ڈسٹ الرجی کیوں ہوتی ہے

ڈسٹ الرجی کیوں ہوتی ہے؟

ڈسٹ الرجی کا عام سبب ہوا میں اڑنے والی مٹی اور ریت کے ذرات ہوتے ہیں پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پر ریت اور مٹی کے ذرات کو کم کرنے کے لیۓ اقدامات کا فقدان نظر آتا ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا انسان ڈسٹ الرجی میں مبتلا نظر اتا ہے۔

ڈسٹ الرجی کیا ہے؟


دھول کے ذرات سے الرجی کی علامات میں وہ عام شامل ہیں جو گھاس کے بخار میں ہوتے ہیں،دھول کے ذرات،ٹک اور مکڑیوں کے قریبی رشتہ دار،خوردبین کے بغیر دیکھنے کے لئے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ دھول کے ذرات لوگوں کے ذریعے بہائے جانے والے جلد کے خلیات کو کھاتے ہیں،اور وہ گرم، مرطوب ماحول میں پروان چڑھتے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں ایسی اشیاء جیسے، بستر، فرنیچر اور قالین دھول کے ذرات کے لئے ایک مثالی ماحول فراہم کرتے ہیں۔ڈسٹ الرجی چھوٹے کیڑوں کے لئے الرجک ردعمل ہے جو عام طور پر گھر کی دھول میں رہتے ہیں۔

ڈسٹ الرجی کی علامات


چھینکنا، بہتی ہوئی ناک، خارش، سرخ یا پانی والی آنکھیں، ناک بند ہونا، خارش ناک، منہ یا گلے کی چھت، پوسٹ ناک ڈرپ، کھانسی وغیرہ ۔ ڈسٹ الرجی ہلکے سے شدید تک ہو سکتی ہے ۔دھول کے ذرات سے الرجی کا ایک ہلکا کیس کبھی کبھار ناک بہنا،آنکھوں میں پانی اور چھینکوں کا سبب بن سکتا ہے۔ شدید حالتوں میں،حالت دائمی ہو سکتی ہے،جس کے نتیجے میں مسلسل چھینکیں، کھانسی، چہرے کا دباؤ، ایکزیما کا بھڑک اُٹھنا یا دمہ کا شدید حملہ ہو سکتا ہے۔

ڈسٹ الرجی کی وجوہات


الرجی اس وقت ہوتی ہے جب آپ کا مدافعتی نظام جگر جیسی کسی چیز پر ردعمل ظاہر کرتا ہے یا،اس معاملے میں،دھول کے ذرات۔ جب آپ کا مدافعتی نظام کسی چیز کو نقصان دہ کے طور پر دیکھتا ہے،تو یہ سوزش کا سبب بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الرجی آپ کو چھینک اور ناک اگر علامات واقعی شدید ہو جائیں یا طویل عرصے تک رہیں تو وہ دمہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ آپ کو ڈسٹ الرجی ہونے کا زیادہ امکان ہے اگر آپ دھول یا دیگر الرجیوں کی خاندانی تاریخ ہو۔اگر آپ کی علامات شدید ہیں جیسے کہ ناک میں شدید بندش، گھرگھراہٹ یا سونے میں دشواری۔اپنے ڈاکٹر کو کال کریں۔اگر گھرگھراہٹ یا سانس کی قلت تیزی سے خراب ہو جائے یا اگر آپ کو کم سے کم سرگرمی کے ساتھ سانس لینے میں تکلیف ہو تو ہنگامی دیکھ بھال حاصل کریں۔بہنے جیسی علامات دیتی ہے،جیسا کہ آپ کو نزلہ کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

مزید دیکھیں :   منکی پاکس کے بڑھتے ہوئے کیسز خطرے کی گھنٹی

ڈسٹ الرجی کی روک تھام


دھول اور دھول کے ذرات سے اپنے رابطے کو محدود کرنا بہترین حکمت عملی ہے۔ اپنے گھر میں دھول کے ذرات سے چھٹکارا پانے کے لئے ان کے رہنے کی عادات کو ذہن میں رکھیں۔ وہ تقریباً 30 یا اس سے زیادہ درجہ حرارت اور 70 سے 80 فیصد تک نمی کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ سرد،خشک جگہوں پر زندہ نہیں رہ سکتے۔ دھول کے ذرات پالتو جانوروں اور انسانوں کی مردہ جلد کھانا پسند کرتے ہیں۔

