اتاؤلا سو باؤلا

کوئی مانے نہ مانے یہ ہے سچ کہ عمران خان بڑی چتر چالاکی سے اپنی حکومت کی کارکردگی کا ڈلا ؤ پی ڈی ایم خاص طور پر مسلم لیگ ن کے سر منڈھ گئے ہیں اب مسلم لیگ ن کو پی ٹی آئی کی نٹک کھٹ کارکر دگی کا بھی حساب چکنا پڑ رہا ہے ۔ لند ن اجلا س کے بارے میںبڑی سن گن لگائی گئی ہے با ت اتنی سی نظر آرہی ہے کہ مسلم لیگ ن نے جس کھنڈلی جیسی معیشت میں سر دے دیا ہے اس سے کس طور نمٹا جا ئے کیو ں کہ اب عوام کے سامنے ان کو ہی جو اب دہ ہونا ہے ،وزرات عظمیٰ سے کنی کتر ا کر پی پی نے اپنا دامن خوب تر سمیٹ لیا ہے آئندہ اس کو فکر جو اب دہی نہیں ہے اس کی مرکز نگا ہ سندھ اور جنوبی پنجا ب ہی ہے یا کسی حد تک صوبہ کے پی کی چند نشستیں ہیں ۔ تاہم سیا ست کو جو رخ بھی محسو س یہ ہی کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی قصر وزیر اعظم کے غم ہجر میں اتھل پتھل میں لگ گئی ہے ، سربراہ پی ٹی آئی جن کی تاریخ دانی اس صدی کی سب سے انوکھی کہا نی لیے ہو تی ہے انھو ں نے انکشاف کیا ہے کہ عصر حاضر کے میر جعفر اور میر صادق شہباز شریف ہیں ، محولہ دونو ں شخصیات کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ میر جعفر بنگال کے حکمر ان سراج الدولہ اور میر صادق میسور کے ٹیپو سلطان کے سپہ سالا ر تھے ۔ اب یہ تشریح عمر ان خان اپنی تاریخ دانی سے کردیں کہ اگر دور موجو د کے میر صادق و میر جعفر شہبا ز شریف ہیں تو وہ کس کی فوج کے سپہ سالا ر تھے ۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمر ان خان کی ایسی عمر انیا ں گو لطائف کے زمر ے میںلے لی جا تی ہیں مگر پھر بھی شہباز شریف کے حوالے سے جو کہی گئی ہے اس پر ایک لطیفہ یا د آہی گیا ، بھارت کے اردو زبان کے ایک بے بدل شاعر راحت اندوروی مرحوم نے ایک سچا واقعہ سنایا جو کلا سیکل لطیفے کے زمرے میں آتاہے ، موصوف ایک ایسے عظیم شاعر تھے جو جو الفاظ سے اس طرح کھیل جاتے تھے کہ حکمر انوں اور دیگر شرارتیوں کے سر سے گزر جا تے ۔ انھو ں نے بتایا کہ ایک مشاعر ے میں موصوف نے کہہ دیا کہ حکومت چور ہے اگلے روز ان کو تھانے طلب کر لیا گیا اور تھانے دار نے بڑے زعم سے استفسار کیا کہ گزشتہ شب انھو ں نے حکومت کو چور کہا ہے جس پر راحت اندوری نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ رات محفل مشاعر ہ میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت چور ہے مگر انھو ں نے یہ نہیں بتایا کہ کونسی حکومت چور ہے کوریا ، بنگلہ دیش ، نیپا ل ،سری لنکا ، ویٹ نا م انھو ں نے تو کسی کا نا م نہیںلیا ، تھانے دار نے بڑی معنی خیز مسکر اہٹ کے ساتھ کہا اچھاتو ہم کو بے وقوف بھی سمجھتے ہو کہ ہم نہیں جیسے نہیں جا نتے کہ کونسی حکومت چور ہے ، ایسا ہی حال پی ٹی آئی کی سیاست کا ہے ۔ وہ سمجھتی ہے کہ عوام نہیں جانتی کہ عمر ان خان اور ان کے حواریو ں کا رخ سخن کس طرف ہے ، چلیں یہ مان لیتے ہیں کہ وہ شہباز شریف ہی کو میر صادق اور میر جعفر سمجھتے ہیں تو یہ بھی بتا دیں کہ شہباز شریف کس حکمر ان کے سپہ سالا ر ہیں اور کس سے انھو ں نے غداری کی ہے ، یو تھئیو ں کو یہ بارآور کر انے کی ضرورت نہیں کہ منہ سے نکلی بات اور کما ن سے نکلا تیر کبھی واپس نہیںلوٹتا
