قصہ خوانی بازار

قصہ خوانی بازار میں قصہ گوئی کا رواج دم توڑ چکا

انیلہ محمود –

کسی بھی خطے،قوم یا ملک کی تہذیب و ثقافت اس کی تاریخی ترجمان ہوتی ہے۔پاکستان ایک ایسا خطہ سر زمین ہے جو کہ کئی تہذیبوں کا تمدن رہا ہے۔پاکستان کے تمام صوبے اپنی ثقافت روایات و رسوم کے حوالے سے منفرد و زرخیز ہیں۔صوبہ خیبر پختونخوا کا دارالحکومت پشاور تاریخ،تہذیب وتمدن،جغرافیہ اور ثقافت کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کاحامل شہر تصور کیا جاتا ہے۔ یہ شہر درہ خیبر کی مشرقی حد کے نزدیک واقع ہے اور برصغیر میں داخل ہونے والوں کے لیے ایک قدرتی پڑائو کی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ بادشاہ، فوجیں، حملہ آور اور تاجر سب پشاور ہی کے ذریعے برصغیر میں داخل ہوئے اور ان سب سے جڑا تاریخی قصہ خوانی بازار اپنی شناخت آپ ہے۔ قدیم و جدید روایات کا حسین امتزاج یہ بازار شہر کا ایک گنجان آباد اور بارونق علاقہ ہے۔

قصہ خوانی بازار تاریخی لحاظ سے ادبی اور سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بازار کا نام دراصل یہاں کے روایتی قہوہ خانوں، تکہ کباب،چپلی کباب اور خشک میوہ جات کی دکانوں کے ساتھ جڑی اس تجارت سے منسوب ہے جہاں پہلے پہل دور دراز سے آئے تاجر یہاں کے مہمان خانوں میں قیام کرتے اور اپنے اپنے ملکوں کے حالات قصہ کی شکل میں بیان کرتے۔

مزید دیکھیں :   سکریچ کارڈکے ذریعے بیلنس پر5روپے اضافی کٹیں گے

یہاں کے قصہ گو پورے علاقہ میں مشہور تھے۔ یہاں تاجروں کے علاوہ قافلوں کا بھی پڑائو ہوتا اور فوجی مہمات کا آغاز اور پھر اختتام جو تفصیلاََہر مہم کے احوال کے ساتھ یہیں ہوا کرتا تھا۔یہاں کے پیشہ ور قصہ گو بہت مشہور تھے اور یہ تاجروں، مسافروں اور فوجیوں سے سنے قصوں کو نہایت خوبی سے بیان کیا کرتے تھے۔ ایک وقت میں اس بازار کو غیر تحریر شدہ تاریخ کا مرکز کہا جاتا تھا۔ خیبر پختونخوا کے گزئٹیر کے سیاح لوئل تھامس اور پشاور کے برطانوی کمشنر ہربرٹ ایڈورڈز نے اپنی تصانیف میں اس بازار کو وسط ایشیا کا پکاڈلی قرار دیا ہے۔

گو اب قصہ گوئی کا رواج دم توڑ چکا ہے مگر اس بازار کا روایتی ماحول پہلے جیسا ہی ہے۔ یہاں قبائلی تاجر قہوہ پیتے ہوئے مقامی تاجروں سے گھنٹوں لین دین پر بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں اور یہاں اب بھی صوبہ کے دور دراز حصوں سے تاجر اور عام لوگ اس بازار میں سیاحت اور خریداری کے لیے آتے ہیں۔ مختلف قبائلی اپنے روایتی لباس میں یہاں چہل قدمی کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں جو اس بازار کے قدیم دور کی یاد دلاتے ہیں۔
یہاں پر بانس، مٹھائیوں، فالودہ اور کانسی کے برتنوں کا بڑے پیمانے پر کاروبار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں اردو، پشتو اور فارسی کتب کی چھپائی کا کام بھی کیا جاتا ہے۔

مزید دیکھیں :   پیٹرولیم مصنوعات پر 50 روپے فی لیٹر لیوی عائد کرنے کی منظوری

یہ بازار مزاحمت کی ایک علامت بھی سمجھا جاتا ہے 1930 میں برطانوی دور کے دوران تحریک آزادی ہندوستان کے دوران جلوس پر فائرنگ کے واقعہ نے اس بازار کی اہمیت کو تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔ انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک قصہ خوانی بازار کے شہدا کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق انگریز کے خلاف پر امن احتجاج کے واقعہ میں 20 نہتے افراد شہید ہوئے جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق 400 افراد شہید ہوئے تھے ۔اس واقعہ کی یادگار دومیناروں کی صورت میں آج بھی بازار میں ایستادہ ہے۔

قصہ خوانی بازار اپنی قصہ گوئی ہی نہیں بلکہ اپنے ثقافتی ورثہ کی بنا پر بھی مشہور و معروف تصور کیا جاتا ہے۔ بھارت کی فلمی دنیا کے شہرہ آفاق ستارے جنہوں نے فلم انڈسٹری پر اپنے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ،ان میںنامور اداکار راج کپور ، دلیپ کمار اورشاہ رخ خان کا تعلق پشاور کے قصہ خوانی بازار سے ہی ہے۔ ان کے آبائی مکانات اب بھی یہاں سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہیں۔دلیپ کمار مختلف مواقع پر پاکستان کے دورے اور پشاور میں اپنے آبائی گھر سے وابستہ بچپن کی خوشگوار یادوں کا تذکرہ بہت جذباتی اور پر مسرت انداز سے کیا کرتے تھے۔

مزید دیکھیں :   ریاض مزاری نے ڈاکوئوں کیلئے بجٹ مانگ لیا