بلاول بھٹو

تحریک عدم اعتماد سے ایک رات پہلے مارشل لا کی دھمکی دی گئی، بلاول بھٹو

اسلام آباد: وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے سابق حکمران کو جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا اور ہم جمہوری انداز میں اپوزیشن سے اٹھ کے حکومتی بینچز پر بیٹھے ہیں، کیا کوئی سوچ سکتا تھا ہم سب اتحادی حکومت میں ایک ساتھ ہونگے، ہم نے کیوں یہ وزن اپنے کندھوں پر لیا ہے؟ یہ حالات اس وقت بنتے ہیں جب ملک و قوم بحران کا سامنا کررہے ہیں ، جنگ اور ایمرجنسی جیسے حالات ہوں تو پھر سیاسی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر ایسا اقدام اٹھاتے ہیں۔بلاول بھٹو نے کہا عمران خان، صدر پاکستان اور اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکر 3 سے 9 اپریل اور آج تک آئین پر حملے کررہے ہیں، ہمارے جمہوری اقدام کا مقابلہ کرنے کی بجائے اس نے جمہوریت پر حملہ کیا، ایک کمیشن بنایا جائے تاکہ جائزہ لیا جائے کہ کون کون آئین کی خلاف ورزی میں شامل تھا۔سابق وزیراعظم سمجھتا ہے کہ وہ کوئی مقدس گائے ہے، ملک میں ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں، عمران خان ملکی اداروں پر حملہ آور ہے جو ناقابل برداشت ہے۔بلاول نے بتایا کہ عمران چاہتا ہے اصلاحات کے بغیر اس کی مرضی کے مطابق انتخابات کروائے جائیں، وہ ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ کسی تیسری قوت کو موقع ملے، یہ حکمت عملی اس کی آج کی نہیں ہے، مجھے عدم اعتماد سے ایک رات پہلے بھی دھمکی دی گئی تھی کہ فورا الیکشن مانیں یا مارشل لا ہوگا، یہ دھمکی ایک وزیر کے ذریعے مجھ تک پہنچائی گئی تاکہ تحریک عدم اعتماد کو ٹھیس پہنچائی جائے۔

مزید دیکھیں :   اوورسیزپاکستانیوں کے ووٹ،الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ کرنے کا فیصلہ