مشرقیات

معاشرے میں تبدیلی کیسے آئے گی ہر گز نہیں آسکتی سوائے اس کے کہ کوئی انقلاب آئے یا پھر مالک کائنات ہی کوئی انتظام کرے ۔ جائزہ لیاجا ئے تو قدرت کا اس طرح کے حالات میں تبدیلی لانے کا اپنا ایک طریقہ کار رہا ہے جو یہ کہ قدرت پھر ایسے قوم اور معاشرے کو ہی نابود کرتا ہے اور اس کی جگہ نئے لوگ بلکہ کسی نئی قوم کو آگے لاتی ہے ۔ ہمارا معاشرے انحطاط کے جس کنارے کھڑا ہے اس میں قدرت کا فیصلہ کیا آتا ہے اس کا تو گمان بھی نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ قدرت کے فیصلے اور عوامل انسانی سوچ سے کہیں بالا تر اچانک اور مکمل ہوتے ہیں جب تک قدرت کا کوئی فیصلہ نہیں آتا اپنے آپ کو بدلنے اور اپنی اصلاح کی سعی کرتے رہنا چاہئے آج معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کوئی کام سیکھتے اور ڈھنگ سے ہوتا نظر نہیں آتا میرے نزدیک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی حال میں کوئی کامل مثال نہیں البتہ ماضی میں اس کی مثالیں ہی مثالیں ہیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی راہ آسان نہیں ہوتی اس راہ میں تکالیف اور شدائد کا سامنا نہ ہو تو سوچنا چاہئے کہ آیا میں درست راستے پر ہوں بھی کہ نہیں امام احمد بن حنبل سے جب پوچھا گیا کہ بڑے بڑے درباری علماء ایک طرف اور متفقہ طور پر تمہارے مخالف اور درپے تھے کبھی خیال نہیں گزرا کہ آپ حق پر شاید نہ ہوں ورنہ تمہاری اس قدر شدید مخالفت نہ ہوتی انہوں نے کمال کا جملہ ارشاد فرمایا یہ دیکھ کر ہی تو مجھے یقین ہوا کہ میں ہی حق پر ہوں ورنہ میری اس قدر مخالفت ہر گز نہ ہوتی ذرا دیکھیں اپنے ارد گرد اور معاشرے میں جہاں بھی کسی مصلح کو شرپسند شدت پسند اور دہشت گرد گردانا جائے تو سمجھ لیجئے کہ وہ مصلحت پسندی اور دوغلا پن کا شکار نہیں بلکہ حق پر ہے اس لئے تو کیا اپنے اور کیا پرائے اس کے درپے ہیں امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا راستہ آسان راستہ نہیں اس راہ میں مشکلات اور آزمائشیں لازمی آتی ہیں جن کو سہنے کے بعد ہی کامیابی کی منزل سامنے آتی ہے جب کسی گروہ کو دیکھیں کہ پوری دنیا ان کے درپے ہے صرف اس لئے کہ وہ اپنے دین کی سربلندی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کی جدوجہد میں ہیں تو ان کی کمزوری ان کے مشکل حالات اور ان کی کامیابی ناممکن نظر آئے تو یقین رکھو کہ یہی لوگ بالآخر سرخرو ہوں گے ماضی و حال میں بھی اس کی روشن دلیل موجود ہے اسلامی دنیا میں اس طرح کی کئی تحریکیں اورجدوجہدہو رہی ہے کشمیر و فلسطین اس کی واضح مثال ہے۔