امیر مسلم ممالک اور او آئی سی کاکردار

بیسویں اور اکیسویں صدی کی مسلمان اُمت سے زیادہ بے حس' بد قسمت اور بے عمل دور شاید ہی مسلمانوں پر کہیں آیا ہو۔ بیسویں صدی کے وسط میں عرب ممالک سعودی عرب' عراق' لیبیا' امارات اور اومان و بحرین میں جس طرح پیٹرول اور اس کی دیگر مصنوعات کے سبب فراوانی آئی' ایسی فارغ البالی وخوشحالی شاید ہی اُمت مسلمہ نے پہلے کبھی دیکھی ہو لیکن آفرین ہو ان عرب ممالک پر کہ اپنی بے بہا اور بے شمار دولت کو جس طرح عیاشیوں، فضول خرچیوں اور آپس میں جنگ وجدل اور بالخصوص عراق، کویت اور پھر عراق، ایران اور اب ایران اور سعودی عرب کے درمیان پراکسی جنگوں میں ضائع وبرباد کی اس کی بھی دنیا میں شاید ہی کہیں مثال ملتی ہو۔
یہی حال ایران کا ہے' رضا شاہ نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کیلئے تھانیدار کا کردار ادا کرتے ہوئے 1978ء میں ڈھائی ہزار سالہ جشن پہلوی شہنشاہیت مناتے ہوئے دنیا بھر کے حکمرانوں اور شخصیات کو مدعو کرکے کروڑوں ڈالر اُڑائے تھے۔ 1979ء کے انقلاب کے بعد ایران نے بجائے اس کے کہ ایک اسلامی فلاحی ریاست قائم کرکے دنیا بھر کے کمزور مسلمان ملکوں کے عوام کی مدد کرے (اس کیلئے انہوں نے قرآنی اصطلاح مستضعفین کا استعمال بھی کیا تھا) انہوں نے شیعہ اسلامی انقلاب کو برآمد کرنے پر اپنی توانائیاں مرکوز کرکے عالم اسلام میں انتشار کے علاوہ سپرپاور کو بھی ''آبیل مجھے مار'' کے مصداق سعودی عرب وغیرہ کو دھمکانا شروع کیا اور سعودی عرب نے بھی بجائے اس کے کہ او آئی سی کی سطح پر مسائل کا حل ڈھونڈتے' سپرپاور کو بھرپور انداز میں دخیل ہونے کے مواقع عطا فرمائے اور اس سارے کھیل میں وہ دولت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان ملکوں کو عطا ہوئی تھی کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے غریب مسلمان بھائیوں بلکہ انسانوں کو بھی کھلاؤ' انسانی خواہشات اور انا وتکبر کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اللہ تعالیٰ ان سارے ملکوں کے حکمرانوں سے قیامت کے دن ضرور پوچھے گا کہ تمہارے پاس جب تیل کے اُبلتے چشموں سے بے انتہا پٹروڈالر پھوٹ رہے تھے تو تم نے اپنے اردگرد اور اڑوس پڑوس کا کیا خیال رکھا؟ جب وہاں کروڑوں لوگ اپنے ہی عیاش، چور اور کرپشن کے عادی حکمرانوں کے سبب ہی سہی' خط غربت سے نیچے زندگیاں گزارنے پر مجبور تھے۔ یقینا ان کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں ہوگا کیونکہ اس کے اثرات اس دنیا میں بھی ان پر مرتب ہونے والے ہیں۔ مشرق وسطیٰکے امیر ممالک امریکہ اور مغرب کے ایسے اسیر کہ وہ بہت اہم فیصلے کرنے میں آزاد نہیں ہیں۔ سعودی عرب' امارات' قطر کے درمیان پابندیوں نے کتنے وسائل ضائع کئے' عراق ولیبیا کا تیل کہیں کا نہیں رہا۔ ایران پر ایسی پابندیاں کہ تیل کے باوجود مشکل ترین حالات سے دوچار ہے کیونکہ وہ ایٹم بم بنانے پر تلاہوا تھا کہ پاکستان نے بنایا ہے تو میں کیوں پیچھے رہوں۔
لیکن جو ہوا سو ہوا اور اس کا خمیازہ کچھ نے بھگت لیا اور کچھ بھگتیں گے۔ اب جو اس وقت وباء سر پر آئی ہے اندازہ کریں کہ مسلمان ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کا حال احوال پوچھنے کی نہ فرصت ہے اور نہ رواداری حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اس وباء کی سن گن لیتے ہی مسلمان ممالک بالخصوص امیر ممالک اپنے وسائل ترکی' پاکستان' ایران' ملائشیائ' انڈونیشیاء جیسے ممالک کے سائنسدانوں' ڈاکٹروںاور انجینئروں کی ٹیموں کے حوالے کرکے ان سے اس وباء کے تدارک کیلئے ضروری اقدامات کرواتے۔
مسلمان ملکوں میں اگر امیر عرب ممالک چاہتے، بڑے بڑے عالمی معیار کے ہسپتالوں کے قیام کیلئے فنڈ فراہم کرتے تو آج یہ افراتفری نہ ہوتی کہ ڈاکٹروںکی حفاظت کیلئے کٹس اور یونیفارم کیلئے بھی دیگر ملکوں کے محتاج ہیں۔ مسلمان ممالک اور اس کے دانشوروں اور فلاسفر اور علماء کی بے سروکاری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مصیبت کی ان گھڑیوں میں بھی او آئی سی کہیں نظر نہیں آتی حالانکہ یہ محشر کی گھڑی ہے۔ لہٰذا او آئی سی کو چاہئے کہ سارے مسلمان ملکوں کی وزراء صحت اور متعلقہ ماہرین کی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے باہمی تعاون کیلئے لائحہ عمل طے کریں۔
اس کے علاوہ وباء کے بعد جو حالات بنتے نظر آرہے ہیں اس کیلئے انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی کساد بازاری کے سبب قحط جیسے حالات کا پیدا ہونا نوشتہ دیوار ہے لہٰذا او آئی سی اور کچھ بھی نہ کرسکے تو کم ازکم اتنا تو کرے کہ اسلامی بنک اور دیگر اداروں کے ذریعے عالم اسلام کے زرعی ممالک کو مالی امداد فراہم کرکے آنے والے برسوں کیلئے زرعی اجناس کی وافر مقدار پیدا کرنے پر لگایا جائے۔
اس کے علاوہ جنگی بنیادوں پر او آئی سی عالم اسلام کے سائنسدانوں' مائیکرو بیالوجسٹ' محققین اور انجینئرز کو مستقبل میں اس قسم کے حالات کیلئے ٹھوس بنیادوں پر مستقل اور پائیدار علمی کام کیلئے ادارے قائم کرے۔ مسلمان امت کیلئے اخوت کی بنیاد پر قرآن وسنت کی تعلیمات کی رہنمائی میں اب بھی عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرنے کے مواقع سامنے ہیں اور امیر ممالک اپنی تجوریوں سے غریب مسلمان ممالک کی مدد کریں کیونکہ حضور اکرمۖ نے فرمایا ہے کہ پانی' گھاس' آگ (ایندھن)' نمک وغیرہ میں اور زمین سے نکلنے والے وسائل میں مسلمان اُمت مشترک ہے۔ یہی وہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے ورنہ خدا کے حضور جواب دینا ہوگا۔