مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

ساس بہو کا جھگڑا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں ہے،ہمارے ہا ں تو پھر بزرگوں کا احترام اس رشتے کے نازک پہلوئوں میں مثبت اور منفی دونوں طرح کے رویوں کی نشاندہی کا باعث ہے ،جبکہ مغربی معاشرے میں خاص طورپر ساس کو برداشت نہ کرنے کے حوالے سے لا تعداد لطیفے مشہور ہیں،جن میں سے ایک آدھ کا تذکرہ آگے سطور میں آبھی سکتا ہے تاہم پختون معاشرے میں ساس سسر کو برداشت کرنے کے ضمن میں ایک کہاوت بہت ہی مشہور ہے جس کا اردو میں مفہوم یہ بنتا ہے یعنی شادی کے بعد کی صورتحال پر ایک خوبصورت طنزیہ تبصرہ ہے کہ''ایک سال تو بندہ ماں کے خصم کے ساتھ بھی گزارلیتا ہے''یہ ان لوگوں کے رویوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اپنی نوبیاہتا بیویوں کی ضد کے آگے ہارمان کر ماںباپ سے الگ زندگی گزارنے کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہیں مگر صاف چھپتے بھی نہیں ،سامنے آتے بھی نہیں والی صورتحال سے دوچار ہوتے ہوئے دو ٹوک فیصلہ نہیں کر سکتا اور یوں شادی کے بعد ہاں ہاں ،ناں ،ناں کی کیفیت میں ایک آدھ سال تو اپنے خاندان والوں کے ساتھ گزار ہی لیتے ہیں اس دوران میں ساس اور بہو کے مابین تکرار پانی پت کی جنگوں کا روپ دھارتے ہوئے بالآخر دائمی علیحدگی پر منتج ہو جاتی ہے اس لئے حتمی فیصلے تک پہنچتے پہنچتے وہ جو ایک آدھ سال کا عرصہ لگ جاتا ہے جس کے بعد علیحدگی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بچتا نہیں تو ایسے ہی موقعوں پر کہا جاتا ہے کہ شادی کے بعد بندہ ماں کے خصم کے ساتھ ایک آدھ سال تو گزار ہی لیتا ہے پشتو زبان کی یہ ضرب المثل یا کہا وت جو بھی آپ سمجھ لیں مجھے اس لیئے یاد آئی کہ خیبرپختونخواحکومت کے حوالے سے آج ایک ایک خبر کی سرخی اخبار نے یوں جمائی ہے کہ''خطرہ ٹلا نہیں،کچھ عرصہ کرونا کے ساتھ رہنا پڑے گا'' کتنا عرصہ رہنا پڑے گا؟اس کی وضاحت تو موجود نہیں ہے،جس سے مجھے یہ گمان گزرا کہ کرونا ہمارے لئے اب ساس یا سسر کی حیثیت اختیار کئے ہوئے ہے،ایک تو یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ یہ مونث ہے یا مذکر کیونکہ اگر اسے اپنے نام کرونا کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ مونث کا صیغہ لگتا ہے،تاہم اگر اس کے ساتھ وائرس کا لاحقہ لگایا جائے تو پھر یہ مذکر بن جاتا ہے بہرحال مونث ہونے کے ناتے یہ ساس ہو یا پھر وائرس کا تڑکا لگنے کے بعد یہ سسر بن جائے ہمیں اس سے کیا بات تو وہی ہے کہ چاقو خربوزے کے مارا جائے یا خربوزہ چاقو پر گرے نتیجہ تو ایک ہی نکلتا ہے اور پشتو کہاوت میں بھی دیکھا جائے تو''ماں کے خصم''کے ساتھ ایک آدھ سال گزارنے کا مطلب دراصل دلہن کے ساس کے ساتھ اتنی مدت گزارنے پر مجبور ہونا ہوتا ہے اس لیئے یہ جو سرکاروالا تبار کے نمائندے نے کچھ مدت کرونا کے ساتھ گزارنے کی بات کی ہے تو بھلے سے کرونا ساس ہو یا سسر ،اس کے ہاتھوں معاشرے میں(اللہ نہ کرے)توڑ پھوڑ تو برداشت کرنی ہے،کیونکہ یہ تو عذاب الٰہی ہے جس کے بارے میں رئیس امروہوی نے کہا تھا
