آواز دی تو اپنے ہی اندر ملا مجھے

وہ جو کسی نے کہا ہے کہ رسی جل گئی مگر بل نہیں گیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی بہت پرانی عادت کے مطابق کرونا جیسی آفت ناگہانی کے پھیلنے کا الزام عالمی ادارہ صحت کے سر تھوپ کر اسکی گرانٹ بند کرنے کی دھمکیاں دینی شروع کردیں، اس نے یہ سب کچھ کرونا وائرس کے آگے بے بس ہونے کے بعد اپنی خفت مٹانے کیلئے کیا اور سارا نزلہ عالمی ادارہ صحت پر ڈال دیا
میری خاموشی پہ تھے جو طعنہ زن
شور میں اپنے ہی بہرے ہوگئے
کرونا جیسی خطرناک بیماری کی وباء زمین والوں پر پہلی بار عذاب بن کر نہیں اُتری، ماضی میں بھی اس کے پھیلنے کے شواہد ملتے ہیں لیکن اب کے جو یہ کرۂ ارض کے باسیوں کا امتحان لینے کیلئے آئی تو اس پر قابو پانا یا اسے بڑی تیزی سے پھیلنے سے روکنا اتنا آسان نہیں تھا اور یوں اس کوویڈ 19 کے قاتل جرثومے نے دنیا والوں کے درمیان دہشت اور خوف کی دھاک بٹھا دی، بیٹھے بٹھائے یا چلتے پھرتے لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس وباء کا شکار ہوئے اور ہزاروں کی تعداد میں لقمۂ اجل بن گئے۔ جہاں چلوبھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے تھا، دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا خودسر ڈونلڈ ٹرمپ کو وہاں اپنی کمزوریوں کو چھپانے کیلئے وہ اپنے کئے کی سزا دوسروں کو دینے کی روایت پوری کررہا ہے لیکن آپ لاکھ کہتے رہیں کہ
محتاج اجل کیوں خود اپنی قضا ہوجا
غیرت ہو تو مرنے سے پہلے ہی فنا ہوجا
ٹرمپ نے چلوبھر پانی میں نہیں مرنا، ایسی حالت میں لوگ ذہنی خلفشار کا شکار ہوجاتے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ اس بیماری کا شکار ہونے والوں میں امریکہ سرفہرست ہے، یہی وجہ ہے جس نے امریکی صدر کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا اور وہ اپنا سارا غصہ یا کرونا نامی نزلہ عالمی ادارہ صحت پر گراتے ہوئے، کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے محاورے کو سچ ثابت کرنے لگا۔ عالمی ادارہ صحت کی امداد روکنا بھلے سے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کوئی ایسا کارنامہ یا کارخیر تو نہیں جس کی خبر پاکر دنیا والے تالیاں پیٹنے لگیں۔ عالمی تاریخ کے اس مشکل ترین اور پرآزمائش دور میں عالمی ادارہ صحت کی امداد بند کرنے کا یہ اعلان جہاں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعتراف شکست کے مترادف ہے وہاں اس کی گھبراہٹ یا بوکھلاہٹ کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک
بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے
امریکہ میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں پر ہم پاکستانیوں کو تشویش بھی ہے اور ہم اپنے دل میں متاثرین امریکہ کیساتھ گہری ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن امریکہ کے صدر کا اپنی کمزوریوں کا الزام کسی دوسرے کے سر تھوپ دینے کے انداز کو ان کی پرانی عادت یا روش سمجھ کر یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ
ان کی عادت ہے شرارے مرے دل پر رکھنا
خود ستم ڈھاکے مرا نام ستمگر رکھنا
ان کا بڑا پن یا ان کی عقل مندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ خالق کائنات کی بارگاہ توبہ استغفار پڑھ کر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے اور مالک کن فیکون سے معافی کے طلبگار نظر آتے۔ ہمیں یاد پڑتا ہے کہ امریکہ یا اس کے کسی حواری ملک پر دہشتگردی کا حملہ ہو جاتا تھا تو یار لوگ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کیلئے پاکستان جیسے کمزور اور پرامن ملک کو موردالزام ٹھہرا کر اپنے سارے نزلے کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا کرتے تھے اور اپنی دھن دولت اور لامحدود وسائل کے زعم یا غرور میں اس کی امداد بند کرنے کا عندیہ دیکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے سارے کمزور اور کچکول بدست ملک امریکہ ہی کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں اور اگر اس نے غریب یا ترقی پذیر ملکوں کی امداد روک دی یا ان پر پابندیاں لگا دیں تو نصیب دشمناں ان کا جینا حرام ہوکر رہ جائے گا اور وہ فاقوں سے مر جائیں گے۔ اپنے مفادات کی خاطر ہر ملک میں درآنا اور امداد کے نام پر اس کی آزادی کو خرید لینا امریکہ جیسے ملک کی بہت پرانی روش رہی ہے
رسم الٹی ہے خوب رویوں کی
دوست جن کے بنو، وہ دشمن ہے
ہمیں یاد آرہا ہے کہ امریکہ کے سابق صدر بش کا پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کو ٹیلی فون کرکے یہ کہنا کہ اگر 'تم نے ہمارا کہا نہ مانا تو ہم تمہارے ملک اور قوم کو پتھر کے زمانے کی طرف دھکیل دیں گے' امریکہ کی جانب سے نہ صرف پاکستان کیساتھ بلکہ ہر ترقی پذیر ملک کیساتھ یہ رویہ اس کے غرور اور تکبر کی نشاندہی کرتا ہے، زمین پر اکڑ کر چلنا یا کسی کا حق چھیننا خالق کائنات کو کبھی بھی پسند نہیں رہا، آج امریکہ جیسے ملک کا صدر جس ڈر اور خوف کا شکار ہوکر لاک ڈاؤن کی اذیت سے گزر رہا ہے، کاش اسے احساس ہوتا کہ اس کی شہہ پر بھارت میں پھنسے مظلوم کشمیریوں اور نہتے مسلمانوں پر ظلم وستم کے کس قدر پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں، فلسطین اور کشمیر کے مسلمان نصف صدی سے زائد عرصہ ہوا کس جرم کی پاداش میں لاک ڈاؤن کا شکار ہیں، شام اورلیبیا جیسے مسلمانوں کا کیا قصور ہے، آج صرف امریکنیوں پر اللہ کا عذاب نازل نہیں ہوا اس کے بظاہر مسلمان مگر مسلم کش حواریوں کو بھی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، اصل میں امریکن قیادت اپنے آپ کو سپرپاور کہلوانے کے زعم میں یہ بات کب کا بھول چکا تھا کہ کوئی 'سپریم پاور' بھی موجود ہے جو نیلے گگن کے اس پار رہتے ہوئے بھی مظلوم کے دل میں رہتا ہے
میں وادیٔ حرم تک اسے ڈھونڈنے گیا
آواز دی تو اپنے ہی اندر ملا مجھے