دل بہ دست آور کہ حج اکبر است

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل، بات ہی ایسی ہے کہ اس پر جو ''مکالمہ'' ان دنوں چل رہا ہے اس پر کسی ایک مکتب فکر کی بھی کھل کر حمایت نہیں کی جاسکتی، کیونکہ وہ جو پشتو میں کہتے ہیں ناکہ ادھر دیکھو تو شیر دکھائی دے رہا ہے اور اُدھر دیکھو تو لاٹھی، دراصل اس کا اصل مزہ تو پشتو ہی کے الفاظ میں زیادہ ہے جو ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے اس ضرب المثل کا لطف دوبالا کر دیتے ہیں یعنی یو خوا گورم ڈانگ دے، بل خوا گورم پڑانگ دے، مقصد کہنے کا یہ ہے کہ کسی ایک کے بھی خلاف نہیں جایا جا سکتا، بہرحال اچھا ہے کہ صدر مملکت نے کسی متفقہ موقف پر پہنچنے کیلئے نہ صرف علماء بلکہ اپوزیشن سے بھی رابطے کا فیصلہ کر کے مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، ساجد میر اور رانا تنویر تک کو فون کالز کر کے موجودہ صورتحال میں ان سے تعاون مانگ لیا ہے، کیونکہ جب سے لاک ڈاؤن ہوا ہے (جس میں اب جزوی سہولیات دیدی گئی ہیں) تب سے مذہبی طبقے اور حکومت کے بیانیوں میںتضاد بلکہ بعدالمشرقین کی سی صورتحال اُبھر رہی ہے اور حال ہی میں جید علمائے کرام نے بعض احتیاطی تدابیر کیساتھ مساجد میں نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ حکومت اب بھی اس کے حق میں نہیں ہے۔ حکومت اس ضمن میں اپنا استدلال دیگر اسلامی ممالک خصوصاً سعودی عرب کے امام کعبہ کے فیصلوں کے تحت مساجد میں باجماعت نمازوں پر پابندی سے ہم آہنگ کرنے پر زور دے رہی ہے کہ نہ صرف مفتی اعظم نے خانہ کعبہ میں طواف کو روکنے، مسجد نبویۖ میں بھی باجماعت نمازوں اور اب تازہ احکامات دیتے ہوئے نمازتراویح، یہاں تک کہ آگے چل کر نماز عید بھی گھروں میں ادا کرنے کی بات کی ہے جبکہ ہمارے ہاں جید علمائے کرام اتنے سخت فیصلوں کیخلاف ہیں اور انہوں نے حکومتی لاک ڈاؤن کو مساجد پر لاگو کرنے سے اتفاق نہیں کیا۔ بہرحال اب دیکھتے ہیں کہ صدرمملکت کی مساعی کیا رنگ لاتی ہے اور پہلی بار ایک اہم قومی معاملے میں جید علمائے کرام اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنماء (جن میں دینی سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں) اس حوالے سے کیا مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے میںکامیاب ہوتے ہیں۔ اگرچہ بقول مولانا فضل الرحمن کے صدر مملکت نے انہیں یاد کرنے میں پونے دو سال لگا دیئے گویا بقول شاعر
اسے ہم یاد آتے ہیں فقط فرصت کے لمحوں میں
مگر یہ بات سچی ہے اسے فرصت نہیں ملتی