کہنے لگے کہ ہم کو تباہی کا غم نہیں
میں نے کہا کہ وجہ تباہی تو ہے
ہم لوگ ہیں عذاب الٰہی سے بے خبر
اے بے خبر عذاب الٰہی یہی تو ہے
ایک تصور یہ بھی ہے کہ جب شکلیں حد سے بڑھ جاتی ہیں تو انسان اس کے ساتھ جینے کا عادی ہو جاتا ہے مگر یہاں تو جینے سے زیادہ''مرنے''کا خوف پوری دنیا پر طاری ہے اور کچھ یار لوگ بھی سوشل میڈیا پر ایسی ایسی پوسٹیں لگا رہے ہیں کہ بندہ کرونا کابے شک شکار نہ ہو اوراللہ بچائے رکھے لیکن اس کا خوف اس قدر''جان لیوا''ہے کہ جان لے نہ لے نفسیاتی مسائل کا شکار ضرور ہو جاتا ہے اس لئے وہ جو غالب نے کہا تھا کہ
رنج سے خو گر ہو ا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
تو اب اس پر یقین متزلزل ہو تا جارہا ہے التبہ اسی غزل کا مطلع زیادہ اہمیت کا حامل دکھائی دے رہا ہے اور اس کرونا کے ہاتھوں آج کا انسان بالکل اسی انداز میں سوچ رہا ہے کہ
یوں ہی گرروتا رہا غالب تو اے اہل جہاں!
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہوگئیں
معاف کیجئے گا،میں بھی مایوسی نہیں پھیلانا چاہتا،اس لئے کیوں نہ اس کرونا کے ساتھ جو اپنے نام کے حوالے سے''ساس'' ہی لگتی ہے وہی سلوک کیا جائے جو ایک مغربی ملک میں ایک خاتون نے مدت بعد گھر آکر چند روز گزارنے والی اپنی ساس کے ساتھ روا رکھا تھا صبح ناشتے سے لیکر رات کے کھانے تک جب بھی ڈائننگ ٹیبل پر ناشتہ یا کھانا تقسیم کیا جاتا تو گھر کا پالتو کتا آکر بیٹھ جاتا اور ساس کو گھورتے ہوئے غرانا بھی شروع کردیتا حالانکہ ساس بے چاری کتے کے ساتھ بہت پیار جتاتی اور عام اوقات میں جب ساس کتے کے بدن پر ہاتھ پھیرتی تو وہ اس کی اس شفقت کا جوابی شکریہ دم ہلا کر بھی دیتا،مگر صرف کھانے کے اوقات میں اس کا رویہ بدل جاتا،کتے کی اس کیفیت سے تنگ آکر بالآخر خاتون(ساس) نے اپنے پوتے سے پوچھا کہ کتا اس کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کئے ہوئے ہے ،پوتے نے کہا،دادی ویسے تو ہمارا کتا بہت اچھا ہے مگر اسے آپ کی وجہ سے کھانا دیر سے ملتا ہے اس لئے وہ آپ کو گھورتے ہوئے غراتا ہے کیونکہ امی آپ کو جس برتن میں کھانا دیتی ہے وہ کتے کا ہے اور جب تک برتن آپ سے فارغ نہیں ہوتا یہ بھوکا رہتا ہے بے چارہ!تو کیوں نہ ہم بھی اس کرونا کے ساتھ ایسا ہی کچھ سلوک کریں کہ پوتے کی بات سن کر فوری طور پر بوریا بستر اٹھا کر واپس جانے والی ساس کی طرح یہ کرونا بھی بھاگ جائے۔