دنیا کیساتھ میں بھی برباد ہو رہا ہوں

زندگی پھولوں کی سیج بھی نہیں ہے اور اسے کانٹوں کا بستر بھی نہیں کہا جاسکتا، بس اس میں اچھے برے دن ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ زندگی کے اچھے برے رنگ ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں اور اس بوقلمونی سے ہی زندگی کا لطف ہے یہی اس کی حقیقت اور یہی اس کا مزاج ہے۔ اگر سب پھول ایک ہی رنگ کے ہوتے تو باغ کی خوبصورتی ماند پڑ جاتی، یہ اچھے برے رنگ ہی زندگی کی علامت ہیں، معاشرے میں اچھے برے لوگ ہی اسے آباد رکھے ہوئے ہیں، اندھیرا نہ ہوتا تو روشنی کو کون پہچان پاتا نیکی اسی لئے نیکی ہے کہ بدی کا وجود ہے، اگر بدی نہ ہوتی تو نیکی کی قدر وقیمت بھی نہ ہوتی اور یہ سب کچھ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، اسی سے کاروبار زندگی رواں دواں ہے۔ اس امتحان گاہ میں سب کو اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے، معاشرے پر نظر ڈالئے تو یہاں عجیب مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، دور نہ جائیے آج ہم کرونا کے عہد میں جی رہے ہیں جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے، آج جو باتیں کی جارہی ہیں اس حوالے سے جو طرزعمل اختیار کیا جارہا ہے چند دن پہلے ہم اس سے مکمل طور پر ناآشنا تھے، ہم نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ چند دنوں بعد حالات ایسے ہوجائیں گے کہ ہم اپنے بچوں کو پیار بھی نہیں کرسکیں گے، اپنے دوستوں سے ملنے ملانے کے سب سلسلے مکمل طور پر موقوف ہوجائیں گے، بہت سے لوگ جو ریٹائرڈ زندگی کے حوالے سے تبصرے کیا کرتے تھے اب اچھی طرح جان گئے ہیں کہ ریٹائرڈ زندگی کیا ہوتی ہے، گھر کیا ہوتا ہے، گھر کی زندگی کیا ہوتی ہے؟ اور اسی طرح کی دوسری بہت سی باتیں! زندگی کے اس تھکا دینے والے سفر میں ہر نیا دن اپنے ساتھ نئے سبق لیکر آتا ہے، ہر روز ہمارے تجربات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، یوں کہئے اچھی بری خبریں ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہیں۔ کرونا کی خبروں نے کتنے ہی واقعات کو پس پشت ڈال دیا ہے، ہمارے یہاں اب بھی ہر روز لوگوں کو اسلحے کے زور پر لوٹا جاتا ہے، دن دیہاڑے گھروں میں گھس کر ڈاکے ڈالے جاتے ہیں، گنجان آباد بازاروں میں دن کی روشنی میں ہزاروں لوگوں کے سامنے اسلحہ تان کر لاکھوں روپے چھین لئے جاتے ہیں:
دنیا کیساتھ میں بھی برباد ہو رہا ہوں
کس کس کو کھو چکا ہوں اور خود کو کھو رہا ہوں
اس سب کچھ کیساتھ ساتھ اچھی خبروں کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے جب کوئی اچھی خبر سننے کو ملے تو یقین کیجئے نیکی پر یقین پختہ ہوجاتا ہے اور دل سے بے اختیار یہ صدا نکلتی ہے کہ دنیا ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی، ان اچھے لوگوں کی وجہ سے ہی دنیا قائم ہے، دوسری طرف اخبارات میں ہر روز ایسی خبریں شائع ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر نیکی سے ایمان اُٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح مختلف ٹی وی چینلز پر ایسی ایسی وارداتوں کے حوالے سے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں کہ انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اب وطن عزیز میں کچھ بھی اچھا نہیں ہو رہا، ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے، لوگ مارے جارہے ہیں، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتیں ہیں، اس دیس میں اب رہنا مشکل ہوگیا ہے! اسی معاشرے میں نیک لوگ بھی موجود ہیں نیکی کے کام بھی ہورہے ہیں لیکن ان کی تشہیر نہیں کی جاتی، بس خاموشی کیساتھ اچھے لوگ نیکی کا فریضہ سرانجام دینے میں مصروف ہیں، اسی لئے نیک کاموں کی خبریں بھی نہیں بنائی جاتیں۔ بیواؤں، مساکین اور غریب لوگوں کی امداد بھی کی جارہی ہے، بے سہارا لڑکیوں کی شادیاں بھی کروائی جارہی ہیں، یہ عجیب معاشرہ ہے یہاں مہمان نوازی کا جذبہ بھی بہت ہے، ایک دوسرے کیساتھ تعاون اور دست گیری کی بے شمار مثالیں بھی موجود ہیں، جب کسی غریب کے گھر میت ہوجائے تو اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کھانا کہاں سے آرہا ہے، قبر کس نے بنائی ہے، باہر گلی میں پڑی ہوئی کرسیاں، چارپائیاں کہاں سے آئی ہیں، یہ سب کچھ اس کے عزیز اور محلے دار کرتے ہیں۔ یہ درمیانے طقے سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہیں جن کے دکھ درد سانجھے ہوتے ہیں، انہیں ایک دوسرے کی تکالیف دکھ درد کا احساس ہوتا ہے، اسے آپ اللہ کریم کا کرم سمجھ لیں کہ ہمارے معاشرے میں لوگوں کے دکھ درد اور تکالیف آپس کے پیار ومحبت کی وجہ سے قابل برداشت ہوجاتے ہیں! آج وبا کے دنوں میں یہی کچھ دیکھنے میں آرہا ہے، اس وقت بہت سی تنظیمیں مستحقین کے دکھ درد بانٹنے میں مصروف ہیں، گھر گھر راشن بھی پہنچایا جارہا ہے اور غریبوں میں نقدی بھی تقسیم کی جارہی ہے، ایسے بہت سے واقعات آپ کے علم میں ہوں گے جہاں گلی محلے کے لوگ مساکین کے دکھ درد بانٹ رہے ہیں یہ خبریں پرنٹ الیکٹرانک میڈیا سے بہت دور ہیں اللہ کے نیک لوگوں کی کمی نہیں ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اشتہاربازی سے بہت دور ہیں، یہ راشن تقسیم کرتے وقت ویڈیو نہیں بناتے! ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو آج کل گھر گھر جاکر اپنے پڑوسیوں کی خبرگیری کررہے ہیں، ان کی ضروریات انہیں گھر کی دہلیز پر پہنچارہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں جنہیں اپنی موت یاد ہے جو جانتے ہیں کہ یہ ہم سب کا امتحان ہے، غریب اور امیر سب کا امتحان ہے، غریب نے صبر کرنا ہے اور امیر نے غریب کی مدد کرنی ہے۔ اللہ کریم کے دئیے ہوئے رزق کو بانٹ کر کھانا ہے، خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کی کمائی ہوئی دولت اس مشکل وقت میں مستحقین کے کام آرہی ہے۔