، یہ درست ہے کہ عشق خرد افروز ہوتا ہے تاہم ہجر اقتدار میں خرد آشوب میں مبتلاء ہو نا قوم و ملک کے لیے نیک شگو ن قرار نہیں پاسکتا ، پوری قوم جا نتی ہے کہ توہیں رسالت کے قانو ن کی وجہ سے بین الا قوامی سازشیوں نے ادھم اور بگا ڑ پن پیدا کررکھا ہے ، دعویٰ کیا جا تا ہے کہ پی ٹی آئی میں یو ں تو سبھی علا مہ ہیں مگر ان میں سنجیدہ محترمہ شیر یں مزاری سب سے آگے ہیں ، محترمہ کی علمی اہلیت مسلمہ ہے اور سنجید ہ حلقو ں میں ان کی قد رو منزلت بھی بدرجہ اتم پائی جا تی ہے ، تاہم محترمہ نے حال ہی میں عالمی اداروں کو رمملکت خداداد پاکستان کے خلا ف شکایت کی ہے کہ پاکستان میں توہین نا مو س شان رسالت کے خلا ف بنائے گئے قانو ن کا غلط استعمال ہو رہا ہے ۔محترمہ سے گذارش ہے کہ بہتر تھاکہ وہ اپنی چھٹی جو اب جر م کی دستاویز بن گئی ڈاکخانے کے سپر د کرنے سے پہلے غور کر لیتیں کہ پاکستا ن کو مجرم قرار دینے سے وطن عزیز کے خلا ف ان کی طر ف سے کیا قدومت ہوگئی ہے ، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مغربی سامراج اور ان کے آلہ کا ر ادارے پاکستان پر شدید دباؤ ڈالے ہوئے ہیں کہ نا مو س شان رسالت قانو ن کو ختم کیا جائے ، چنا ں چہ اس قانون کو وہ پاکستان کے خلا
ف اپنے ہتھیا ر کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں ۔ شریں مزار ی نے ان تما م طاقتوں کو اب جو از پیش کر دیا ہے جو اس قانو ن کی مخالف ہیں کہ مزاری صاحبہ کی شکایت کو بنیا د بنا کر پاکستان کو دباؤ میںلے لیا جائے تاکہ پا کستان نا مو س شان رسالت قانو ن کو ختم کردے ، یہا ں ایک بات یہ کر دی جا ئے تو کچھ غلط نہ ہو گا کہ کافی عرصہ سے ملک کے بعض مذہبی اور سیا سی شخصیا ت پی ٹی آئی پر الزام تراشی نہیںبلکہ الزام لگا تے ہیںکہ پی ٹی آئی کے ایجنڈے میں اسلامی قوانین کو ختم کر نا بھی شامل ہے ، عالمی ادارے کو شریں مزاری کی شکایت سے یہ سچ لگ رہا ہے ۔ عالمی اداروں میں اس شکایتی خط کو اہمیت دی جا رہی ہے کیو ں کہ پہلی مرتبہ پاکستان کی سابق حکمر ان جما عت کی جا نب سے یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ قانون توہین شان رسالت کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے کیا شیریں مزاری وضاحت کریں گی کہ ساڑھے تین سال ان کی پارٹی کی حکومت رہی ہے پھر ان کے پا س انسانی حقوق کا قلمدان بھی تھما دیا گیا تھا تو انھو ں نے اپنے قلمدان سے اس سلسلے میں کیا کارکردگی دکھائی کہ حکومت کے کھسک جا نے کے بعد ان کو احسا س ہورہا ہے کہ قانون توہین رشان رسالت کی آڑ میں انسانی حقوق پا مال کئے جارہے ہیں کیا ان کی پا رٹی کے دور حکمر انی میں ایسا کوئی واقع رونما ہوا ۔جس سے محترمہ کو غم دوراں کی ٹھیس لگی ۔پاکستا ن کے خلا ف ان کی پتر کا ر بننے کے بارے میں یہ گما ن ہو تا ہے کہ انھو ں نے اس فعل کا ارتکا ب اپنی ذمہ داری پر نہیں کیا ہے کیو ں کہ ہنو ز ان کی پارٹی نے پتر کا ری پر کوئی رائے زنی نہیں کی گویا محترمہ کی جانب سے یہ فیضیتا اڑانا پارٹی پالیسی پر مبنی ہے اور پا رٹی کے سربراہ کی آشیر باد حاصل ہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی جو یہ غلغلہ اٹھائے ہوئے ہے کہ وہ کسی بیر ونی طاقت کی مداخلت کو ہر گز قبول نہیں کرتے ، ہم کسی کے غلا م نہیں ہیں ، لیکن یہا ں و ہ خود عالمی طاقتوں کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت دی ہے ۔ اس سے تو پی ٹی آئی کا یہ دعویٰ کہ ہم آزاد قوم ہیں اپنے فیصلے خود کریں گے ۔ ابھی ابھی عمر ان خان کا بیا ن آیا ہے کہ وہ ہر حالت میں پا کستان کو مدینہ کی ریاست بنائیں گے ، کیسے بنائیں گے مسجد نبوی کے واقع پر بھی چپ سادھ رکھی اور اب ان کی پارٹی کی رہنماء نے قانون توہین شان رسالت کو نشانہ بنا ڈالا ہے سچ و جھوٹ کی ہانڈیا ں کب تک کھچ کھچ کریں گی ۔