روس یوکرین جنگ جاری

یوکرین کے ہتھیار ڈالنے تک جنگ جاری رہے گی

روس کے یوکرین پر حملے کو 12 دن ہوچکے ہیں اور ابھی بھی لڑائی جاری ہے جبکہ روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ یوکرین کے ہتھیار ڈالنے تک جنگ جاری رہے گی۔دوسری جانب یوکرین نے عالمی عدالتِ انصاف سے درخواست کی ہے کہ وہ روس کو جنگ سے روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ کرے۔

ساحلی شہر ماریوپول شہر کے 20 ہزار شہری محصور ہیں۔ زیادہ تر لوگ چھ روز سے زیرزمین مقامات میں پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بمباری کے باعث شہر میں پانی اور بجلی بھی منقطع ہے۔روسی صدر پیوٹن نے واضح طور پر کہا ہے کہ جنگ روکنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ یوکرین کارروائیاں روک کر روس کے مطالبات پورے کرے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین نے اقوامِ متحدہ کی اعلی عدالت سے روسی حملے کو روکنے کے لیے ہنگامی فیصلہ جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ یوکرین نے کہا ہے کہ اس پر فوج کشی کا روسی جواز سراسر غلط ہے۔یاد رہے کہ روسی صدر پیوٹن نے یوکرین پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرقی یوکرین میں غنڈہ گردی اور نسل کشی کے شکار عوام کے تحفظ کے لیے روس کی فوجی کارروائی ضروری ہے۔

اِس پر یوکرین نے مقف اختیار کیا ہے کہ روس کی جانب سے کیا گیا نسل کشی کا دعوی غلط تشریح پر مبنی ہے۔یوکرین نے عالمی عدالتِ انصاف میں کیس دائر کیا ہے کہ دونوں ممالک نے 1948 میں نسل کشی سے بچا کے لیے کیے گئے معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں جس کا مقصد معاہدے میں شامل ممالک کے درمیان تنازعات کو حل کرنا ہے۔واضح رہے کہ عام طور پر عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں پر ممالک عمل کرتے ہیں تاہم عالمی عدالت اپنے فیصلوں پر براہ راست عملدرآمد کے وسائل نہیں رکھتی۔