آپ شاید ایک دن میں اتنی جلد بہاتے ہیں کہ دس لاکھ دھول کے ذرات کو کھلا سکیں۔ قالینوں،بستروں اور فرنیچر میں مردہ جلد کے فلیکس ان کے لئے لذیذ ناشتے کی طرح ہیں ۔دھول اور مردہ جلد سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے،صفائی سونے کے کمرے سے شروع کریں۔ دھول کے ذرات کی بڑی تعداد گدوں،بستروں اور فرنیچر میں جمع ہو سکتی ہے۔ صفائی کرتے وقت بھی ماسک پہنیں۔ اپنے گھر میں دھول کے ذرات کی تعداد کو کم کرنے کے لئے اقدامات کرنے سے،آپ ڈسٹ الرجی پر قابو پا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ائیر کنڈیشن یا ہیمویڈفائیز کا استعمال کرنا چاہیے جس کی وجہ سے ہوا میں سے نمی کا خاتمہ جاتا ہے اس وجہ سے الرجی میں آرام مل سکتا ہے۔

ڈسٹ الرجی کے علاج کے لیۓ گھریلو ٹوٹکے

ڈسٹ الرجی کی تشخیص عام طور پر الرجی کے ماہر ڈاکٹر بلڈ ٹیسٹ کے ذریعے کرتے ہیں ۔ جس کی رپورٹ الرجی کے بارے میں پتہ چل سکتا ہے ۔ اس کے علاج کے لیۓ ڈاکٹر عام طور پر اینٹی الرجی دوائيں دیتے ہیں جب کہ اس کے ساتھ ساتھ کچھ گھریلو ٹوٹکے بھی اس بیماری کے علاج اور اس کی علامات کو کم کرنے میں کافی حد تک مفید ثابت ہو سکتے ہیں جن کے بارے میں ہم آپ کو آج بتائيں گے

سیب کا سرکہ

مزید دیکھیں :   منکی پاکس کے بڑھتے ہوئے کیسز خطرے کی گھنٹی

سیب کا سرکہ کئی حوالوں سے صحت کے لیۓ بہت مفید ہوتا ہے ۔ ڈسٹ الرجی کے لیۓ ایک گلاس نیم گرم پانی لے لیں اور اس میں دو چمچ سیب کے سرکے کے شامل کرلیں ذائقے کو بہتر بنانے کے لیۓ اس میں شہد بھی شامل کی جا سکتی ہے اس کو دن میں دو بار استعمال کریں اس مشروب کو دھیرے دھیرے کر کے پی لیں یہ الرجی کی تکالیف سے آرام پہنچانے میں بہت مفید ثابت ہوتی ہین

گڑ

گڑ کا استعمال سانس کی نالی کی صفائی میں بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اس کو دمے کے مریض استعمال کرتے ہیں تو اس سے ان کی بیماری کی علامات کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے ڈسٹ الرجی کے مریض کسی بھی ڈسٹ والی جگہ سے واپس آنےکے بعد تھوڑا سا گڑ کھا لیں یا چاۓ یا قہوے میں ڈال کر پی لیں تو اس سے ان کی سانس کی نالی کی صفائی ہو جاۓ گی اور ان کو ڈسٹ الرجی کی شکایت نہیں ہوگی۔

شہد
شہد میں ہر بیماری کا علاج موجود ہوتا ہے ایک گلاس پانی میں دو چمچ شہد شامل کر کے اس کو دن مین دو بار پینے سے بھی الرجی میں بہتری آسکتی ہے تاہم ذیابطیس کے مریض شہد کے استعمال سے قبل اپنے ڈاکٹر سے اس حوالے سے لازمی مشورہ کر لیں ۔

ہلدی
ہلدی کا شمار اینٹی بیکٹیریل ، اینٹی انفلامیٹری اور اینی بایوٹک کے طور پر کیا جاتا ہے یہ نہ صرف الرجی کو ختم کرتا ہے بلکہ اس کے اثرات کو اور اس کے سبب ہونےوالی تکالیف کو ختم کرنے میں بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔رات کو سونے سے قبل ایک گلاس نیم گرم دودھ میں آدھا چمچ ہلدی اور ایک چمچ شہد پی لینے سے یہ ڈسٹ الرجی کو ختم کرنے میں اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے اس کا باقاعدگی سے استعمال نہ صرف ڈسٹ الرجی کو ہونے سے روکتا ہے بلکہ اس کی علامات میں بھی مفید ہوتا ہے۔

مزید دیکھیں :   منکی پاکس کے بڑھتے ہوئے کیسز خطرے کی گھنٹی