کے اتلاف ونقصان کا سبب بنتا ہے ہمارے ہاں اس سے بڑھ کر قومی وحدت اور عقائد تک کے مجروح ہونے کا سبب بن جاتی ہے۔گزرے تاریخی واقعات کو کیا گزرے سانپ کی لکیر کی مانند پٹیں گے ،موجودہ حالات میں دیکھئے نا،کرونا کے بارے میں حکومت پاکستان کو زیادہ تیاری کے ساتھ انتظامات کرنے چاہیئے تھے کیونکہ کرونا کی ابتداء ہمارے عظیم دوست چین کے شہر ووہان ہی سے ہوئی تھی۔جہاں ہمارے ہزاروں طلبہ بھی موجود تھے اور یہ نومبر19کا واقعہ ہے۔کیا چین نے اپنے دوست پاکستان کو اس کی اطلاع وانتباہ نہیں کی تھی ورنہ تھوڑی بہت سُن گن تو آئی ہوگی کیا چین نے حفظ ما تقدم کے طور پر حفاظتی کٹس اور وینٹی لیٹرز وغیرہ کی تیاری پاکستان کو نہیں بتایا ہوگا۔دیسی ساخت کی سہی،کچھ تیاری ہو سکتی تھی نا جو سامان اب چین سے جہازوں میں بھر بھر کر آرہا ہے اس کی بھی کچھ پہلے سے بھی منصوبہ بندی ہو سکتی تھی۔لیکن منصوبہ بندی کے لئے دماغ،فکر اور دل سوزی کی ضرور ت ہوتی ہے ذرا مصر کا تاریخی واقعہ جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے سورہ یوسف یاد کیجئے۔حضرت یوسف کس منصوبہ بند ی کے ساتھ بادشاہ کے خواب کی تعبیر بتا کر فرما رہے ہیں کہ آئندہ جو قحط سالی کے سال آنے ہیں اس کے لئے انتظامات ضروری ہیں اور اس سلسلے میں میری خدمات حاضر ہیں اور انپی مہارت سے بادشاہ مصر کو بتا دیا کہ ایک تو جو فاضل گندم ہے وہ گوداموں میں بمع خوشوں کے ہی محفوظ کرالیں دوسرا یہ کہ مجھے وزارت خزانہ دیجئے کیونکہ ایک تو مجھ میں اس کی حفاظت(امانت ودیانت کے سبب)کی صلاحیت ہے اور دوسری یہ کہ میں حسابات(اکائونٹنگ) کے کام کو جانتا بھی ہوں اور پھر تاریخ نے گواہی دی کہ کس خوبصورتی کے ساتھ مصر میں وہ آزمائش اور قحط کا زمانہ گزرا اور کس طرح ارد گرد کے لوگوں کی بھی مدد کی۔۔لیکن ہمارے ہاں کرونا جیسی وبا کے دو مہینوں بعد بھی وفاق اور سندھ میں یہ طے نہ ہوسکا کہ لاک ڈائون کب سے کیسے اور کب تک کرنا ہے سب اپنی اپنی ڈفلی بجا رہے ہیں۔ وزیراعظم کو لوگوں کی بھوک سے مرنے کی فکر ہے اور وزیراعلیٰ سندھ کو لوگوں کو کرونا سے مرنے کی فکرگویا دونوں حضرات کو فکر عوام کے جانوں کی ہے کاز ومقصد مشترک ہے لیکن عمل وفکر میں بہت دوری۔وزیراعظم صاحب کو چاہیئے کہ قرآن کریم سے رہنمائی لیا کریں۔نبی کریمۖکو ارشاد باری تعالیٰ ہے''امور میں (صحابہ)سے مشورہ کیا کریں لیکن جب آپ عزم کرلیں،تو اللہ پر توکل کریں''۔مشورے میں برکت ہوتی ہے لیکن امیر کا فیصلہ ماننا بھی ضروری اور باعث خیروبرکت ہوتا ہے۔دوسری اہم کنفیوژن کا تعلق ہمارے دینی معاملات سے متعلق ہے ۔کرونا چونکہ وہ وائرس ہے جو ایک سے دوسرے کو منتقل ہوتا ہے اسی بناء پر ماہرین اطباء نے اس کے اثرات کم رکھنے اورختم کرنے کے لئے لاک ڈائون اور سماجی فاصلہ ضروری قراردیا ہے۔