سازش کی شکایت اور شکوہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب مجھے سازش کا پتہ ہوا جو روک سکتے تھے ان سے روکنے کو کہا لیکن افسوس کہ ہم کچھ نہیں کرسکے۔دریں اثناء صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس عمرعطابندیال کے نام خط میں زور دیا ہے کہ حکومت تبدیلی کی سازش کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دے دیں۔صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چیف جسٹس کو خط پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے دو ہفتے پہلے لکھے گئے اسی طرح کے ایک خط کے بعدلکھا گیا ہے۔ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرمملکت نے خط میں کہا کہ مبینہ حکومت تبدیلی کی سازش کی تحقیقات اور سماعت کے لئے عدالتی کمیشن کی سربراہی ترجیحی طور پر چیف جسٹس کو خود کرنی چاہیے۔صدر مملکت کی جانب سے لکھے گئے خط پر اس استفسار کی گنجائش موجود ہے کہ جس وقت سابق حکومت اس پوزیشن میں تھی اس وقت اس کی ضرورت کیوں محسوس نہ کی گئی بہرحال اس سے قطع نظر سابق وزیر اعظم کااس حوالے سے تازہ انکشاف چشم کشا ہے کہ جو مبینہ سازش کو روک سکتے تھے ان سے ایسا کرنے کو کہا گیا لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا سابق وزیر اعظم کے تازہ بیان کے بعد جو منظر نامہ سامنے آتا ہے وہ اس منظر نامے سے یکسر مختلف ہے جو اب تک پیش نظر رہا ہے سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ قومی سلامتی کونسل کے دو اجلاس جن میں سے ایک کی صدارت خود عمران خان نے کی اس اجلاس میں اس معاملے پر کیا بحث ہو ئی ہو گی اس کا تو اندازہ ممکن نہیں البتہ تحریک انصاف کے قائد نے جس امر کا انکشاف اب کیا ہے محولہ اجلاس میں انہوں نے اس حوالے سے یقینا بات کی ہو گی بہرحال اس معاملے کو اب سرد خانے میں ڈالنے کی بجائے قوم کو مطمئن کرنے کی ضرورت ہے کہ سابق وزیر اعظم ایک تسلسل کے ساتھ جو دعویٰ کرتے آرہے ہیں اور اس ضمن میں جو تازہ ترین بیان دیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے اور اس ضمن میں جن عناصر کی ذمہ داری بنتی تھی ان کا کردار و عمل کیا تھاتاکہ ابہام کی صورت سے قوم نکل آئے اور اس مبینہ سازش اور اس کے نتیجے میں حکومت کی تبدیلی اور نئے وجود میں آنے والی حکومت کے حوالے سے قوم کا ذہن صاف ہو۔
سابق وزراء پربدعنوانی کا ا لزام
پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت کے ایک درجن سے زائد وفاقی وزراء کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ کا انکشاف کیا گیا ہے ا لیکشن کمیشن کی جانب سے اثاثوں کے معاملات پر تین سابق وزراء کو نوٹس بھی ملے ہیںوثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ جن وزراء کے اثاثوں میں غیر معمولی اضافہ ہونے کے حوالے سے نجی ٹی وی کی رپورٹ کس حد تک ثقہ ہے لیکن اگر ماضی میں دیکھا جائے تو اخبار نویسوں کی تحقیقاتی رپورٹوں پر مبنی اشاعتیں نہ صرف درست ثابت ہوئی ہیں بلکہ حقائق سے ان کی تصدیق بھی ہوئی ہے اور اس کے نتیجے میں عدالتوں میں مقدمات قائم بھی ہوئے اس سے قطع نظر کہ نجی ٹی وی کی رپورٹ کس حد تک درست ہے یا کس حد تک غلط جن ‘ جن سابق وزراء کے اثاثوں میں اضافے کے باقاعدہ اعداد و شمار دے کر دعویٰ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی سوشل میڈیا پر اس کی متعلقہ وزراء کی تصاویر لگا کر ان کی آمدن میں اضافے کا فیصد بھی نکال کر بتایا جارہا ہے یہ سارا معاملہ تحریک انصاف کی شفافیت کی دعویدار قیادت کے لئے خوشگوار امر نہیں اور یہ حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ جن جن وزراء پر الزامات لگائے گئے ہیں وہ اولین فرصت میں عدالت میں ان الزامات کو چیلنج کریں بصورت دیگر ان الزامات کومبنی برحقیقت ہونے کے تاثر کی تردید موثر نہ ہوگی۔توقع کی جانی چاہئے کہ جن جن وزراء کا دامن صاف رہا ہے اور ان کی جانب سے کوئی بے قاعدگی اور بدعنوانی کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہے وہ اس حوالے سے جلد اپنی پوزیشن واضح کرنے کے ساتھ الزام لگانے والوں کو عدالت لے جا کر غلط ثابت کریں گے اور اس الزام سے ان کی جماعت کو جو دھچکہ لگنے کا امکان ہے اس کا بروقت اقدامات کے ذریعے امکان ختم کرنے کی ذمہ داری پوری کی جائے گی۔