سر زمین بے آئین ،بھارتی فوج کی فائرنگ سے 8 کشمیری شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں میں 8کشمیریوں کو شہید کردیا ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی جاری کارروائیوں کے دوران گزشتہ ماہ فروری میں 8 کشمیریوں کو شہید کیا۔ کالے قانون کے تحت 107 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ پرامن مظاہرین پر فائرنگ سے 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔قابض فوج نے 179نام نہاد سرچ آپریشن کیے جبکہ 7 گھروں کو تباہ کیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق 1989 سے اب تک 95 ہزار 979 کشمیری بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہو چکے ہیں،

جبکہ 7 ہزار 232 افراد کو ماروائے عدالت قتل کیا گیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1 لاکھ 64 ہزار 230 عام شہریوں کو بیقصور گرفتارکرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ 1 لاکھ 10 ہزار سے زائد گھروں کو تباہ کر دیا گیا۔بھارتی دردندوں سے خواتین بھی محفوظ نہیں اور ان سالوں میں 11 ہزار 250 خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی،ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان،غلام احمد گلزار، الطاف احمد شاہ، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام ، فاروق احمد ڈار،سید شاہد شاہ ، سید شکیل احمد ، انجینئر رشید، امیر حمزاہ ، محمد یوسف فلاحی ، ڈاکٹر قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ ، غلا قادر بٹ ، محمد یوسف میر ، رفیق احمد گنائی ، غلام احمد بٹ ، شکیل احمد یتو، 65 سالہ محمد شعبان ڈار، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز ، محمد احسن اونتو، کشمیری صحافی آصف سلطان،سجاد احمد ڈار ، فہد شاہ اور درجن سے زائد کشمیری خواتین سمیت چار ہزار سے زائد حریت رہنما ، کارکن ، نوجوان اور طلبا کو جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے شہری حقوق پامال کئے جارہے ہیں ۔

مزید دیکھیں :   غیر قانونی چنگ چی سٹاپ سے اندرون شہر رش معمول بن گیا