انگلینڈ نوجوان باسی نوڈلز کھانا مہنگا

نوجوان کو باسی نوڈلز کھانا مہنگا پڑگیا

انگلینڈ کے نوجوان نے اپنے دوست کی جانب سے چھوڑے ہوئے نوڈلز کھائے جس پر اس کی طبیعت خراب ہونے کے ساتھ ساتھ پورا جسم نیلا ہونا شروع ہوگیا اور ڈاکٹرز نے اس کی انگلیاں اور ٹانگیں کاٹ دیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایک یا دو دن کا پرانا کھانا کھانا کوئی نئی بات نہیں اور اکثر گھروں میں مختلف اقسام کے سالن یا چاول فریز کرنے کے بعد کچھ دن تک مسلسل کھائے جاتے ہیں اور اس انہیں کسی قسم کا نقصان بھی نہیں پہنچا لیکن برطانیہ میں ایک نوجوان کو باسی نوڈلز کھانا مہنگا پڑگیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں برطانیہ کے 19 سالہ طالب علم ’جے سی‘ کو دکھایا گیا ہے جو اپنے دوست کی جانب سے چھوڑے ہوئے نوڈلز کھانے کے بعد اسپتال پہنچ جاتا ہے تاہم یہ واقعہ ایک سال پرانا ہے جس کی ویڈیو اب وائرل ہورہی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے نوجوان جس کا نام صرف ‘جے سی‘ بتایا گیا ہے اپنے دوست کی جانب سے آرڈر کیا گیا چکن اور نوڈلز لنچ میں کھایا جس کے تقریباً 20 گھنٹوں بعد اس کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہوگئی۔ جے سی کے پورے جسم کا رنگ تبدیل ہونا شروع ہوگیا اور ابتدائی طور پر اسے بخار ہوا جس کے بعد دل خراب ہونا شروع ہوگیا اور بعد ازاں اسے سینے میں درد بھی محسوس ہوا جس کے بعد آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:اسٹرابیری کے صحت پر کرشماتی اثرات

جے سی کے ساتھ رہائش پذیر دوست نے اسے فوری طور پر اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹرز کی جانب سے اسے طبی امداد دی گئی تاہم نوجوان کا بلڈ پریشر مسلسل کم ہورہا تھا اور اس کے پورے جسم پر لال رنگ کے چھوٹے نشانات ابھر رہے تھے جو بہت تیزی سے پھیل رہے تھے اور ساتھ ہی اس کے پیر بھی پھولتے جارہے تھے۔ جس کے بعد ڈاکٹرز نے بڑے پیمانے پر انہیں اینٹی بائیوٹک ڈوز دینا شروع کردیں کیوں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ نوجوان کے جسم میں کون سا بیکٹریا تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہ کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹرز مسلسل نوجوان کو مختلف اقسام کی ادویات دے رہے تھے تاکہ وہ کسی طرح اس کے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرسکیں لیکن ان کی تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہورہی تھیں۔

بعد ازاں نوجوان کو فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے نوٹس کیا کہ اس کے ہاتھ اور پاؤں ٹھنڈے پڑ رہے تھے اور اس کا معدہ، گردہ ، دل اور جسم میں خون کی روانی سب بری طرح متاثر ہوچکی تھی۔ آخر میں نوجوان کا جسم خاص طور پر ٹانگیں اور ہاتھوں کی انگلیاں نیلی پڑگئی تھیں اور ڈاکٹرز کے پاس نوجوان کی ٹانگیں کاٹنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا کیوں کہ اگر فوری طور پر اس کی ٹانگیں نہیں کاٹی جاتی تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