جرأت رندانہ کا مظاہرہ کیجئے

ہم ایسے طالبعلم تو عشروں سے لکھ بول چیخ رہے ہیں کہ مذہب و عقیدے عمل کیلئے ہوتے ہیں جولوگ عمل نہیں کرنا چاہتے وہ انہیں ہتھیار بناکر استعمال کرتے ہیں تقریباً نصف صدی بیت گئی قلم مزدوری کرتے صحافت کے کوچے میں بہت کم بلکہ اکا دکا لوگوں کو ہم خیال و ہم آواز پایا اس فہم میں ورنہ تو اچھے بھلے ترقی پسند دوستوں کو ذاتی مفاد اور سیاسی بالادستی کیلئے مذہب کو ہتھیار بناتے استعمال کرتے دیکھا یہی وجہ ہے کہ خوشی ہوئی جب اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے گزشتہ روز یہ کہا کہ مذہب کو سیاست میں استعمال نہیں کرنا چاہیے ماضی میں ایسا ہوتا رہا ہے اس لئے ریاست کو چاہیے کہ سیاسی قیادت کو بٹھائے اور سمجھانے کے ساتھ مل کر پالیسی بنائے کہ مذہب کو سیاست میں نہیں لانا کیونکہ سیاسی تنازعات میں مذہب کا استعمال درست نہیں۔ مسجد نبویۖ کے واقعہ پر فواد چودھری’ قاسم سوری اور شہباز گل کی درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”سیاسی قیادت معاشرے میں صبروتحمل اور برداشت کو رواج دینے کے لئے اپنا کردار ادا کرے ”ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود مذہب کی توہین ہے ”۔ عدالتی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ماضی کے چند افسوسناک واقعات کا ذکر بھی کیا۔ یہ بھی کہا جو مسجد نبویۖ میں ہوا وہ افسوسناک ہے ۔
تلخ ترین حقیقت یہی ہے کہ سیاست میں فوری مقاصد کے حصول اور مخالف فریق کو دیوار سے لگانے کی سوچ نے مذہب کے استعمال کو رواج دیا۔ مذہبی اصطلاحات کا سیاست میں آزادانہ استعمال اب معمول کی بات بن کر رہ گیا ہے۔ دین فطرت اسلام کی بنیادی تعلیمات کی الف ب سے ناواقف جس شخص کا دل کرتا ہے دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرکے اس کے جان و مال کو خطرات میں ڈال دیتا ہے۔ اسے بدقسمتی کہہ لیجئے’ معاملہ صرف سیاست میں مذہب کے استعمال کا نہیں بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مذموم مقاصد کی پردہ پوشی اور بالادستی کے حصول کے لئے بھی مذہب کا استعمال عام ہوگیا ہے۔ خیبر پختونخوا کی ایک یونیورسٹی میں چند برس قبل کرپشن اور کچھ دوسرے معاملات کو بے نقاب کرنے پر ایک طالب علم مشال خان پر سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ توہین مذہب کا الزام لگاکر اسے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں درندگی کے ساتھ قتل کروادیا گیا اس معاملے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ سفاکیت کے اس مظاہرے میں مذہبی سیاسی جماعتوں اور بعض ترقی پسند سیاسی جماعتوں کے حامی ایک پیج پر تھے۔ شہید طالب علم کا خاندان آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ آزادانہ تحقیقات نہیں ہونے دی گئیں جس سے بعض حقیقی کردار قانون کی گرفت میں آنے سے بچ گئے۔ کچھ عرصہ قبل تساہل برتنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے ایک غیر ملکی(سری لنکن شہری)کو جو سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں پروڈکشن منیجر تھا’ ملازمین نے توہین مذہب کا الزام لگاکر بیدردی سے قتل کردیا۔ مشال خان اور غیرملکی شہری کے قتل میں ملوث افراد کو سزائیں ضرور ہوئیں مگر سماجی طور پر اس روش پر گامزن لوگوں کی جس طرح حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے تھی وہ نہیں ہوپائی۔ اس وقت بھی ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں توہین مذہب کے سینکڑوں مقدمات اور اپیلیں زیرسماعت ہیں۔ مشال خان اور غیرملکی شہری کے معاملے پر چونکہ مقامی اور ملکی رائے عامہ نے موثر احتجاج کیا تھا اس لئے فوری کارروائی اور عدالتی عمل مکمل ہوا جبکہ دوسرے بہت سارے مقدمات میں برسہا برس سے لوگ انصاف کے منتظر ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔ کہیں خوف کے مارے صفائی کے گواہ اور مبینہ ملزم کے وکلا پیش نہیں ہوتے اور کہیں اپیلوں کی سماعت سے گریز کا رویہ ہے۔ مجموعی طور پر یہ صورتحال خطرناک ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں گزشتہ روز تحریک انصاف کے رہنمائوں کے خلاف درج توہین مذہب کے مقدمہ میں درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سال 2018 کے بعض واقعات اور سیاسی مفادات کے حصول کے لئے مذہب کے استعمال سے پیدا شدہ صورتحال کا ذکر بھی کیا۔ تلخ ترین حقیقت یہی ہے کہ اس ملک میں مذہب کو سیاسی ہتھیار بنانے کی سوچ تقریباً ہر شخص کے دل و دماغ میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔ 2018 کے عام انتخابات سے قبل اور انتخابی عمل کے دوران (ن)لیگ کے خلاف توہین ختم نبوتۖ کے الزامات عائد کرنے میں تحریک انصاف پیش پیش تھی اس کے نتیجے میں کچھ ناخوشگوار واقعات بھی پیش آئے تھے بدقسمتی سے آج تحریک انصاف کے خلاف توہین مذہب کے مقدمات درج کرانے والوں کی سیاسی ہمدردیاں(ن)لیگ کے ساتھ ہیں یہ صورتحال افسوسناک ہے۔ سیاسی جماعتوں کو اس بات کا احساس ہی نہیں کہ اگر توہین مذہب کا ہتھیار آج ایک فریق دوسرے کے خلاف استعمال کرتا ہے تو موقع ملنے پر دوسرا فریق بھی کسر نہیں چھوڑتا۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بھی ملک میں ایک بڑا طبقہ مذہب کے سیاسی استعمال اور فتویٰ گیری کا ناقد ہے۔ البتہ ریاست، حکومت’ عدالتوں اور سیاسی جماعتوں سمیت سبھی کو یہ امر بہرطور مدنظر رکھنا ہوگا کہ 1973 کے دستور میں دی گئی شہری آزادیوں اور مساوی حقوق کی پامالی کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار شہری و سماجی و مذہبی حقوق سے متصادم تنظیم سازی اور پروپیگنڈے پر قدغن کا نہ ہونا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مل بیٹھیں اور ہر گزرنے والے دن کے ساتھ ابتر ہوتی صورتحال کا مداوا کرنے کے لئے حکمت عملی وضع کریں۔ اس ضمن میں دو باتیں اہم ہیں اولاً یہ کہ کسی بھی قسم کی مذہبی اصلاحات کو سیاست کا رزق نہ بنایا جائے اور ثانیاً یہ کہ مخالف سیاسی قوت کو سبق چکھانے کیلئے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھارنا جرم قرار دیا جائے ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریاست کو جس ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا ہے اس سے صرفِ نظر نہیں کیا جانا چاہیے۔ افسوس کے ساتھ یہ عرض کرنا پڑرہاہے کہ بسا اوقات مذہبی عالم اور دانشور کی شہرت رکھنے والے حضرات بھی اپنے مخالف کو رگیدنے کے لئے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھارتے ہیں۔ چند سال قبل سینیٹر اور عالم دین پروفیسر ساجد میر نے ایک ریاستی شخصیت پر بھونڈا مذہبی الزام عائد کرکے تنازع کو ہوا دی تھی اسی طرح جے یو آئی ایف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن گزشتہ چند برسوں سے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف لوگوں کے مذہبی جذبات ابھارنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ستم بالائے ستم خود عمران خان بھی اپنی سیاست کو مذہب کا سہارا ہی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ روز جہلم میں منعقدہ پی ٹی آئی کے جلسہ میں سابق وزیر مملکت علی محمد خان کی تقریر کا ایک حصہ بنیادی اسلامی تعلیمات سے متصادم تھا۔ مندرجہ بالا شخصیات ہوں یا دوسرے سیاسی اکابرین’ان سب کو تحمل کے ساتھ یہ سوچنا چاہیے کہ انتہا پسندی کو فروغ دے کر وہ وقتی مفادات تو حاصل کرلیں گے لیکن اس کا خمیازہ آج کا پاکستان اور مستقبل کی نسلیں بھگتیں گی۔ بارِدیگر یہ عرض کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ سیاسی جماعتوں کو اس نازک صورتحال کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے قبل اس کے کہ معاملات مزید بگڑیں بہتر یہی ہوگا کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور کوئی ضابطہ اخلاق وضع کرلیں تاکہ ان انہونیوں سے بچا جاسکے جو تیزی سے ہماری طرف بڑھتی چلی آرہی ہیں ۔ کاش ہمارے اہل سیاست اس حساس معاملے پر حساسیت کا مظاہرہ کریں اے کاش۔