اس مقصد کے لئے تعلیمی ادارے،کھیل کود کے میدان،بازار،میلے ٹھیلے،دربار،خانقاہیں اور مساجد سب اس کی زد میں آئے۔حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو سال میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ وباء کے سبب حرمین الشرفین اور دنیا میں اکثر دینی ادارے ومساجد اجتماعی عبادات کے لئے بند ہوئے ہیں اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ باجماعت نماز میں جو فضیلتیں اور سماجی فوائد ہیں وہ انفرادی میں نہیں اور یہ بات بھی ہمارے سامنے ہے کہ لوگ اپنی ضروریات کے لئے بازاروں میں نکلتے ہیں ۔حکومتی ریلیف فنڈ سے مدد لینے کے لئے بھی خواتین وحضرات بیسیوں سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہوتے رہے ہیں۔بعض دیگر مواقع ومقامات پر بعض عاقبت نااندیش اور نیم خواندہ قسم کے لوگ حکومتی احکامات وہدایات کی پروا نہیں کرتے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہونا چاہیئے کہ پڑھے لکھے ذمہ دار فہم اور دین ومذہب کے مساند پر بیٹھے لوگ اس کو بطور حوالہ استعمال کر تے ہوئے الزام لگائیں کہ حکومت مساجد بند کرنے کے درپے ہے اور اس تسلسل میں سعودی عرب اور امارات اور دیگر عرب ملکوں کے علماء کو مجبوراً گردانتے ہوئے کہ وہاں ملوکیت کے سبب کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا۔ کومورد الزام ٹھہراتے ہوئے اُن کی پیروی ضروری نہیں سمجھتے ۔ ہمارے علمائ،ائمہ مساجد،مشائخ اور مہتمیمین میں بھی اتحاد نہیں۔وہاں بھی فکری کنفیوژن اس لحاظ سے موجود ہے کہ بعض حکومتی آراء کے ساتھ اتفاق ضروری سمجھتے ہیں اور بعض خواہ مخواہ کا اختلاف کہ اس کے پیچھے سیاست کے جراثیم کار فرما ہوتے ہیں۔نتیجتاً عوام بے چارے پریشان کہ مساجد میں جائیں اور مختلف علاقوں سے آئے لوگوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے سے بھی خائف اور گھر میں نمازیں پڑھتے ہوئے بھی مطمئن نہیں۔اب خیرسے رمضان المبارک ہمارے سروں پر جلوہ فگن ہونے کو ہے ۔نماز تراویح تو ہمارے بڑے ذوق وشوق اور اہتمام کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں اور بہت سارے لوگ اس عبادت کو سال بھر کی کمی کوتاہیوں کا نعم البدل اور تلافی سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔رمضان المبارک کے بعد عیدین اور خاص کر حج کے ایام آنے والے ہیں خدشات یہی ہیں کہ اس دفعہ حج بھی حسب سابق ہونا مشکل ہے۔لہٰذا علماء وفقہاء کو چاہیئے کہ شرعی اجتہاد کرتے ہوئے اتفاق واتحاد حکومت کے ساتھ عوام کو ذہنی وفکری کنفیوژن سے نکالنے کے انتظامات کریں۔خاکسارانہ رائے یہ ہے کہ جن حضرات نے اس سال حج پہ جانا تھا اور اگر حج نہ ہوسکا تو اُن کے ارادوں کا نعم البدل یوں ہوسکتا ہے کہ حج کے پانچ چھ لاکھ روپے کرونا ریلیف فنڈ میں دیکر''دل کسی (غریب) کاہاتھ میں لے کر حج اکبر جان لے، کے مصداق کرلیں۔