اصل مسئلہ جیسا کہ اوپر کی سطور میں عرض کیا ہے دونوں جانب کے متضاد اور متصادم مواقف کی ہے یعنی ایک جانب یہ استدلال ہے کہ اگر خانہ کعبہ میں طواف کو موقوف کیا جا سکتا ہے اگر مسجد نبویۖ میں عام لوگوں کی نمازوں پر پابندی لگائی جاسکتی ہے بلکہ اب تازہ ترین تو یہ بھی ہے کہ تراویح، اعتکاف اور عید کی نماز بھی گھروں میں اداکرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اور حج پر بھی شکوک کے سائے لہرا رہے ہیں تو بعض لوگوں کی رائے میں خانہ کعبہ زیادہ معتبر ہے یا پھر دنیا میں موجود مساجد؟ (جو ہیں تو اللہ ہی کے گھر مگر خانہ کعبہ کی عظمت تو اپنی جگہ) اس لئے ہمارے ہاں بھی مساجد میں موجودہ صورتحال میں نمازیں ادا کرنا لازمی نہیں، نماز گھر پر بھی ادا ہو سکتی ہے وغیرہ وغیرہ اور کچھ سخت گیر قسم کے لوگ اس حوالے سے علمائے کرام پر طنز کے تیر بھی چلا رہے ہیں جو کسی بھی صورت مناسب نہیں ہے کیونکہ جو لوگ امام کعبہ کو فالو کرنا چاہتے ہیں ان سے بھی بصد ادب واحترام یہ عرض کیا جا سکتا ہے کہ اسلام اور پاپائیت میں بہت فرق ہے، عیسائیوں کے مذہبی پیشوا یعنی پاپائے اعظم پوری دنیا میں عیسائی باشندوں کو جو حکم دیں انہیں اس پر عمل کرنا ہوتا ہے دراصل عیسائی دنیا جس کیلنڈر پر عمل کرتی ہے اس کا تعلق سورج کیساتھ ہے اسلئے وہاں موسموں کے تغیر وتبدل کا عیسائی احکامات کیساتھ کوئی تعلق نہیں بنتا، جبکہ اسلام کا سارا نظام چاند کیساتھ وابستہ ہے۔ ہجری کیلنڈر کی بنیاد چاند کے سفر پر رکھی گئی ہے اسلئے آپ دیکھتے ہیں کہ اسلامی مہینوں کا فیصلہ چاند کی رویت سے مشروط ہے، اسی طرح روزوں اور عیدین کا تعین بھی چاند ہی کے ماتحت ہے، یوں سوال کیا جا سکتا ہے کہ جو لوگ آج سعودی عرب کے مفتی اعظم کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہیں وہ پھر روزے اور عیدین کا اہتمام سعودی عرب کی نظام الاوقات کے تحت کرنے پر کیوں متفق نہیں ہوتے اور مقامی اوقات پر نمازیں بھی ادا کرتے ہیں اور رویت ہلال کا فیصلہ مقامی طور پر چاند دیکھنے سے مشروط رکھتے ہیں۔ دوسری سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ کسی وباء یا خطرناک بیماری کا تعین پوری دنیا میں ایک ہی پیمانے پر نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ماضی میں مختلف ممالک میں وباؤں کے پھیلنے کی تاریخ کا جب ہم جائزہ لیتے ہیں تو بعض وبائیں بعض مخصوص ممالک تک محدود رہیں، اگرچہ کورونا لگ بھگ پوری دنیا کا احاطہ کر رہی ہے تاہم اس کی شدت کا معیار ہر جگہ مختلف ہے۔ چین نے اس پر قابو پالیا ہے مگر امریکہ اور دیگر بعض ممالک میں اب بھی یہ خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے جبکہ افریقہ اور جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک میں اس کی وہ شدت نہیں ہے جسے ماہرین ان غریب ممالک کے باشندوں کے امیون سسٹم کیساتھ جوڑ رہے ہیں یعنی ان ملکوں میں بچپن ہی میں بعض بیماریوں کے جو ٹیکے لگوائے جاتے ہیں ان کی وجہ سے یہاں اس کے پھیلنے میں یہی ٹیکے اور دوائیں مزاحم ہیں، اس لئے ہر ملک کو لاک ڈاؤن کے حوالے سے مقامی سطح پر فیصلہ کرنا ہوگا اس لئے دیکھتے ہیں کہ صدر مملکت کی مساعی کس حد تک کامیاب ہوتی ہے اور اس مسئلے پر قومی یکجہتی کی کیا صورت بنتی ہے۔
دل بہ دست آور کہ حج اکبر است
از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر است