قادیانیوں کی ماورائے آئین سرگرمیوںکیخلاف قرارداد جمع

جماعت اسلامی کے ممبران صوبائی اسمبلی نے قادیانوں کی ماورائے آئین سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے قرارداد صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی۔ جمعرات کے روز خیبر پختونخوااسمبلی سیکرٹریٹ میں جماعت اسلامی کے ممبران صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان ، حمیرا خاتون اور حاجی سراج الدین خان نے ایک مشترکہ قرارداد میں موقف اپنایا ہے کہ دستور پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم قراردیا گیا ہے اور ان کی پاکستان میں مسلمان کی حیثیت سے دعوت وتبلیغ اور اس مقصد کے لئے مسلمانوں کی مساجد کی طرز پر مسجد بنانے سمیت خود کو مسلمان کہلانے پر پابندی عائد ہے البتہ قادیانی فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ پاکستان میں دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے اقلیتوں کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں لیکن گزشتہ کئی مہینوں سے تسلسل کے ساتھ سوشل میڈیا پر پیغامات وائرل ہو رہے ہیں کہ پشاور کے پوش علاقوں یونیورسٹی ٹا ئون اور حیات آباد میں قادیانی اپنی دعوتی سرگرمیاں کھلے عام کر رہے ہیں اس سلسلے میں مرکزی ختم بنوت کے ذمہ داران اور پشاور کی جید علمائے کرام نے تحقیقات کی ہیں اور انہوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ یونیورسٹی ٹا ئون اورحیات آباد پشاور میں مقیم قادیانی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے گھروں اور بعض پارکوں میں قادیانیت کا پرچار کر رہے ہیں ۔چونکہ یہ ایک انتہائی سنجیدہ دینی اور حرمت رسولۖ پر مبنی ایسامعاملہ ہے جو ہر مسلمان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے کیونکہ نبی کریمۖ کی ناموس اور عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ رونما ہونے کا انتظار کئے بغیر صوبائی حکومت اور پشاور انتظامیہ قادیانیوں کو لگام دے اور انہیں آئین پاکستان میں دیئے گئے حق کیمطابق اقلیتی برادری کی طرح زندگی گزارنے کا پابند بنایا جائے۔

مزید دیکھیں :   شاہ محمود قریشی کی آصف زرداری سے ملاقات کی تردید